30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَزَّ وَجَلَّ مجھے میرا رِزْق نہ دے گا میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ ایک ہفتہ گزر گیا اور رِزْق نہ آیا، جب مرنے کے قریب ہو گیا تو بارگاہِ الٰہی میں عرض گُزَار ہوا: اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ ! تُو نے مجھے پیدا کیا ہے لہٰذا میری تقدیر میں لکھا ہوا رِزْق مجھے عطا کر دے ورنہ میری روح قبض کر لے۔ غیب سے آواز آئی: میری عزّت وجلال کی قسم! میں تجھے رِزْق نہیں دوں گا یہاں تک کہ تو آبادی میں جائے اور لوگوں کے درمیان بیٹھے۔ زاہِد آبادی میں گیا اور بیٹھ گیا، کوئی کھانا لے کر آیا تو کوئی پانی لایا، زاہِد نے خوب کھایا اور پیا لیکن دل میں شک پیدا ہو گیا تو غیب سے آواز آئی: کیا تو اپنے دنیاوِی زُہد سے میرا طریقہ بدل دینا چاہتا ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ اپنے دستِ قدرت سے لوگوں کو رِزْق دینے کے بجائے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں سے لوگوں تک رِزْق پہنچاؤں۔ ( 1 )
تَوَکُّل کیا ہے؟
سیِّدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ”تَوَکُّل قَلْب سے طرحِ اسباب ہے نہ کہ عمل میں ترکِ اسباب۔“ ( 2 ) یعنی اسباب پر عمل ترک کرنے کا نام تَوَکُّل نہیں بلکہ تَوَکُّل یہ ہے کہ دل سے اسباب پر اِعْتماد اور بھروسا نِکال باہر کرے، بھروسا صِرف اسی مسبّبِ حقیقی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات پر ہی کرے جو اُن اسباب کا اور ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے۔
اس لیے تَوَکُّل کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: ” التَّوَكُّلُ هُوَ الثِّقَةُ بِمَا عِنْدَ اللّٰهِ وَالْيَأْسُ عَمَّا فِی اَيْدِی النَّاسِ یعنی تَوَکُّل یہ ہے کہ بندہ کامل طور پر خزانۂ قدرت پر بھروسا کرے اور جو
[1] احياء علوم الدين، كتاب التوحيد و التوكل، بيان اعمال المتوكلين، ٤ / ٣٢٥.
[2] ذیل المدعاء لاحسن الوعاء، فصلِ دہم، ص۲۸۸.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع