30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت سے پھل لایا ہے۔ ( 1 )
حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا
حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب بچی کی یہ کرامت دیکھی کہ ان کے پاس بے موسم جنَّتی پھل آتے ہیں اور ان کا وہ دل خوش کُن جواب بھی سنا تو قدرَتی طور پر آپ کے دل میں فرزند کا شوق پیدا ہوا ( 2 ) اور اس شوق نے آپ کو فرزند کے لیے دعا کرنے پر اُبھارا اگرچہ اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کی زوجہ محترمہ دونوں عمر رسیدہ ہو چکے تھے اور اس عمر میں عام طور پر اولاد نہیں ہوا کرتی لیکن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نظر خالقِ اسباب پر رکھی کہ ”جو اس بچی کو بےموسم میوے دینے پر قادِر ہے اور جو خدمتِ بیت المقدس کے لیے بجائے لڑکے کے لڑکی اوربجائے جوان کے بچی کو قبول فرما لیتا ہے اور جو اس بچی کو بچپن میں بولنے کی طاقت دیتا ہے اور جو بغیر گمان رِزْق دینے پر قادِر ہے وہ مجھ جیسی عمر والے کو میری بانجھ بیوی سے اولاد بخشنے پر بھی قادِر ہے، چنانچہ اسی وَقْت اور اسی جگہ جہاں اس بچی سے یہ گفتگو ہوئی تھی، انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دُعا کی۔ یہ دُعا مُحَرَّم کی ستائیس تاریخ کو ہوئی۔ عرض کیا کہ اے مولیٰ! مجھے اس بڑھاپے میں خاص اپنی طرف سے ایک پاک وستھرا بیٹا عطا فرما، تُو دعاؤں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جب تُو نے حَنَّہ کی دعا قبول کی تو میری دعا کو بھی ضرور قبول فرمائے گا۔“ ( 3 ) قرآنِ کریم میں ان کے اس جگہ دعا کرنے کا ذِکْر موجود ہے، چنانچہ پارہ تین۳، سورۂ آلِ عمران میں ہے:
[1] تفسیرِ نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ:۳۷، ۳ / ۳۸۰۔
[2] المرجع السابق، تحت الآیۃ:۳۸، ۳ / ۳۹۰، بتغیر قلیل۔
[3] المرجع السابق، ۳ / ۳۹۰، بتغیر قلیل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع