دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Bibi Maryam | فیضانِ بی بی مریم

book_icon
فیضانِ بی بی مریم

لیکن میں اسباب اور واسطوں کا محتاج نہیں۔ تمہیں اس طرح بیٹا عطا کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ ہم اسے لوگوں کے لیے اپنے کمالِ قدرت کی نِشانی اور بُرہَان  (دلیل) بنا دیں اور ان لوگوں کے لیے اپنی طرف سے ایک رَحْمت بنا دیں جو اس کے بتانے اور رہنمائی کرنے سے ہِدایَت پائیں اور سیدھی راہ پر آ جائیں۔ ([1])  اور عِلْمِ اِلٰہی میں ایسا ہونا ٹھہر چکا ہے، اب نہ ردّ ہو سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے۔ ([2])  

استقرارِ حمل

حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام سُن کر جب حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کو اِطمینان ہو گیا اور پریشانی جاتی رہی تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے گِریبان میں یا آستین میں یا دامَن میں یا منہ میں دَم کیا ([3])  اور واپس تشریف لے گئے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت! اس دَم سے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا فوراً حامِلہ ہو گئیں مگر بدنامی کے خوف سے اس حمل کو چُھپایا۔ ([4])  اس وَقْت حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی عمر تیرہ سال یا دس سال تھی۔ ([5])  

حضرت یُوسُف رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کے سُوال وجواب

وَہْب کا قول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے حمل کا عِلْم ہوا وہ ان کا چچا زاد بھائی یُوسُف نَجّار ہے جو مسجدِ بیت المقدس کا خادِم تھا اور بہت بڑا عابِد شخص تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ مریَم حامِلہ ہیں تو نہایت حیرت ہوئی۔ جب چاہتا تھا کہ ان پر تہمت لگائے تو ان کی عِبَادت وتقویٰ، ہر وَقْت کا حاضِر رہنا، کسی وَقْت غائب نہ ہونا، یاد کر کے خاموش ہو جاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تھا تو ان کو بَری سمجھنا مشکل معلوم ہوتاتھا بِالآخر اس نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا سے کہا کہ میرے دل میں ایک بات آئی ہے، ہر چند چاہتا ہوں کہ زبان پر نہ لاؤں مگر اب صبر نہیں ہوتا ہے، آپ اجازت دیجئے کہ میں کہہ گزروں تا کہ میرے دل کی پریشانی رَفع  (دُور)  ہو؟ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے کہا کہ اچھی بات کہو، تو اس نے کہا کہ اے مریم! مجھے بتاؤ کہ کیا کھیتی بغیر تخم  (بیج)  اور دَرَخْت بغیر بارِش کے اور بچہ بغیر باپ کے ہو سکتا ہے؟ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے فرمایا کہ ہاں، تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو سب سے پہلے کھیتی پیدا کی بغیر تخم  (بیج)  ہی کے پیدا کی اور دَرَخْت اپنی قدرت سے بغیر بارِش کے اُگائے، کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادِر نہیں؟ یُوسُف نے کہا: میں یہ تو نہیں کہتا، بے شک میں اس کا قائل ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہر شے پر قادِر ہے جسے کُنْ فرمائے وہ ہو جاتی ہے۔ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیۡہِ السَّلَامُ اور ان کی بی بی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا...!! حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اس کلام سے یُوسُف کا شُبہ رَفع  (دُور)  ہو گیا اور حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا حمل کے سبب سے ضعیف ہو گئیں تھیں اس لیے وہ خدمتِ مسجد میں ان کی نِیابَت انجام دینے لگا۔ ([6])  

بیتِ          لحم کے مقام پر آمد

وَقْت یونہی گزرتا رہا حتی کہ جب حمل کو آٹھ۸ ماہ کا عرصہ ہو چکا ([7])  تب حضرت سیِّدنا عیسیٰ رُوْحُ الله عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وِلادت کا وَقْت قریب آیا اور وَضْعِ حمل کے آثار ظاہِر ہوئے۔ اس وَقْت حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا شہر اِیْلیَا سے چھ۶ میل دُور، جنگل میں بیتِ لحم کے مقام پر تشریف لے گئیں۔ ([8])  یہاں کھجور کا ایک خشک دَرَخْت موجود تھا جس کے پتے، شاخیں سب جَھڑ چکے تھے اور صرف ڈَنْڈ  (تَنا)  باقی رہ گیا تھا۔ وَقْت تیز سردی کا تھا۔ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا دَرَخْت کی جڑ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور یہیں حضرت سیِّدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وِلادت ہوئی۔ ([9] )  

 



[1]    تفسير ابى سعود، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢١، ٥ / ٣٥٧، بتغير قليل.

[2]    خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۲۱،ص۵۷۲، بتغیر قلیل۔

[3]   خزائن العرفان، پ۱۶، مریم، تحت الآیہ:۲۱، ص۵۷۲، بتغير قليل۔

[4]   تفسیر نعیمی،پ۳، آلِ عمران، تحت الآیہ:۴۷، ۳ / ۴۲۲۔

[5]   خزائن العرفان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۲۱،ص۵۷۲۔

[6]   تفسیر خزائن العرفان، پ۱۶، مریَم، تحت الآیہ:۲۲، ص۵۷۲۔تفسير الخازن،پ١٦، مريم،  تحت الآية: ٢٢، ٣ / ١٨٥.تفسير الطبرى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٢، ٨ / ٣٢٤، ملتقطًا.تفسير صاوى، پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٤، ٤ / ٤٨.

[7]   روح المعانى،پ١٦، مريم، تحت الآية: ٢٢، ١٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن