30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گُزَار خاتون تھیں اس لیے اُنہوں نے آپ کو اُن کی بہن کہا یعنی اے نیک عورت! تجھے یہ کام زیب نہیں دیتا تھا۔ ( 1 ) نہ تو تیرا باپ عِمران کوئی بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں حَنَّہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا؟ ( 2 )
حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا گہوارے میں کلام
جب قوم نے بہت زیادہ طعنہ زنی اور مَلامَت کی تو حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا خود تو خاموش رہیں مگر بچے کی طرف اِشارہ کر دیا کہ جو کچھ کہنا ہے اِن سے کہو! اس پر لوگوں کو غصّہ آیا اور انہوں نے کہا: جو بچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا...!! مروی ہے کہ جس وَقْت یہ گفتگو ہو رہی تھی حضرت سیِّدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دودھ نَوش فرما رہے تھے، گفتگو سُن کر آپ نے دودھ پینا چھوڑ دیا، بائیں ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی جانب مُتَوَجِّہ ہوئے اور دائیں دستِ اقدس کی انگشتِ شہادت (یعنی سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی) سے اشارہ کر کے کلام شروع فرمایا۔ ( 3 )
[1] المحرر الوجيز،پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٨، ٤ / ١٤. تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٨، ٣ / ١٨٦.
[2] تفسير خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٨، ٣ / ١٨٦، ملتقطًا.
[3] روح المعانى،پ١٦، مريم، تحت الآية: ٣٠، ١٦ / ٥٤١.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع