30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آزمائش کے اِن کٹھن لمحات میں ایک بےآباد مقام پر بغیر ساز وسامان بالکل تَنِ تنہا کہ کوئی پُرسان حال پاس ہے نہ مددگار، کوئی ہو بھی تو کیونکر...!! بغیر باپ کے بیٹے کی پیدائش کوئی مَعْمولی بات نہیں، حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی مشیّت پر مطلع ہو کر خود تو مطمئن ہیں لیکن اپنے دامَنِ عفت کو لوگوں کی بہتان تراشیوں سے کیسے محفوظ رکھا جائے، انہیں کیسے اس بات کا یقین دِلایا جائے کہ یہ کسی گناہ کا نتیجہ نہیں بلکہ عطیۂ پروردگار ہے۔ خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ...جو ہر شے پر قادِر ہے اور ہر شے اسی کی پیدا کردہ ہے، جس کی قدرت اسباب اور واسطوں کی محتاج نہیں بلکہ وہ جس کی پیدائش کا اِرادہ فرماتا ہے کُنْ فرما دیتا ہے اور وہ فوراً ہو جاتی ہے، یہ مُبَارَک بچہ اسی کا کلمہ اور اس کی طرف کی خاص معزز رُوح ہے اور اُس کی قدرت کی عظِیم نِشانی ہے...!!
اس حالتِ دَرْمانْدَگی (تکلیف و آزمائش کی حالت) میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو لوگوں کی طرف سے عار دِلائے جانے اور مَلامَت کیے جانے کا اِحساس تیز تر ہونے لگا ([1]) نیز ایک باعفت وپاک دامَن خاتون پر تہمت لگا کر لوگوں کے گناہ میں پڑنے کا خیال بھی زور پکڑنے لگا ([2]) اور آپ نے اس کرب واِضْطِرَاب کی حالت میں یہ بات زبان اقدس سے کہی کہ اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی تا کہ یہ معاملات پیش ہی نہ آتے۔ قرآنِ کریم میں اس کا بیان اس طرح سے آتا ہے:
قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا (۲۳) (پ١٦، مريم:٢٣)
ترجمۂ کنز الایمان: بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بُھولی بسری ہو جاتی۔
دو۲ عظیم نِشانیوں کا ظہور
اِضْطِرَاب وبےچینی کی اس کیفیت میں جب مُبَارَک زبان سے یہ بات نکلتی ہے تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام جو اس وقت حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی جائے قیام سے قدرے نشیب (یعنی نیچے) کی جانب تشریف فرما تھے، ([3]) وہیں سے انہیں پکارتے ہیں اور غم وپریشانی کا اِظْہَار کرنے سے منع کرتے ہوئے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی ان دو عظیم نشانیوں کی جانب تَوَجُّہ دلاتے ہیں جو اس ویران بیابان میں ربّ تعالیٰ نے ان کے واسطے ظاہِر فرمائی تھیں، ایک: خشک نہر کا جاری ہونا، دوسرے: کھجور کے خشک تنے سے اس کی جڑ پکڑ کر ہِلانے سے تازہ پکی ہوئی کھجوریں ان کے پاس آ گرنا۔ عُلَما فرماتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش کے وقت سے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنی قدرتِ کامِلہ کے کئی نظارے دِکھا کر تسلی دی کہ دیکھو! جو ذات تیرے لئے خشک نہر سے پانی جاری کر سکتی ہے اور خشک درخت سے پکی ہوئی کھجوریں ظاہِر کر سکتی ہے وہ آيندہ بھی تمہیں بےیار ومددگار نہیں چھوڑے گی لہٰذا تم اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی کرامتوں، عنایتوں، شفقتوں پر نظر کرو اور غم وپریشانی کا اِظْہَار مت کرو۔“ ([4] )
حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو کھجوریں کھانے اور نہر سے پانی پینے کا کہا اور فرمایا کہ آپ (اپنے نورِ نظر، لختِ جگر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھیں اور اگر کسی آدمی کو دیکھیں (کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہو) تو اسے (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے آج رحمٰن کے لئے روزے کی نذر مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے بات نہ کروں گی۔ ([5]) قرآنِ کریم میں حضرت جبرائیل عَلَیْہِ
[1] روح المعانى،پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٣، ١٦ / ٥٣٢.
[2] احكام القرآن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٣، ٣ / ٢٨٤.روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٣، ١٦ / ٥٣٢.
[3] روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٤، ١٦ / ٥٣٣.
[4] صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۵، ۶ / ۸۹
روح المعانى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٤، ١٦ / ٥٣٣، بتغير.
[5] یاد رہے کہ پہلے زمانے میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیساکہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے البتہ ہماری شریعت میں چُپ رہنے کا روزہ منسوخ ہو گیا ہے۔ [صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۶، ۶ / ۹۰] حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صومِ وصال (یعنی سحری اور افطار کے بغیر مسلسل روزہ رکھنے) اور چُپ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند امام اعظم، باب العين، روايته عن عدى بن ثابت، ص١٩٢] حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تا کہ کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اولیٰ ہے۔ [صراط الجنان، پ۱۶، مریم، تحت الآیۃ:۲۶، ۶ / ۹۰ و خازن، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٤، ٣ / ١٨٥ ومدارك، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٦، ٢ / ٣٣٣، ملتقطًا]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع