30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیدائش کے وقت سے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنی قدرتِ کامِلہ کے کئی نظارے دِکھا کر تسلی دی کہ دیکھو! جو ذات تیرے لئے خشک نہر سے پانی جاری کر سکتی ہے اور خشک درخت سے پکی ہوئی کھجوریں ظاہِر کر سکتی ہے وہ آيندہ بھی تمہیں بےیار ومددگار نہیں چھوڑے گی لہٰذا تم اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی کرامتوں، عنایتوں، شفقتوں پر نظر کرو اور غم وپریشانی کا اِظْہَار مت کرو۔“ ( 1 )
حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا کو کھجوریں کھانے اور نہر سے پانی پینے کا کہا اور فرمایا کہ آپ (اپنے نورِ نظر، لختِ جگر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھیں اور اگر کسی آدمی کو دیکھیں (کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہو) تو اسے (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے آج رحمٰن کے لئے روزے کی نذر مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے بات نہ کروں گی۔ ( 2 ) قرآنِ کریم میں حضرت جبرائیل عَلَیْہِ
[1] صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۵، ۶ / ۸۹روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٤، ١٦ / ٥٣٣، بتغير.
[2] یاد رہے کہ پہلے زمانے میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیساکہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے البتہ ہماری شریعت میں چُپ رہنے کا روزہ منسوخ ہو گیا ہے۔ [صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۶، ۶ / ۹۰] حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صومِ وصال (یعنی سحری اور افطار کے بغیر مسلسل روزہ رکھنے) اور چُپ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند امام اعظم، باب العين، روايته عن عدى بن ثابت، ص١٩٢] حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تا کہ کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اولیٰ ہے۔ [صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۶، ۶ / ۹۰ و خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٤، ٣ / ١٨٥ ومدارك، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٦، ٢ / ٣٣٣، ملتقطًا]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع