30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عِبَادات ساقِط ہو چکی ہیں۔ ایسے بناوٹی صُوفی شریعت کے نہیں بلکہ شیطان کے پیروکار ہیں اور اس کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے دِین، مذہب اور ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے شریروں کے شر سے ہمیں مَحْفوظ فرمائے۔ ([1])
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی براءَت
واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام سے وہ تہمت بھی رَفع ہو گئی جو آپ کی والِدَہ ماجِدَہ طَیِّبَہ طاہِرہ عفیفہ حضرت سیِّدَتُنا مریَم بَتُول رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاپر لگائی گئی تھی کیونکہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اس مرتبۂ عظیمہ کے ساتھ جس بندے کو نوازتا ہے بِالیقین (یعنی یقینی طور پر) اُس کی وِلادت اور اُس کی فطرت نِہَایت پاک وطاہِر ہے ([2]) یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ معجزہ دیکھا تو انہیں حضرت مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی براءَت وطَہارت کا یقین ہو گیا اور انہوں نے کہا: ضرور یہ کوئی بڑا مُعَامَلہ ہے۔ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شانِ بےنِیازی بھی خوب ہے کہ کبھی تو اپنے محبوب بندوں کو دُشمنوں کے ذریعے مَصَائب وآلام میں مبتلا کر کے ان کے دَرَجات بلند فرماتا ہے اور کبھی دُشمنوں سے ان کی حِفاظت وبراءَت کا ایسا انتظام فرماتا ہے کہ دیکھنے والے دَنگ رہ جاتے ہیں اور اس طرح پورے عالَم پر ان کی عظمت اور مقام کی رِفْعَت (بلندی) آشکار ہو جاتی ہے۔ دیکھئے! ایک وِیران بیابان میں اس خالق ومالِک عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے کھانے پینے کا کیسا خوب سامان کیا اور کس خوبی سے ان کی براءَت وطَہارت ظاہِر فرمائی، سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ...!! اس سے خُدا تعالیٰ کی قدرتِ کامِلہ کا اظْہار ہوتا ہے۔ نیز ان واقِعات سے حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی ثابِت قَدَمی اور صبر واستقامت کا پہلو بھی واضح ہوا کہ سخت مشکل لمحات اور بے حد صبرآزما گھڑیوں میں بھی انہوں نے شکوہ وشکایَت اور بےصبری کا مُظَاہَرہ نہ کیا، راضی بہ رِضا رہیں بلکہ لوگوں کے فتنہ میں پڑنے کے اندیشے سے کہا:
یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا (۲۳) (پ١٦، مريم:٢٣)
ترجمۂ کنزالایمان: ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔
آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اس طرزِ فکْر سے ہمیں یہ مدنی پھول حاصل ہوا کہ بندے کو چاہئےکہ مَصَائب وآلام سے گھبرا کر کبھی زبان پر شِکْوہ وشِکایت نہ لائے، ہمیشہ رضائے الٰہی میں راضی رہے اور صبر واستقامت کا دامَن مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھے کہ یہی اللہ والوں کی شان ہے اور یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر انسان جنت کی اَبَدی نعمتوں سے سرفراز ہو سکتا ہے۔ یاد رکھئے کہ زبان پر شکوہ وشِکایت لانے اور بےصبری کا مُظَاہَرہ کرنے سے صبر کا اجْر تو ضائع ہو سکتا ہے لیکن مصیبت دُور نہیں ہو سکتی۔
؎ زبان پر شکوۂ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
حُصُولِ رِزْق کی کوشش خِلَافِ تَوَکُّل نہیں
ان واقعات سے یہ مدنی پھول بھی حاصِل ہوا کہ حُصُولِ رِزْق کے لیے کوشش کرنا اور اس کے لیے اسباب اختیار کرنا تَوَکُّل کے خِلَاف نہیں، دیکھئے! اللہ رَبُّ العزّت نے حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو کھجور کی جڑ پکڑ کر ہِلانے کا حکم فرمایا حالانکہ جس کے حکم سے خشک دَرَخْت تروتازہ ہو کر پل بھر میں پھل آور ہو سکتا ہے یقیناً وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ اس پر بھی قادِر ہے کہ بغیر کسی مشقت کے اِن کے پاس کھجوریں آ گرتیں لیکن ایسا نہ ہوا اور اِنہیں جڑ ہِلانے کا حکم دیا گیا، اس میں حُصُولِ رِزْق کے لیے کوشش کرنے اور کام کاج کرنے کی تعلیم ہے۔ انسان کو چاہئے کہ کوشش ترک کر کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بےکار نہ بیٹھا رہے بلکہ محنت کرے اور جو ظاہِری اسباب مُقَرَّر ہیں انہیں اختیار کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل تلاش کرے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا کرَّمَ اللهُ تَعَالٰی وَجْهَهُ الْکَرِیْم کے یہ اشعار اسی مفہوم کی جانِب اشارہ کرتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع