30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عنقریب آپ کو ملنے والی تھی۔ ( 1 )
اِنْعَاماتِ اِلٰہیہ اور بعض صِفَات کا تذکِرَہ
اس کے بعد خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِنْعَامات اور اپنی بعض صِفَات کا ذِکْر کرتے ہوئے فرمایا:
وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ۪-وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّاﳚ (۳۱) وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا (۳۲) وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (۳۳) (پ١٦، مريم:٣١-٣٣)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس نے مجھے مُبَارَک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مَروں گا اور جس دن زندہ اُٹھایا جاؤں گا۔
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ جب تک آدمی زندہ ہے اور کوئی ایسا شرعی عُذْر نہیں پایا جا رہا جس سے عِبَادت ساقِط ہو جائے تب تک شریعت کی طرف سے لازِم کی گئی عِبَادات اور دئیے گئے احکامات کا وہ پابند ہے ( 2 ) جیسا کہ آپ نے فرمایا: مَا دُمْتُ حَیًّایعنی جب تک میں زمین پر زندہ رہوں تب تک اس نے مجھے نماز کا مکلّف ہونے پر اسے قائم کرنے اور زکوٰۃ کے قابِل مال ہونے کی صورت میں اس کی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ( 3 ) صِرَاط الجنان میں ہے: اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو شیطان کے بہکاوے
[1] تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٣٠، ٣ / ١٨٧.
[2] صراط الجنان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۳۱، ۶ / ۹۶۔
[3] تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٣١، ٣ / ١٨٧، مفهومًا و صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۳۱، ۶ / ۹۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع