30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس سے مایوس ہو جائے۔ ( 1 )
سُوال کرنے کی مُمَانَعَت
بیان کیے گئے حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا کے واقعےمیں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جب تک آدمی میں تھوڑی سی طاقت بھی کام کرنے کی مَوْجود ہے جس سے وہ بقدرِ ضرورت رَوزِی کما سکے تب تک اسے سُوال کرنے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں۔ ( 2 ) دیکھئے! حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا کو اس پریشان کُن صورتِ حال اور تکلیف دِہ حالت میں بھی دَرَخْت کی جڑ پکڑ کر ہِلانے کے لیے کہا گیا اور طاقت بھر کام کا مکلّف بنایا گیا حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہتا تو بغیر کسی مشقّت کے ہی رِزْق فراہَم کر دیتا۔ اس سے اُن لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئے جو خُوب صحّت منْد وتوانا اور محنت ومشقت پر قادِر ہونے کے باوُجود بھیک مانگتے ہیں، وہ ہاتھ جن کے ساتھ کام کاج کر کے اپنی اور بال بچوں کی کفالت کرنی چاہئے انہیں لوگوں کے سامنے سُوال کرنے کے لیے دراز کرتے ہیں حالانکہ انہیں کوئی شرعی عذر نہیں ہوتا نہ کوئی ایسی مجبوری ہوتی ہے جو انہیں دستِ سُوال دراز کرنے پر مجبور کر دے بلکہ مال جمع کرنے کی ہوس اور محنت مشقت سے جی چُرانا ہی انہیں اس کام پر لگاتا ہے۔ یاد رکھئے! ”بطورِ پیشہ بھیک مانگنا حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔ جو بِلااجازتِ شرعی بھیک مانگتا ہے وہ جہنّم کی آگ اپنے لیے طَلَب کرتا ہے اور اس طرح جتنی رقم زیادہ حاصِل کرے گا اتنا ہی نارِ جہنّم کا زیادہ حق دار ہو گا۔“ ( 3 ) آئیے! اس ضِمْن میں چار فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُلَاحظہ کیجئے:
[1] التعريفات، حرف التاء، ص١٣٣.
[2] تفسير الماتريدى،پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٥، ٧ / ١٣١.
[3] پُراَسرار بھکاری،ص۱۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع