دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Baba Bulleh Shah رحمۃ اللہ تعالی علیہ | فیضانِ بابا بُلّھے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

book_icon
فیضانِ بابا بُلّھے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر ِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ”شیطان کے بعض ہتھیار  ‘‘ کے صفحہ 6 پر تعزیت کی فضیلت اور تعریف بیان کرتے ہوئے محبوب ِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دلنشین  نقل فرماتے ہیں :  جو کسى غمزدہ شخص سے تعزىت کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے تقوىٰ کا لباس پہنائے گا اور روحوں کے درمىان اس کى روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسى مصىبت زدہ سے تعزىت کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے جنت کے جوڑوں مىں سے دو اىسے جوڑے پہنائے گا  جن کى قىمت   (ساری)   دنىا بھى نہىں ہوسکتى۔  ([1])    

تعزیت  کسے کہتے ہیں؟

            تعزىت کا معنى ہے، مصىبت زدہ آدمى کو صبر کى تلقىن کرنا۔ تعزىت مسنون   (ىعنى سنّت )   ہے۔  ([2])    

روٹھا ہوا مَن گیا

            امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مزید ارشاد فرماتے ہیں : بسا اوقات غمخوارى اور تعزىت کے دنىا مىں بھى ثمرات دىکھے جاتے ہىں، چنانچہ ان دنوں کى بات  ہے جن دنوں نور مسجد کاغذى بازارباب المدىنہ کر اچى مىں مىرى امامت تھى، اىک اسلامى بھائى پہلے مىرے قرىب تھے پھر کچھ دور دور رہنے لگے مگر مجھے اندازہ نہ تھا، اىک دن فجر کے بعد مجھے ان کے والد صاحب کى وفات  کى خبر ملى مىں  فورا ًان کے گھر پہنچا، ابھى غسلِ مىت بھى نہ ہوا تھا، دعا فاتحہ کى اور لوٹ آىا، نمازِ جنازہ مىں شرىک ہو کر قبرستان ساتھ گىا اور تدفىن مىں بھى پىش پىش رہا، اس کے فوائد تصور سے بھى بڑھ کر ہوئے چنانچہ اس اسلامى بھائى نے خود ہى انکشاف کىا کہ مجھے آپ کے بارے مىں کسى نے وَرغَلاىا تھا اس کى باتوں مىں آکر مىں آپ سے دور ہوگىا اور اتنا دور کہ آپ کو آتا دىکھ کر چھپ جاتا تھا لىکن مىرے پىارے والد صاحب کى وفات  پر آپ کے ہمدردانہ انداز نے مىرا دل بدل دىا، جس آدمى نے مجھے آپ سے بددِل کىا تھا وہ مىرے والد ِ مرحوم کے جنازے تک مىں نہىں آىا، اس واقعے کو تادمِ تحرىر کوئى 35 سال کا عرصہ گزر چکا ہوگا وہ اسلامى بھائى آج بھى بہت محبت کرتے ہىں، نہاىت بااثر ہىں تنظىمى طور پر کام بھى کرتے ہىں، داڑھی سجائى ہوئى ہے، خود مىرے پىر بھائى ہىں،  مگر ان کے بال بچے نىز  دىگر بھائى اور خاندان کے مزىد افراد عطارى ہىں، چھوٹے بھائى کا مدنى حلىہ ہے اور دعوتِ اسلامى کے ذمے دار ہىں بڑے بھائى بھى باعمامہ تھے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پانڈوکے سے ہجرت

                مشہور مغل بادشاہ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا تو  پنجاب میں ایک غیر مسلم قوم نے آزادی اور خود مختاری  کا نعرہ لگاتے ہوئے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے اتفاقاً اسی قوم کا ایک فرد ”پانڈوکے ‘‘  کے قریب سے گزرا تو گاؤں والوں نے اسے پکڑ لیا اور خوب مارا حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیچ بچاؤ کرواکر اس کی جان چھڑوائی ،گاؤں کے  چودھریوں کو  جب یہ بات معلوم ہوئی تو سخت برہم ہوئے او ر چندغنڈوں اور اوباشوں کو لے کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی رہائش گاہ پر حملہ کرکے اسے سخت نقصان پہنچایااور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو شدید زخمی کردیا چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی بڑی ہمشیرہ کو لے کر وہاں سے نکل آئے۔  ([3])   

ولی کی گستاخی کا انجام

            پھر گاؤں کے بڑے بوڑھوں نے چودھریوں کو سمجھایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ایک ولی کو تم نے ستایا ہے کہیں تم پر کوئی بڑی مصیبت نہ آن پڑے چنانچہ وہ سب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو منانے آئے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےجانے سے انکار کردیا جسے انہوں  نے اپنی بے عزتی سمجھا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا یہ دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو جلال آگیا اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے: اُجڑ گیا پانڈوکے نگھر گیا سدھار، جب انہوں نے یہ کلمات سنے تو ناکام و نامراد لوٹ گئے ۔اس بدتمیزی اور گستاخی کی سزا انہیں یوں ملی کہ جب وہ  غیر مسلم اپنی قوم کے پاس پہنچا اورانہیں پوری صورت حال سے آگاہ کیاتو وہ قَہر ِخداوندی بن کر ”پانڈوکے‘‘  پر حملہ آورہوئے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی نیز چودھریوں کو قتل کرکےان کا سارا مال و اسباب لوٹ لیا ۔  ([4])   

            میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ اگرچہ عیبوں کو چھپانے والا گناہوں کو بخشنے والا،رحیم و کریم ہے لیکن اگرکوئی بدنصیب اس کے محبوب بندوں کی شان میں کوئی گستاخی وبے ادبی کرتاہے تو خداوندِ قُدُّوس کی قہاری وجباری اس مردود کو ہرگز ہرگز معاف نہیں فرماتی بلکہ ضرور بالضروردنیا وآخرت کے بڑے بڑے عذابوں میں گرفتار کردیتی



[1]     المعجم الاوسط،   ۶ / ۴۲۹،   حديث :۹۲۹۲

[2]     بہار شرىعت،   ۱ /  ۸۵۲

[3]     سیرت بلھے شاہ ،  ص۶۹ ملخصاً

[4]     سوانح حیات حضرت بابا بلھے شاہ ،  ص۱۰۳ تا ۱۰۵ملخصاً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن