30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صِدِّیقہ کا معنٰی
یہ لفظ ”صِدْق“ سے بنا ہے جس کا معنی ہے: سچ کہنا، سچ بولنا۔ سچ بولنے والے کو صَادِق کہتے ہیں یعنی سچا آدمی اور جس میں یہ صفت بدرجۂ کمال موجود ہو، جو ہمیشہ سچ بولے کبھی جھوٹی بات اس کی زبان سے نہ نکلے، جو زبان کا ہی نہیں دل اور عمل کا بھی سچا ہو اسے صِدِّیق کہا جاتا ہے چونکہ حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا بھی دل، زبان اور عمل ہر شے کی سچی تھیں اس لیے آپ کا لقب صِدِّیقہ ہے۔
حضرت مریم کو صِدِّیقہ کہنے کی تین۳ وُجُوہ
تفسیرِ کبیر میں آپ کو صِدِّیقہ کہنے کی تین۳ اور وُجُوہ بیان کی گئی ہیں:
-1 (صِدِّیقہ کا ایک معنی ہے: تَصْدِیق کرنے والی۔ چونکہ) آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نِشانیوں اور ہر اس بات کی تصدیق کی جس کے بارے میں آپ کے فرزند اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیۡہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ نے خبر دی (اس لیے آپ کو صِدِّیقہ کہا جاتا ہے) اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی اس صفت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ (پ٢٨، التحريم:١٢)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس نے اپنے ربّ کی باتوں اور اس کی کِتابوں کی تصدیق کی۔
-2فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا (۱۷) (پ١٦، مريم:١٧)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اس کی طرف ہم نے اپنا رُوحانی (فرشتہ) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تَنْدُرُسْت آدمی کے رُوپ میں ظاہِر ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع