30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’جاہل صوفی شیطان کا مسخرہ ہے‘‘ اس لئے حدیثِ پاک میں آیا حضور سیِّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔ ([1]) بغیر علم کے عبادت میں مجاہدہ کرنے والوں کو شیطان انگلیوں پر نچاتا ہے۔ ان کے منہ سے لگام اور ناک میں نکیل ڈال کر جدھر چاہے کھینچتا پھرتا ہے اور طریقت سے جاہل سمجھتے ہیں کہ ہم اچھا کررہے ہیں۔ ([2])
شرفِ بیعت اور مرشد کے مدنی پھول
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جب حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی بارگاہ میں حاضر ی کا شرف حاصل ہوا توانہوں نے کڑی شرائط کے ساتھ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو اپنے مریدوں کی صف میں شامل کرلیاپھر کچھ عرصہ زیرِ نگرانی تربیت فرماتے رہے اس کے بعد دریائے چناب کے کنارے جھنگ سیال کے صحراؤں میں چلے جانے کا حکم ارشاد فرمایاتاکہ عبادت و ریاضت کے ذریعے نفسانی خواہشات اور نَمُو دو نُمائش کے حجابات دور کرکے دل کی دنیا کو محبتِ الٰہی سے آباد کرسکیں اورچلتے ہوئے چندمدنی پھول ارشاد فرمائے : اے عبداللہ! اپنےنفس کو عادی بناؤ کبھى بھوک کا تو کبھى پىاس کا ، کبھى تىزدھوپ کا تو کبھى سخت سردى کا، یاد رکھو! اىثار،صبر،قناعَت اورتَوَکُّل،’’تصوف‘‘ کى عمارت کے چار ستون ہىں اگر اىک ستون بھى کمزور رہ جائے تو عمارت میں مضبوطی نہیں آپاتی جس کی وجہ سے وہ کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ بے شک! ہم سب عالمِ اسباب مىں سانس لے رہے ہىں مگر مسبب الاسباب اسى کى ذاتِ پاک ہے، غىر کى گلىوں مىں زندہ رہنے سےبہتر ہے کہ بندہ حبیب کے کوچے میں مرجائے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر منزلِ شوق آسان فرمائے ۔ ([3])
اے کاش ! ہم بھی نفسانی خواہشات اور نمو دو نمائش کے حجابات دور کرنے کے لئے اور دل کی دنیا کو محبتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ اورعشقِ ِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آباد کرنےکے لئے علم و حکمت کے ان مدنی پھولوں کواپنے دل کے آبگینے پر سجالیں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیرو مرشد کی ہدایت پر جھنگ تشرىف لے آئے اور درىائے چناب کے کنارے ایک چٹان کے سہارے بانسوں کو کھڑا کرکے ٹاٹ کی بوری لپیٹ کر گھاس پھونس کی ایک شکستہ جھونپڑی بناکر اپنی دنیا آباد کرلی جہاں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کئى سال تک سخت رىاضتوں اور مجاہدوں میں مصروف رہے گرم ہواؤں کے تھپىڑےہوں یا سرد ہواؤں کے جھونکے ،سىلاب ہویا آندھی و طوفان آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ موسم کى ہر سختى کومسکرا کر برداشت کرتے،آشیانہ بکھر جاتا تو تنکا تنکا جمع کرکے دوبارہ بنالیتے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دن رات عبادت و ریاضت میں مُستَغرَق رہتے سخت مجاہدات اور موسم کى سختىوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے رنگ کو جُھلس کر رکھ دیا تھاجس کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا سرخ و سفىد رنگ سىاہى مائل ہوچکا تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عموماً جنگلى پھلوں پر گزر بسر کرتے اور جب یہ موسم بھی گزر جاتاتو درختوں کے پتے کھا کر شکم کى آگ بجھاتے ۔ ([4])
رفتہ رفتہ آس پاس کے علاقوں میں آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی برکتوں کا ظہور ہونے لگا ،لوگوں کے مسائل حل ہونے لگے ،غربت و مفلسی دور ہونے لگی، کھیتوں میں پیداوار زیادہ ہوئی ،کھلیانوں میں غلے کے انبار لگ گئے،بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع ملنے لگے اس تبدیلی کو ہر ایک نے محسوس کیااور خوشی اور حیرت کے ملے جُلے تاثرات کا اظہار کیاآہستہ آہستہ یہ راز کھلنے لگا کہ دریا کے کنارے ایک ہستی دنیا و مافیھا سے بے خبر ہو کر ذکر و عبادت میں مصروف رہتی ہے چنانچہ ایک کسان مکئی کی روٹی اور ساگ لے کر حاضرِ خدمت ہوگیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاسے سامانِ غیب تصور کیا اور تناول فرمانا شروع کیا مگر ایک روٹی کھاکر ہاتھ کھینچ لیا، کسان یہ دیکھ کر گھبراگیا اور عرض گزار ہواکہ شاید آپ کو کھانا پسند نہیں آیا اس لئے ہاتھ روک لیا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کی دل جوئی کرتے ہوئے فرمایا: تمہاری مکئى کى روٹى اور ساگ ،باد شاہوں کےعمدہ کھانوں سے زىادہ لذىذ ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری روزى مىں برکت عطا فرمائے۔اس واقعے کے بعد قرب و جوار کے دوسرے کسان بھى آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لىے اپنے اپنے گھروں سے کھانا لانے لگے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اىک روٹى سے زىادہ ہر گز نہ کھاتے۔ ([5])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع