30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
* بعض حضرات مادر زاد ولی ہوئے ہیں، وِلایت عِبَادت پر موقوف نہیں۔ دیکھو! حضرت مریم ( رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا ) صِغَر سِنی میں ولی تھیں اور یہ کرامات اسی عمر شریف میں آپ سے ظاہِر ہوئیں۔ وِلایت نبوت کا سایہ ہے کبھی اس کا ظُہُور شروع سے ہوتا ہے کبھی کچھ عرصہ بعد جیسے بعض انبیائے کرام کی نبوّت کا ظُہُور چالیس سال کی عمر شریف میں ہوااور بعض کا پیدایش سے ہی جیسے حضرت عیسیٰ ویحییٰ عَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ ۔ ( 1 )
* کراماتِ اولیاء حق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولوں کے ہاتھ پر عجائبات ظاہِر فرماتا ہے۔ حضرت مریم سے جو ولیَّہ تھیں، بہت عجائبات ظاہِر ہوئے۔ کرامات کا انکار درحقیقت آیاتِ قرآنی اور صدہا احادیث کا انکار ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف جگہ کراماتِ اولیاء بیان فرمائیں یہاں بی بی مریم کی کرامات کا ذکر ہوا دوسری جگہ آصَف بَرخِیَا کا آن کی آن میں پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے ملکہ بلقیس کا تخت شام میں لا کر حاضر کر دینا، ایک جگہ اصحابِِ کہف کا صدہا سال سونا اور مٹی سے ان کا جسم خراب نہ ہونا بیان فرمایا، ایک جگہ حضرت مریم ( رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا ) کے ہاتھ لگنے سے خشک کھجور کا تر ہونا فوراً رسیدہ (پکے ہوئے) پھل لگ جانا بیان فرمایا جو کھا کر آپ پر وِلادتِ عیسیٰ عَلَیۡہِ السَّلَامُ آسان ہوئی، ایک جگہ حضرت مریم کا بغیر خاوند حامِلہ ہونا اور فرشتے سے کلام کرنا بیان فرمایا؛ یہ تمام کراماتِ اَوْلِیَاءُ الله ہیں۔ معلوم ہوا کہ کراماتِ اولیاء، حالاتِ اصفیاء بیان کرنا، اَوْلِیَاءُ الله کے مناقب پڑھنا سُنَّتِ اِلٰہیہ ہے۔ ہم لوگ گیارہویں شریف میں اَوْلِیَاءُ الله کے فضائل وکرامات ہی بیان کرتے ہیں۔ کرامات واِرْہاصات کبھی
[1] تفسیرِ نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۷، ۳ / ۳۸۳.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع