30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُقَرَّبین کا خوفِ خدا
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے جو کلام فرمایا جس کا ذِکْر قرآن پاک میں بھی ہے یہ نہ تو دُنْیَوی رنج ومصیبت کی وجہ سے تھا اور نہ اس میں مرنے کی دُعا ہے کیونکہ دُعا کا تعلق زمانۂ مستقبل سے ہوتا ہے جبکہ آپ کا یہ کلام زمانۂ ماضی کا ہے ( 1 ) نیز آپ نے یہ کلمات اس لیے کہے کہ جب آپ نَومَوْلُود کو لے کر لوگوں کے سامنے جائیں گی تو لوگ آپ پر تہمت لگائیں گے اور یوں وہ آپ کے سبب گناہ میں مبتلا ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کریں گے۔ یہ بات آپ کے دل پر شاقّ گزری کہ میرے سبب سے لوگ گناہ میں پڑیں۔ ( 2 ) صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقَرَّب بندے جب لوگوں کے کسی آزمائش میں مبتلا ہونے کا سبب بنتے ہیں اگرچہ اس میں ان کا کوئی قصد اور اِرَادہ نہیں ہوتا اور نہ اس وجہ سے ان پر کوئی حکم لگتا ہے مگر پھر بھی وہ خوف زدہ ہوتے ہیں کہ کہیں انہیں بھی گناہ نہ پہنچے۔ حضرت مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کا مذکورہ کلام اسی وجہ سے تھا۔ ( 3 )
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ ہے اللہ والوں کی شان ...!! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رَحْمَت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
[1] جیسا کہ رئیس المتکلمین حضرت علّامہ مفتی نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ (یہ) دُعا بہ ہلاک نہیں بلکہ آرزو اور تمنا زمانۂ ماضی کی ہے۔ [احسن الوعاء، فصل ہفتم، ص۱۸۲]
[2] الهداية الی بلوغ النهاية،پ١٦، مريم تحت الآية: ٢٣، ص٤٥٢١، مختصرًا.قرطبى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٣، ٦ / ١٥، بتغير.
[3] اتحاف السادة، كتاب الخوف و الرجاء، بيان الدواء الذی به الخ، ١١ / ٤٥٥.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع