دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Baba Bulleh Shah رحمۃ اللہ تعالی علیہ | فیضانِ بابا بُلّھے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

book_icon
فیضانِ بابا بُلّھے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

ڈاکٹرمختلف دوائیں دیتے اورکچھ دن بعدجواب دے دیتے۔ آوازبندہونے کے 13ویں دن میں نے ایک دستی مکتوب اپنے پیرومرشد پندرھویں صدی ہجری کی عظیم علمی ورُوحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت ،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں بھیجا،جس میں اپنی بیماری کا حال لکھ کر نظرِ کرم کی درخواست کی گئی تھی۔ غالباًبدھ کے روزمکتوب شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں پہنچ گیا۔ جمعرات کومیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہوا ۔بعدِ اجتماع ایک اسلامی بھائی سے ملاقات کے دوران مجھے اپنے دل میں تھوڑا درد محسوس ہوا تومیں ایک کونے میں جاکر بیٹھ گیا اچانک میں نے دیکھا کہ میرے سامنے شیخِ طریقت ،امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف فرماہیں ،آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے خوشبوؤں کی لپٹیں آرہی ہیں۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مجھے مسکراکرسینے سے لگایا، تسلی دی اور چاروں قُل شریف پڑھ کر مجھ پر دَم فرمایا،پھر فرمایا : ”کہو! مدینہ ‘‘  میں نے حکمِ مُرشِد پر ’’ مدینہ ‘‘  کہا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّمیری آوازکھل گئی ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک اسلامی بھائی کے نام یہ پیغام بھی دیا کہ میرے گھر جاکر چاروں قُل شریف پڑھ کرپانی پردم کریں اور چاروں کونوں میں چھڑک دیں۔ میں ”مدینہ ، مدینہ ‘‘  کہتا ہوا اسلامی بھائیوں کی طرف متوجہ ہوا۔وہ مجھے بولتادیکھ کر حیرانگی کے ساتھ میرے گرد جمع ہوگئے۔ میں نے سب کو بتایا ابھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف لائے تھے۔وہ میٹھے مُرشِد کی آمد کا سن کر جھوم اُٹھے۔یوں میرے پیر و

مرشد نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے باب المدینہ   (کراچی)   سے روحانی طور پر تشریف لا کر  میرے مرض کا علاج فرمادیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اب میں بالکل نارمل ہوں ۔  ([1])  

اب لے جلدی خبر تیری جانب نظر                 میں نے لی ہے لگا میرے مرشد پیا

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

والد ماجد کی انفرادی کوشش

            حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے والد ماجد حضرت سیِّد سخی شاہ محمد گیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک مرتبہ آپ سے ملنے آئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اہل ِ علاقہ کی محبت دیکھی تو بہت خوش ہوئے پھر فکر آمیز لہجے میں انفرادی کوشش کرتے ہوئے فرمانے لگے :  بیٹا ! تم اپنى ان کامىابىوں پرخوش نہ ہوجانا، وہ زمانہ ىاد کرو کہ جب تم اىک خوش رنگ پھول تھے مگر خوشبو سے خالى تھے جس شاخ پر  تم کھلےتھے مرشد کریم نے  اس کی  آبىارى کى پھررب  عَزَّ  وَجَلَّ  نے تم پر کرم فرماىا اور تم مہکنے لگے، مىں نے اىسے کئی پھول دىکھے ہىں جو شدىد محنت و رىاضت کے باوجود زندگى بھر خوشبو سے محروم رہے۔پھراگلے دن نماز ِ فجر ادا کرنے کے بعد بىٹے کو اپنى دعاؤں سے سرفراز فرمایا اور ”پانڈوکے  ‘‘    (ضلع قصور)  روانہ ہوگئے۔  ([2])  

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کو ہلاکت کے گہرے گڑھے میں ڈال دینے والا ایک گناہ ’’ خود پسندی‘‘  ہے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے : اگر تم کوئی  گناہ نہ کرو تو پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ تم اس سے بڑی چیز”خود پسندی  ‘‘ میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔  ([3])   

            حجۃ الاسلام حضرت سیّدناامام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَا لِیارشاد فرماتے ہیں :  خود پسندی کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ کو علم و عمل میں کامل سمجھنے کی وجہ سے انسان کے دل میں تکبر پیدا ہوجائے۔ اگر اُسے اُس کمال کے زائل ہونے کاخوف ہو تو وہ خودپسند نہیں کہلائے گا اوراسی طرح اگر وہ اس کمال کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت سمجھ کر اس پر خوش ہو تو بھی خودپسندی نہیں بلکہ وہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر خوش ہے ۔ اور اگر وہ اس وجہ سے خوش ہو کہ یہ اس کی اپنی صفت ہے اور نہ اس کے زوال کی طرف متوجہ ہو اور نہ یہ سوچے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہے تویہی چیز خود پسندی کہلاتی ہے اور یہی ہلاکت میں ڈالنے والی ہے۔

            پھر خود پسندی کا علاج ارشاد فرماتے ہیں کہ انسان اپنے انجام میں غور کرے اور بَلْعَمْ بن بَاعُوْرَاء   ([4])  کے بارے میں غور کرے کہ اس کا خاتمہ کیسے کفر پر ہوا اوراسی طرح ابلیس کی حالت ہے۔پس جس شخص نے برے خاتمہ کے بارے میں غور کیاتو اس کے لئے اپنی کسی صفت کی وجہ سے خودپسندی میں مبتلا ہونانا ممکن ہے۔ وَاللہُ اَعْلَم۔  ([5])  

 



[1]     بے قصور کی مدد،  ص۲۹

[2]     دلوں کے مسیحا،  ص۳۰۲بتصرف

[3]      الترغیب والترھیب،  کتاب الادب،  باب الترغیب فی التواضع،  ۳ / ۴۴۲،   حدیث: ۴۴۹۰  

[4]     بلعم بن باعوراء اپنے دور کا بہت بڑا عالم اور عابد و زاہد تھا۔ اسے  اسمِ اعظم کا بھی علم تھا۔ یہ اپنی جگہ بیٹھا  اپنی روحانیت سے عرش ِاعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔بہت ہی مستجاب الدعوات تھا جب اس نے حضرت سیِّدناموسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خلاف دعاکاپختہ ارادہ کرلیاتو اس کی زبان سینے تک لٹک گئی ،  کتے کی طرح ہانپنے لگا،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس سے ایمان،   علم اور معرفت چھین لی۔

[5]     لباب الاحیاء،   ص ۲۸۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن