30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کلام معرفت اور عشقِ حقىقى سے بھرپور ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی تمام روحانی منازل کے حصول کا ذریعہ اور پہلا سبب شریعت ِمحمدی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہی قرار دیا اور اس پر عمل کو لازمی جانا چنانچہ لکھتے ہیں :
شریعت ساڈی دائی اے طریقت ساڈی مائی اے
اگوحق حقیقت آئی اے اتے معرفتوں کجھ پایا اے ([1])
یعنی شریعت ہماری ظاہری ضرورت ہے اور طریقت ہماری اصل حاجت ہے۔ انہی دو کے ذریعے حقیقت و معرفت تک رسائی ہوتی ہے۔ امامِ اہلسنّت سیّد ی اعلیٰحضرت امام احمد رضا خاں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلاً کوئی تَخالُف نہیں اس کا مُدَعِی اگر بے سمجھے کہے تونرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بددین، شریعت حضور اقدس سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے افعال اور حقیقت حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے احوال، اور معرفت حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے علوم بے مثال۔ ([2])
غافل دلوں کو بیدار کرنے اور ریاکاری سے پاک عبادت کرنے کامدنی ذہن عطا کرتے ہوئےفرماتے ہیں:
راتیں جاگیں کریں عبادت ،راتیں جاگن کتے ، تیتھوں اتّے
بھونکنوں بند مول نہ ہُندے ،جا روڑی تے ستّے، تیتھوں اتّے
بلھے شاہ کوئی رخت وہاج ([3]) لے، نئیں تے بازی لے گئے کتے تیتھوں اتّے
یعنی انسان رات جاگ کر عبادت کرتا ہے مگر یہ کوئی کمال نہیں کیونکہ خدمت، وفاداری اور فرمانبرداری کے اوصاف تو کتے میں بھی پائے جاتے ہیں بلکہ وہ انسان سے آگے بھی نکل جاتا ہے کہ رات بھر جاگ کر اپنے مالک اور اس کے گھر کی رکھوالی کرتا ہے اور اس خدمت کے عِوض دن میں کُوڑے کے ڈھیر پر بھی سوجاتا ہے مالک کے دَر سے جوتے پڑیں تب بھی اس کا دَر نہیں چھوڑتا مزید فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ خوبیاں دیکھ کر ریاکاری سے دور رہتے ہوئےعبادت اورآخرت کی تیاری کرنی چاہیےکہیں ایسا نہ ہوکہ کتے ہم سے بازی لے جائیں ۔ ([4])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کلام کا مُصدَّقہ دىوان تو کہىں نہىں ملتا البتہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کلام کےکئی مُرتَّب نسخے موجود ہیں، چند کے نام یہ ہیں :
٭…کافىاں حضرت بابا بلھے شاہ، ٭… گنجىنۂ معرفت، ٭…کافىاں مىاں بلھے شاہ، ٭…قانونِ عشق، ٭…کلىاتِ بلھے شاہ ۔ ([5])
بابا بلھے شاہ کے مہکتےمدنی پھول :
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جہاں اپنے کلام کےذریعے سرد دلوں میں عشق ومحبت کی گرمی پیدا کی تووہیں اپنے ملفوظات کو مدنی پھولوں میں ڈھال کر کوچۂ دل کو مہکا دیا چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں :
۱۔جو علم بے عمل ہے وہ دل کى کھوٹ کو کھرا نہىں کرسکتا۔
۲۔اس علم کا کوئى فائدہ نہىں جس سے ذلت و خوارى حاصل ہو۔
۳۔ظاہری جمع خرچ محض تکبر کی نشانی ہے جب تک عملاً کچھ نہ کیا جائےمراد کا پھل حاصل نہیں ہوسکتا۔
۴۔محبوب ِحقىقى توانسان کے اپنےدل مىں ہوتا ہے،مگر اندھے کو اس کى پہچان کىسے ہوسکتى ہے۔
۵۔جب تک دل سے تکبر، حرص ،کىنہ، بغض نکال کر جلا نہ دىا جائے محبوب ِحقىقى نہىں مل سکتا۔
۶۔جس نے خود کو دنىا کى آلائشوں سے پاک کیا اس نے کسبِ فقر پالىا۔
۷۔آخرت کا توشہ کمانا چاہتے ہو تو محبوبِ حقىقى کى محبت اپناؤ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع