30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَوَكَّلْ عَلَى الرَّحْمٰنِ فِیْ كُلِّ حَاجَةٍ
وَلَا تَتْرُكَنَّ الْجُهْدَ فِیْ كَثْرَةِ التَّعَب ( 1 )
یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا سے فرمایا کہ کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہِلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی حالانکہ اگر وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو ان کے ہِلائے بغیر جڑ اپنے آپ ہی ان کی طرف جھک جاتی (لیکن ایسانہیں ہوا یہ اس لیے کہ دنیا عالَمِ اسباب ہے اور یہاں) ہر کام کا کوئی نہ کوئی سبب مقرر ہے لہٰذا تم ہر حاجت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہی بھروسا کرو اور سخت تھکے ہوئے ہونے کے باوجود کوشش کرنا مت چھوڑو۔
تَوَکُّل ترکِ اسباب کا نام نہیں
یاد رہے کہ تَوَکُّل اسباب کے ترک کا نام نہیں یعنی یہ نہیں کہ آدمی اسباب سے تَعَلُّق توڑ کر بیٹھا رہے اور کہے: اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ مجھے بغیر کوشش بھی رَوزی دے گا۔ بلاشبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادِرِ مطلق ہے، کوئی شے اس کی قدرت سے باہَر نہیں اور اس کی قدرت کسی سبب اور علَّت کی بھی محتاج نہیں لیکن اس نے خود ہی اپنی حکمت کے مُطَابِق اس دنیا کو عالَمِ اسباب بنایا ہے جہاں ہر شے کسی نہ کسی سبب سے مُتَعَلِّق ہے اس لیے عُلَما فرماتے ہیں کہ ”عالَمِ اسباب میں رہ کر ترکِ اسباب گویا اِبْطَالِ حکمتِ الٰہیہ ہے۔“ ( 2 ) (یعنی چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی حکمت کے مطابق دنیا میں ہر شے کو کسی نہ کسی سبب سے مُتَعَلِّق فرمایا ہوا ہے لہٰذا دنیا میں رہتے ہوئے اسباب سے منہ موڑنا اور انہیں چھوڑ دینا گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حکمت کو باطِل کرنا ہے۔) مَروِی ہے کہ ایک زاہِد آبادی سے کِنارہ کشی کر کے پہاڑ کے دامَن میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا: جب تک اللہ
[1] البناية شرح الهداية، كتاب الكراهية، مسائل متفرقة، ١٢ / ٢٧١.
[2] ذیل المدعا لِاحْسنِ الوِعاء، فصلِ دہم، ص۲۸۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع