30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان کرتے ہوئے والِدِ اعلیٰ حضرت، رئیس المتکلمین حضرت علّامہ مفتی نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ (اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا) عائشہ صِدِّیقہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ) پر جب بہتان اُٹھا خود گواہی دی اگر چاہتا تو ایک ایک دَرَخْت اور پتھر ان کی طہارت پر گواہی دیتا مگر منظور یہ تھا کہ اپنے پیارے کی بی بی کی طہارت پر خود گواہی دوں، ہر شخص اس کی رضا چاہتا ہے اور وہ (حضرت) مُحَمَّد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی رضا چاہتا ہے۔ ( 1 )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک اہم مدنی پھول
یہاں یہ بات واضح رہے کہ کسی دُنْیَوِی رنج ومصیبت سے گھبرا کر اپنے مرنے کی دُعا کرنے سے دینِ اسلام نے منع فرمایا ہے۔ حُضُور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ رنج کے سبب سے موت کی آرزو نہ کرو اگر ناچار ہو جاؤ تو کہو: ” اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِیْ وَتَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِیْ خدایا! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور مجھے وفات دے جس وَقْت موت میرے حق میں بہتر ہو۔ ( 2 )
بہارِ شریعت میں ہے: مرنے کی آرزو کرنا اور اس کی دُعا مانگنا مکروہ ہے جبکہ کسی دُنْیَوی تکلیف کی وجہ سے ہو مثلاً تنگی سے بسر اوقات ہوتی ہے یا دشمن کا اندیشہ ہے، مال جانے کا خوف ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ لوگوں کی حالتیں خراب ہو گئیں، معصیت (گناہ) میں مبتلا ہیں اسے بھی اندیشہ ہے کہ گناہ میں پڑ جائے گا تو آرزوئے موت مکروہ نہیں۔ ( 3 )
[1] سرور القلوب، خصائصِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم، ص۱۹۸۔
[2] بخاری، كتاب المرضٰی، باب تمنی المريض الموت،ص١٤٣٧، الحديث: ٥٦٧١.
[3] بہارِ شریعت،حصہ ۱۶، ۳ / ۶۵۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع