30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پائیں اور سیدھی راہ پر آ جائیں۔ ( 1 ) اور عِلْمِ اِلٰہی میں ایسا ہونا ٹھہر چکا ہے، اب نہ ردّ ہو سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے۔ ( 2 )
استقرارِ حمل
حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام سُن کر جب حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو اِطمینان ہو گیا اور پریشانی جاتی رہی تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے گِریبان میں یا آستین میں یا دامَن میں یا منہ میں دَم کیا ( 3 ) اور واپس تشریف لے گئے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت! اس دَم سے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا فوراً حامِلہ ہو گئیں مگر بدنامی کے خوف سے اس حمل کو چُھپایا۔ ( 4 ) اس وَقْت حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی عمر تیرہ سال یا دس سال تھی۔ ( 5 )
حضرت یُوسُف رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کے سُوال وجواب
وَہْب کا قول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے حمل کا عِلْم ہوا وہ ان کا چچا زاد بھائی یُوسُف نَجّار ہے جو مسجدِ بیت المقدس کا خادِم تھا اور بہت بڑا عابِد شخص تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ مریَم حامِلہ ہیں تو نہایت حیرت ہوئی۔ جب چاہتا تھا کہ ان پر تہمت لگائے تو ان کی عِبَادت وتقویٰ، ہر وَقْت کا حاضِر رہنا، کسی وَقْت غائب نہ ہونا، یاد کر کے خاموش ہو جاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تھا تو ان کو بَری سمجھنا مشکل معلوم ہوتا
[1] تفسير ابى سعود، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢١، ٥ / ٣٥٧، بتغير قليل.
[2] خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۲۱،ص۵۷۲، بتغیر قلیل۔
[3] خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۲۱، ص۵۷۲، بتغير قليل۔
[4] تفسیر نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۴۷، ۳ / ۴۲۲۔
[5] خزائن العرفان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۲۱،ص۵۷۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع