30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
براءَت وطَہارت کا یقین ہو گیا اور انہوں نے کہا: ضرور یہ کوئی بڑا مُعَامَلہ ہے۔ ( 1 )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شانِ بےنِیازی بھی خوب ہے کہ کبھی تو اپنے محبوب بندوں کو دُشمنوں کے ذریعے مَصَائب وآلام میں مبتلا کر کے ان کے دَرَجات بلند فرماتا ہے اور کبھی دُشمنوں سے ان کی حِفاظت وبراءَت کا ایسا انتظام فرماتا ہے کہ دیکھنے والے دَنگ رہ جاتے ہیں اور اس طرح پورے عالَم پر ان کی عظمت اور مقام کی رِفْعَت (بلندی) آشکار ہو جاتی ہے۔ دیکھئے! ایک وِیران بیابان میں اس خالق ومالِک عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے کھانے پینے کا کیسا خوب سامان کیا اور کس خوبی سے ان کی براءَت وطَہارت ظاہِر فرمائی، سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ ...!! اس سے خُدا تعالیٰ کی قدرتِ کامِلہ کا اظْہار ہوتا ہے۔ نیز ان واقِعات سے حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی ثابِت قَدَمی اور صبر واستقامت کا پہلو بھی واضح ہوا کہ سخت مشکل لمحات اور بے حد صبرآزما گھڑیوں میں بھی انہوں نے شکوہ وشکایَت اور بےصبری کا مُظَاہَرہ نہ کیا، راضی بہ رِضا رہیں بلکہ لوگوں کے فتنہ میں پڑنے کے اندیشے سے کہا:
یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا (۲۳) (پ١٦، مريم:٢٣)
ترجمۂ کنزالایمان: ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔
آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اس طرزِ فکْر سے ہمیں یہ مدنی پھول حاصل ہوا کہ بندے کو چاہئےکہ مَصَائب وآلام سے گھبرا کر کبھی زبان پر شِکْوہ وشِکایت نہ لائے، ہمیشہ رضائے الٰہی میں راضی رہے اور صبر واستقامت کا دامَن مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھے کہ یہی اللہ والوں کی شان ہے اور یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر انسان جنت کی اَبَدی نعمتوں سے سرفراز
[1] تفسير القرطبى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٣١،٦ / ٢٢.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع