دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Baba Bulleh Shah رحمۃ اللہ تعالی علیہ | فیضانِ بابا بُلّھے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

book_icon
فیضانِ بابا بُلّھے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

عُظَّام کا طریقہ کارہے اس ضمن میں ایک روح پرور حدیث مبارکہ سے اپنے ایمان کو ترو تازگی بخشئے چنانچہ حضرت سیِّدنا شَداد بن اَوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر تھےکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی یعنی یہودی یا نصرانی موجود ہے ؟ہم نےعرض کی :  یارسولَاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! نہیں، پس  حضور نےہمیں  دروازہ بند کرنےکا حکم دیا پھر فرمایا: تم اپنے ہاتھوں کو اٹھاکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہو،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کو ایک ساعت تک اٹھائے رکھا پھر رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی کہ سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کےلئے ہیں الٰہی ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا اور اس پر مجھے جنت کا وعدہ فرمایااور تو وعدے کا خلاف نہیں فرماتا ۔پھر دعا کے بعد ہم سے ارشاد فرمایا:  خوش ہوجاؤ کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے تمہیں بخش دیا۔  ([1])  

            خلیفۂ اعلیٰحضرت ملک العلماء حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:  یہ خاص توجہ لینے اور دینے کا جزئیہ ہے ورنہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی تعلیم کے واسطے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام جہانوں کی طرف بھیجے گئے  پھر اس پوچھنے کے کیا معنی تھے کہ ھَلۡ فِیۡکُمْ غَرِیۡبٌ تم میں کوئی اجنبی تو نہیں ؟پس اس پوچھنے ہی پر بس نہ فرمایابلکہ دروازہ بند کرنے کا حکم دیا تاکہ کوئی غیر داخل نہ ہوسکے ،معلوم ہوا کہ یہ کوئی خاص تلقینِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ تھی جس میں خاص ہی خاص حضرات کا حصہ ہےاور یہ وہی توجہ ہے کہ مشائخِ کرام اپنے مریدین کو دیتے ہیں ۔  ([2])  

پھر توجہ بڑھا میرے مرشد پیا                      نظریں دل پہ جما میرے مرشد پیا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                  صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

طریقت دُشوار راستہ ہے

            حضرت علامہ شاہ محمد عناىت قادرى  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خانقاہ میں کوئی بیعت کے لئے حاضر ہوتاتو واضح الفاظ میں ارشاد فرمادیتے   ’’  طریقت ایک کٹھن اور مشکل راستہ  ہے، میرے پاس کچھ نہیں ہےاور نہ میں اسے پسند کرتاہوں کہ لوگ اس راہ میں اپنے پاؤں زخمی کرلیں اور  یہ کہتے ہوئے لوٹ جائیں کہ ہمارا بہت سا وقت برباد ہوگیااور ہمارے ہاتھ کچھ نہ آیا ‘‘ ۔پھر عاجزی کرتے ہوئے اہل ِ محفل سے فرماتے کہ عنایت تو خود کسی کی عنایت کا محتاج ہے وہ بس اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے حکم سے راستہ دکھاسکتا ہے اور تمہاری کامیابیوں کے لئے دعا کرسکتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری محنت اور کوشش کے پھل تمہیں عطا فرمائے اور تم پر اس دشوار گزار سفر کو آسان بنائے۔ اکثر لوگ یہ سُن کر واپس چلے جاتے جبکہ کچھ لوگ بَضِد رہتے تو  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کڑی شرائط کے ساتھ انہیں اپنے حلقۂ ارادت میں شامل فرمالیتے۔  ([3])  

            پیارے اسلامی بھائیو! راہِ طریقت واقعی ایک مشکل راستہ ہےجس پر چلنے والوں کے لئے  شریعت کے پاکیزہ دامن کو تھام کر رکھنا اَز حَد ضروری ہےورنہ اس راہ میں بہک جانے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےکلماتِ مبارکہ نہ صرف اس راہ میں بھٹکنے والوں کے لئے بلکہ  دیکھنےاورقدم جمانے والوں کے لئے بھی مشعل کی مثل روشنی بکھیر رہے ہیں چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  طریقت میں جو حقائق وغیرہ آدمی پر کھلتے ہیں وہ شریعت کی پیروی ہی کا صدقہ ہے ورنہ شریعت کی پیروی کے بغیر بڑے بڑے کشف تو راہِبوں، جو گیوں اور سَنیاسِیُوں کو بھی ہوتے ہیں ان کے کَشف انہیں کہاں لے جاتے ہیں اسی بھڑکتی آگ اور درد ناک عذاب کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہذا شریعت کی پیروی کے بغیر کسی کَشف کا کوئی فائدہ نہیں۔شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس، ایک ایک پل، ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو تویہ حاجت اور زیادہ ہے کہ راستہ جس قدر باریک وکٹھن ہوتا ہے رہنما کی حاجت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور رہنما یہاں پر ’’شریعت‘‘ ہے مزید فرماتے ہیں:  اے عزیز ! شریعت ایک عمارت ہے اس کی بنیاد ’’عقائد‘‘ اور چُنائی ’’عمل‘‘ ہے پھر ظاہری اعمال وہ دیواریں ہیں جو اس بنیاد پر تعمیر کی گئیں اور جب وہ تعمیر اوپر چڑھ کر آسمانوں تک بلند ہوجاتی ہے تو طریقت کہلاتی ہے۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی اسی قدر زیاد ہ اسے بنیاد کی حاجت ہوگی بلکہ عمارت میں ہر اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے کی حاجت ہوتی ہے اگر نیچے سے دیوار نکال دی جائے تو اوپر والا حصہ بھی گر جائے گا تو وہ شخص احمق ہے جسے شیطان نے نظر بندی کرکے اس کے اعمال کی بلندی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں یہ بات ڈالی کہ تم تو زمین کے دائرے سے اوپر گزر گئے ہو تمہیں ان نیچے والے حصوں کی کیا حاجت اور پھر اس احمق نے شیطان کے دھوکے میں آکر بنیادوں سے تعلق توڑ لیا تونتیجہ وہ نکلا جو قرآن مجید نے فرمایا :  

فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَؕ-   (پ،۱۱، التوبة: ١٠٩)  

ترجمۂ کنز الایمان:  اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں ڈھے   (گِر)   پڑی

اللہ کی پناہ ہے ان باتوں سے، اسی لئے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :

 



[1]     مسند احمد،  مسند شامیین ،   حدیث شداد بن اوس،   ۶ / ۷۸،  حدیث:۱۲۱ ۱۷

[2]     فتاویٰ ملک العلماء ص۳۱۳بتغیر

[3]     دلوں کے مسیحا،  ص۲۹۳ملخصاً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن