30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں کی طرف سے عار دِلائے جانے اور مَلامَت کیے جانے کا اِحساس تیز تر ہونے لگا ( 1 ) نیز ایک باعفت وپاک دامَن خاتون پر تہمت لگا کر لوگوں کے گناہ میں پڑنے کا خیال بھی زور پکڑنے لگا ( 2 ) اور آپ نے اس کرب واِضْطِرَاب کی حالت میں یہ بات زبان اقدس سے کہی کہ اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی تا کہ یہ معاملات پیش ہی نہ آتے۔ قرآنِ کریم میں اس کا بیان اس طرح سے آتا ہے:
قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا (۲۳) (پ١٦، مريم:٢٣)
ترجمۂ کنز الایمان : بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بُھولی بسری ہو جاتی۔
دو۲عظیم نِشانیوں کا ظہور
اِضْطِرَاب وبےچینی کی اس کیفیت میں جب مُبَارَک زبان سے یہ بات نکلتی ہے تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام جو اس وقت حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا کی جائے قیام سے قدرے نشیب (یعنی نیچے) کی جانب تشریف فرما تھے، ( 3 ) وہیں سے انہیں پکارتے ہیں اور غم وپریشانی کا اِظْہَار کرنے سے منع کرتے ہوئے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی ان دو عظیم نشانیوں کی جانب تَوَجُّہ دلاتے ہیں جو اس ویران بیابان میں ربّ تعالیٰ نے ان کے واسطے ظاہِر فرمائی تھیں، ایک: خشک نہر کا جاری ہونا، دوسرے: کھجور کے خشک تنے سے اس کی جڑ پکڑ کر ہِلانے سے تازہ پکی ہوئی کھجوریں ان کے پاس آ گرنا۔ عُلَما فرماتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
[1] روح المعانى،پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٣، ١٦ / ٥٣٢.
[2] احكام القرآن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٣، ٣ / ٢٨٤.روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٣، ١٦ / ٥٣٢.
[3] روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٤، ١٦ / ٥٣٣.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع