30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴) ...اور مریَم بنتِ عِمران (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ) ([1])
2- جنّتی عورتوں کی سردار چار۴ عورتیں ہیں: (۱) ... مریَم (۲) ... فاطمہ (۳) ... خدیجہ اور (۴) ... آسیہ (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ) ۔ ([2])
1- تمام جہانوں کی افضل عورتیں (۱) ...خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد (۲) ...فاطمہ بنتِ مُحَمَّد (۳) ...مریَم بنتِ عِمران (۴) ...اور فرعون کی بیوی آسیہ بنتِ مُزَاحِم (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ) ہیں۔ ([3])
2- مَردوں میں تو بہت کامِل ہوئے، عورَتوں میں مریَم بنتِ عِمران اور فرعون کی بیوی آسیہ (رَضِیَ للہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ) کے عِلاوہ کوئی کامِلہ نہ ہوئی۔ ([4] )
عورَتوں کا مرتبۂ کمال: ذِکْر کی گئی آخری رِوَایَت میں عورتوں کے کامِل ہونے کا بیان ہے، مِرْاٰةُ الْمنَاجِیْح میں اس کی وضاحت یہ لکھی ہے کہ یہاں کمال سے مراد نبوّت و رِسالت نہیں کیونکہ یہ کمال تو صرف انسان مَردوں کو ہی ملا ہے کوئی عورت اور کوئی غیر انسان نبی نہیں ہوئے بلکہ (اس سے ) مُراد وِلایتِ کامِلہ، قطبیت، غوثیت وغیرہ ہے اور ربّ تعالیٰ سے قربِ خاص، کہ یہ صِفَات مَردوں کو زیادہ ، عورَتوں کو کم ملے۔ نبوّت کے مُتَعَلِّق ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ (پ١٣، يوسف، ١٠٩)
(ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے۔ )
نبوّت کے فرائض عورت اَنْجام نہیں دے سکتی، پردہ میں رہ کر عام تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہاں نِسَاء (عورتوں) سے مراد اُس زمانہ کی عورتیں ہیں لہٰذااس سےیہ لازِم نہیں آتا کہ حضرتِ آسیہ و مریَم (رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِمَا) جنابِ فاطمہ زہرا، خدیجہ اور عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ للہُ تَعَالیٰ عَنۡہُنَّ) سے افضل ہوں۔یہ بیبیاں حضرتِ آسیہ و مریَم (رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِمَا) سے افضل ہیں۔ ([5] )
حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے شَرَفِ زوجیت
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ آپ جنّت میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی زوجہ ہوں گی۔ چنانچہ مروی ہے کہ جب حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مرضِ وفات میں مبتلا تھیں تو سرکارِ عالی وقار، مَحْبوبِ ربّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے خدیجہ! تمہیں اس حالت میں دیکھنا مجھے گراں گزرتا ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس گراں گزرنے میں کثیر بھلائی رکھی ہے۔تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےجنّت میں میرا نِکاح تمہارے ساتھ، مریَم بنتِ عِمران، حضرتِ موسیٰ عَلَیۡہِ السَّلَامُ کی بہن کلثم اور فرعون کی بیوی آسیہ کےساتھ فرمایا ہے۔ ([6] )
حضرت سیِّدنا ابوہُرَیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوَایَت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بھی کوئی آدمی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چُھوتا ہے اور شیطان کے چُھونے کی وجہ سے ہی وہ چیختا چِلَّاتا ہے سِوائے مریَم اور ان کے صاحبزادے (حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے (یعنی یہ دونوں حضرات شیطان کے چھونے سے محفوظ رہے) ۔ ([7])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس حدیث شریف سے ان کی بہت بڑی فضیلت مَعْلُوم ہوئی۔ خیال رہے کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم بھی شیطان کے چُھونے سے مَحْفوظ رہے بلکہ حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رِوَایَت سے پتا چلتا ہے کہ شیطان کو اس موقع پر نہایت ذِلّت اور رُسْوائی بھی اُٹھانی پڑی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ جب سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی وِلادَتِ باسعادت ہوئی تو ساری زمین نور سے مُنَوَّر ہو گئی اور شیطان نے کہا: آج رات ایک ایسا فرزند پیدا ہوا ہے جو ہمارے کاموں کو خراب کر دے گا۔ (یعنی ہم نے کوششیں کر کے لوگوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے ان کے ہِدَایَت فرمانے سے وہ بگاڑ ختم ہو جائے گا اور لوگ راہِ راست پر آ جائیں گے اس طرح ہماری ساری کوششوں پر پانی پِھر جائے گا) اس پر اس کی ذُرِّیات نے کہا کہ جب تُو اس کے پاس جائے تَو (مَعَاذَ الله) اس کے فہم
[1] مسندِ احمد، مسند بنی هاشم، مسند عبد الله بن عباس الخ، ٢ / ٢٤١، الحديث: ٢٧٢٠.
[2] كنز العمال، كتاب الفضائل، الفصل الثالث فی جامع مناقب النساء، ١٢ / ٦٥، الحديث: ٣٤٤٠١.
[3] المستدرك، كتاب تواريخ المتقدمين الخ، ذكر افضل نساء العالمين، ٣ / ٤٨٩، الحديث: ٤٢١٦.
[4] بخارى، كتاب احاديث الانبياء، باب قول الله تعالٰى و اذ قالت الملئکة يٰمريم، ص٨٨٢، الحديث: ٣٤٣٣.
[5] مرآۃ المناجیح، نبیوں کا ذکر، پہلی فصل، ۷ / ۵۹۵.
[6] معجم كبير، ذكر تزويج رسول الله صلی الله عليه و سلم خديجة الخ، ٩ / ٣٩٣، الحديث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع