30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِعلانِ بند گی
ابتدا میں آپ نے اپنی عُبُودِیَّت (بندہ ہونے) کا اِعلان فرمایا کہ
اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ (پ١٦، مريم:٣٠)
ترجمۂ کنزالایمان: میں ہوں اللہ کا بندہ۔
چونکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مُتَعَلِّق یہ تہمت لگائی جانے والی تھی کہ آپ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں اور یہ تہمت اللہ رَبُّ الْعِزَّت کی ذاتِ عالی پر لگتی تھی اس لیے منصبِ نبوَّت ورِسالت کا تقاضا یہی تھا کہ والِدہ کی براءَت بیان کرنے سے پہلے وہ تہمت دُور فرما دی جائے جو اللہ تعالیٰ کی جنابِ پاک میں لگائی جائے گی لہٰذا آپ نے سب سے پہلے اپنی بندَگی کا اِعْلان فرمایا تا کہ کوئی اِنہیں خدا اور خدا کا بیٹا نہ کہے۔ ( 1 )
عطائے کِتاب ونبوَّت کا بیان
پھر عطائے کِتاب ونبوَّت کا بیان فرمایا کہ
اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ (۳۰) (پ١٦، مريم:٣٠)
ترجمۂ کنزالایمان: اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا۔
حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ آپ والِدہ کے پیٹ میں ہی تھے کہ آپ کو توراۃ کا اِلہام فرما دِیا گیا تھا ( 2 ) اور جھولے میں تھے جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوَّت عطا کر دی گئی اور اس حالت میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام فرمانا آپ کا معجزہ ہے۔ ( 3 ) بعض مفسرین نے آیت کے معنی میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ نبوَّت اور کِتاب ملنے کی خبر تھی جو
[1] خزائن العرفان،پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۳۰، ص۵۷۴، بتغیر۔
[2] تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٣٠، ٣ / ١٨٧.
[3] مدارک، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٣٠، ٢ / ٣٣٤.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع