30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَحم یعنی اے اللہ ( عَزَّوَجَلَّ ) ! یہ بچی یتیمہ ہے اس پر رَحم فرما۔ تیسرا اپنے ارادہ کی پختگی کا اظہار یعنی اے مولیٰ! اگر یہ بیت المقدس کی خدمت کے قابِل نہیں تو وہاں رہ کر عِبادت تو کر سکتی ہے میں اس سے خدمت نہ سہی وہاں عِبَادت ہی کراؤں گی اس لیے اس کا نام ”مریَم“ رکھتی ہوں یعنی عَابِدہ اور خَادِمَہ۔ ( 1 )
القاب
لَقَب سے مُراد وہ نام ہے جو کسی کو اس کی کسی اچھی یا بُری صفت کی بِنا پر دیا جاتا ہے، ( 2 ) اسے وَصفی یا صِفاتی نام بھی کہتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا کو بہت عالی رُتبہ صِفات سے نوازا تھا اس بِنا پر آپ کے القاب بھی بہت زیادہ ہیں چنانچہ حضرت سیِّدنا علَّامہ مَجْدُ الدِّین فَیروز آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے قرآنِ عظیم سے ماخُوذ آپ کے بارہ اَلْقاب (صِفَاتی نام) ذِکْر کیے ہیں ( 3 ) ان کے عِلاوہ احادیث اور کلامِ عُلَماء میں بھی آپ کے کئی اَلْقاب آئے ہیں، یہاں ان میں چند القاب اور ان کی وجوہات مُلَاحَظَہ کیجئے:
(۱) ...صِدِّیقہ
آپ کا ایک بہت مشہور لقب ”صِدِّیقہ“ ہے یہ قرآنِ کریم میں بھی آیا ہے چنانچہ پارہ چھ ۶ ، سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 75 میں فرمایا جاتا ہے:
وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌؕ- (پ٦، المائدة:٧٥)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی ماں صِدِّیقہ ہے۔
[1] تفسیرِ نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۳۶، ۳ / ۳۷۳۔
[2] كتاب التعريفات، باب اللام، ص٢٧٣، ملخصًا.
[3] آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے ان بارہ القاب کا ذکر کتاب کے تیسرے باب ”کرامات اور فضائل کا بیان“میں آ رہا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع