30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقدسہ ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے ان کی صحبت سے عمل میں اضافہ اور آخِرت کی تیاری کاذہن بنتا ہے۔ حُقوق اللہاورحُقوق العباد کی بجا آوری کی طرف طبَیْعَت مائل ہوتی ہے۔
پیر و مرشد سے بھلائی ہی ملتی ہے
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ایک مریدنے اپنے والدین اور گھروالوں کو چھوڑ چھاڑ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آستانے پر ڈیرہ جما لیا ۔ دن رات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں مصروف رہتا ، نہ والدین کی خبر گیری کرتا نہ بال بچوں کی فکر ۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے فرماىا : تمہارا مجاہدہ اور رىاضت اپنى جگہ مگر معاملاتِ دنىا سے بے نىاز رہنا ہر ایک کے لئے مناسب نہیں، تم بال بچوں والے ہوتمہارے ماں باپ بوڑھے ہوچکے ہیں تم پر ان سب کے حقوق ہىں اگر تم نے ان کے حقوق ادا نہ کئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات کے خلاف ہوگانہ دنیا میں سرخرو ئی ملے گی نہ آخرت میں بلکہ ذلت و رسوائی مقدر ہوگی ، جاؤ! اپنے گھربار کى طرف دىکھواور ان کے حقوق ادا کرو۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شہد میں ڈوبے ہوئے کلمات تاثیر کا تیر بن کر اس مرید کے دل میں پیوست ہوگئے اور وہ اپنے گھر واپس لوٹ آیا۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں بچےکی پیدائش سے لےکرمرنےجینے،اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، کام کاج ، بیوی بچوں بلکہ رشتے داروں اور دوست احباب تک کے روشن احکام بیان فرمائے گئے ہیں،اسلام ہمیں ترکِ دنیا اور رہبانیت اختیار کرنے سے منع کرتے ہوئے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم فرماتا ہے چنانچہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں ترکِ دنیا نہیں ۔ ([2])
حضرت سیِّدنا ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اہلِ یمن میں سے ایک شخص ہجرت کرکے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوا تو رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: کیا یمن میں تمہارا کوئی رشتہ دار ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے والدین ہیں ،فرمایا: کیا انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟ عرض کی : نہیں ،ارشاد فرمایا: ان کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے اجازت طلب کرواگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان کی خدمت میں مشغول ہوجاؤ۔ ([3])
والدین کی خدمت اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے والوں کو نور برساتی حدیثِ مبارکہ میں عمر اور رزق میں کشادگی کی بشارت عطاگئی ہے چنانچہ حضورِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان نور بار ہے : جسے یہ پسند ہو کہ اس کی عمر اور رزق میں اضافہ کردیا جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور اپنے رشتہ داروں کےساتھ صِلہ رحمی کیا کرے۔ ([4])
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے پیرو مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے اوربارگاہ ِمرشد کی حاضری کو ترسا کرتے تھے۔جب جب تصور کی بالکنی سے جھانکتےتو تصور ِ مرشد میں کھو جاتے اور زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہوجاتے کہ مىرے لىے تو بس ىہى اىک اعزاز کافى ہے کہ جب پیرو مرشد کى نورانى مجلس آراستہ ہو، ہزاروں مرید دست بستہ بىٹھے ہوں اورمىں سرجھکائے اس بارگاہِ کرم مىں حاضری دوں تو مرشدِ عالى مقام یہ فرمارہے ہوں : دیکھو !مىرا مرىدسىد عبداللہ آرہا ہے ، ىہ کہتے کہتے حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى آنکھوںمىں آنسو آجاتے ۔ ([5])
کروں بند آنکھیں تصور میں آئیں میرے پیرو مرشد سَدا یا الٰہی
بڑھے بے قراری میں مرشد پہ واری یوں ہوجاؤں ان پہ فِدا یا الٰہی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کواپنے پیرو مرشد سے دور رہتے ہوئے چھ سال کا عرصہ ہوچکا تھالیکن پھر بھی مرشد کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے سخت مجاہدوں اور ریاضتوں میں مشغول رہے جب پیرومرشد حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ملاحظہ فرمایا کہ اب مرید صادق کو خلوت نشینی کی ضروت نہیں تو حکم فرمایا کہ مرکز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع