30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاولیاء لاہور واپس آجائیں ،جب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمرشد ِکریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عجب حالت تھی کہ دل بے قابو ہوچکا تھا اورآنکھوں سے اَشکوں کا سیلاب جاری تھا چنانچہ مرشدِ کریم پر نگاہ پڑتے ہی بے تابانہ قدموں سے لپٹ گئے یہاں تک کہ ہوش ہی جاتا رہا ۔بس زبان پر یہی کلمات جاری تھے کہ یا مرشد! آپ نے مجھے اپنے سے دور کیوں کیا؟اور مرشدِکریم اپنے مریدِ صادق کے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے اورتالیفِ قلب کے لئے فرماتے جاتے کہ ان مىں سے بہت سے قرىب رَہ کر بھى دور ہىں، اور تم دور رَہ کر بھى بہت زىادہ قرىب ہو۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مرید اپنے پیرومرشد کی قُربت اور صحبت میں رہے تو اسے عام طور پر خوش نصیبی اور سعادت مندی سمجھا جاتا ہےمگر یاد رکھئے کہ اصل سعادت مندی یہ ہےکہ اسے مرشدِ کریم کا فیض حاصل ہوجائے چاہے وہ پیرو مرشد سے قریب ہو یا دور، حضرت شاہ عناىت قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے فرمان کا مفہوم یہی ہے کہ مرید کا پیرو مرشد سے قریب رہنا یا دور رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا اىک مرىد اپنے مرشد کى خدمت مىں سارى زندگى گزار دىتا ہے مگر اسے معرفت کا انتہائى انعام ملنا تو دور کی بات، ابتدائى صلہ بھى حاصل نہىں ہوتا کىونکہ اس کى خدمت گزارى مىں وہ خلوصِ عشق اور دىانت دارى شامل نہىں ہوتی جو کار گزارى کو بہتر بناکر مرشدکا منظورِ نظر بنادے ، اسى لىے وہ قرىب رَہ کر بھى دور ہى رہتا ہے جبکہ بعض مرید دور رَہ کر مرشد کے ہر فرمان پر لبیک کہتے ہیں اور عمل کرتے ہیں یوں مرشد کی رضا حاصل کرکے اللہ و رسول کی بارگاہ میں سرخروئی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
کوئی آیا پا کے چلا گیا کوئی عُمربھربھی نہ پا سکا
مِرے مولیٰ تجھ سے گِلہ نہیں یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مبارک کلمات ان اسلامی بھائیوں کےجذبۂ شوق پر تسکین کا مرہم رکھنے کے لئے کافی ہیں جو امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بظاہر دور رہتے ہوئے اپنے علاقوں میں یامدنی قافلوں میں سفر کرتے ہوئے دور دراز مقامات پر تن من دھن سے دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرنےمیں مصروف ہیں اگر ہم بھی اپنے مرشِد کامل کا فیض پانا چاہتے ہیں اور ان کا دل خوش کرنا چاہتے ہیں تو اپنی خواہشات کوان کی خواہش پر قربان کرنا ہوگا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ہر اسلامی بھائی کے لئے خصوصی طور پر دو مدنی کام عطا فرمائے ہیں۔
(۱) مدنی انعامات (۲) مدنی قافلہ
ان دونوں مدنی کاموں پر عمل پیرا ہونے والوں سے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بہت خوش ہوتے ہیں چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں : جب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں اسلامی بھائی یا اسلامی بہن کا ”مدنی انعامات ‘‘ پرعمل ہے تو دل باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ ہوجاتا ہے۔
خوش نصیبوں کو اپنی پسندیدگی کی سند عطا کرتےہوئے فرماتے ہیں: میراپسندیدہ اسلامی بھائی وہ ہے جولاکھ سستی ہو مگر تین دن مدنی قافلے میں سفر کرتاہو ،جو داڑھی اور زلفوں سے آراستہ اور سنت کے مطابق مدنی لباس وعمامہ شریف سے مزیّن ہو ۔ مجھے کماؤ بیٹے پسند ہیں (یعنی جومدنی قافلے میں سفر اور مدنی انعامات پر عمل کرتے ہوں )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں مَدَنی انعامات پر عمل کرنے، مَدَنی قافلوں میں سفر کرنے اور ذیلی حلقے کے بارہ مدنی کام کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تقریباًایک سال بعدحضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیرو مرشد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئےمرکزالاولیاءلاہورسےوالدین کے پاس”پانڈوکے ‘‘ تشریف لے آئے والد ماجد حضرت سىد سخى شاہ محمد گیلانی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا چھوٹا سا مدرسہ اب علمی و روحانی مرکز کی صورت اختیار کر چکا تھاجس میں گاؤں کے ”چودھری پانڈو ‘‘ نے ہر طرح کا تعاون کیا تھا جونہی ”چودھری پانڈو ‘‘ کا انتقال ہوا اس کی اولاد نےمدرسہ کی مالی مُعاونَت ترک کردی اورسخت گیر رویہ اپناتے ہوئے ذاتی ملازم سمجھنا شروع کردیا مگر والد ماجد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمت نہ ہاری اور مدرسہ کا نظام بخوبی چلاتے رہے کچھ عرصہ بعد والد ماجد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا اور پھر یکے بعد دیگرے والدہ ماجدہ اور دو چھوٹی ہمشیراؤں نے عالَم جاوِدانی کا سفر اختیار کیا رشتہ داروں میں اب بڑی ہمشیرہ حیات تھیں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا کچھ عرصہ قبل ہنستا بستا گھرانہ ماتم کَدہ بن گیا، اداسی کے بادلوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرگہرا سایہ کردیا پیرو مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تعزیت کے لئے تشریف لائے تودل کو ڈھارس ہوئی اور عرض گزار ہوئے : یا مرشدی !اب یہاں دل نہیں لگتا اپنے ساتھ مجھے مرکز الاولیاء لاہور لے چلئے ،پیرو مرشد نے شفقت بھرے لہجے میں فرمایا: ابھی یہیں رہو ، یہاں تمہاری ضرورت زیادہ ہے ۔ ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع