دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan-e-Azan | فیضانِ اذان

Azaan o Iqamat Ke Jawab Ka Tariqa

book_icon
فیضانِ اذان

اذان واِقامت کے جواب کا طریقہ

مُؤَذِّنصاحِب کوچاہئے کہ اَذان کے کلمات ٹھہرٹھہرکرکہیں۔     اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ  (یوں  دو کلمات ہیں  مگر) دونوں مل کر ( بغیر سکتہ کئے ایک ساتھ پڑھنے کے اعتبار سے )   ایک کَلِمہ ہیں  ، دونوں  کے بعدسکتہ کرے (یعنی چُپ ہوجائے ) اورسکتہ کی مقداریہ ہے کہ جواب دینے والا جواب دے لے ، سکتے کاترک مکروہ ہے اورایسی اذان کااعادہ  (یعنی لوٹانا)  مُستَحَبہے ۔  (دُرِّمُختار  ورَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۶)  جواب دینے والے کو چاہئے کہ جب مُؤَذِّن صاحِب    اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ  کہہ کر سَکْتہ کریں یعنی خاموش ہوں اُس وقت    اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ کہے ۔  اِسی طرح دیگرکلِمات کاجواب دے ۔ جب مُؤَذِّن پہلی بار    اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ  کہے یہ کہے :  صَلَّی اللہُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللہِ   ( ترجَمہ :  آپ پر دُرُود ہو  یا رسولُ اللہ   ( صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ  ( یا رسولُ اللہ!آپ سے میری آنکھوں  کی ٹھنڈک ہے )   اور ہربار انگوٹھوں  کے ناخن آنکھوں  سے لگالے ، آخِرمیں  کہے : اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ   (اے اللہ عَزَّوَجَل! میری سننے اور دیکھنے کی قُوّت سے مجھے نفع عطافرما)   (رَدُّالْمُحتار ج۲ص۸۴) 
     حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃاور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کے جواب میں   (چاروں بار)  لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہے اوربہتریہ ہے کہ دونوں کہے (یعنی مُؤَذِّن نے جوکہا وہ بھی کہے اور لَا حَوْلَ بھی) بلکہ مزیدیہ بھی مِلالے : مَا شَاءَ اللہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُن  (ترجَمہ: جو اللہ عَزَّوَجَل نے چاہاہوا، جو نہیں  چاہا نہ ہوا)  (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۲ص۸۲، عالمگیری ج۱ص۵۷)  اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کے جواب میں کہے : صَدَقْتَ وَ بَرَرْتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْت  ( ترجَمہ : تُوسچّا اورنیکوکارہے اورتُونے حق کہا ہے )   (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۲ص۸۳)     اِقامت کاجواب مُسْتَحَب ہے ۔  اس کاجواب بھی اسی طرح ہے فرق اتنا ہے کہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃ کے جواب میں  کہے : 
اَقَامَھَا اللہُ وَ اَدَامَھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ
ترجَمہ: اللہ عَزَّوَجَل اس کو قائم رکھے جب تک آسما ن اورزمین ہیں۔   (عالمگیری ج۱ ص ۵۷)

"صدقے یارسول اللہ" کے چودہ حروف
کی نسبت سے اذان کے 14 مدنی پھول

       ٭پانچوں فرض نَمازیں ان میں جُمُعہ بھی شامل ہے جب جماعت اُولیٰ کے ساتھ مسجِد میں  وقت پراداکی جائیں توان کیلئے اذان سنّتِ مُؤکَّدَہ ہے اور اسکاحکم مِثلِ واجِب ہے کہ اگراذان نہ کہی گئی تووہاں کے تمام لوگ گنہگارہونگے ۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۶۴) 
٭اگرکوئی شخص شَہرکے اندر گھرمیں نَمازپڑھے تووہاں کی مسجِدکی اذا ن اس کیلئے کافی ہے مگراذان کہہ لینامُسْتَحَب ہے۔   (رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۲، ۷۸) 
٭اگرکوئی شخص شہرکے باہَریاگاؤں ، باغ یاکھیت وغیرہ میں ہے اوروہ جگہ قریب ہے تو گاؤں یاشہرکی اذان کافی ہے پھربھی اذان کہہ لینابہترہے اورجوقریب نہ ہوتوکافی نہیں۔  قریب کی حدیہ ہے کہ یہاں کی اذان کی آوازوہاں پہنچتی ہو۔  (عالمگیری ج۱ص۵۴) 
٭مسافرنے اذان واِقامت دونوں نہ کہی یااِقامت نہ کہی تومکروہ ہے اوراگر صِرف اِقامت کہہ لی توکراہت نہیں  مگربہتریہ ہے کہ اذان بھی کہہ لے ۔ چاہے تنہا ہویااس کے دیگرہمراہی وَہیں موجودہوں۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۱، دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۲ص۷۸) 
٭وَقت شُروع ہونے کے بعداذان کہئے اگر وَقت سے پہلے کہہ دی یا وقت سے پہلے شُروع کی اوردورانِ اذان وقت آگیادونوں  صورَتوں  میں  اذان دوبارہ کہئے ۔  (الہدایۃ ج ۱ ص۴۵) مُؤَذِّن صاحِبان کوچاہئے کہ وہ نقشہ نِظام الْاوقات دیکھتے رہا کریں۔  کہیں کہیں  مُؤَذِّن صاحِبان وَقت سے پہلے ہی اذان شُروع کردیتے ہیں۔ امام صاحِبان اورانتِظامیہ کی خدمت میں بھی مَدَنی التجاہے کہ وہ بھی اس مسئلے  ( مَسْ ۔ ئَ ۔ لَے ) پرنظر ر کھیں۔ 
٭خواتین اپنی نَمازاداپڑھتی ہوں یاقضااس میں  ان کیلئے اذان واِقامت کہنامکروہ ہے ۔  (دُرِّمُختار ج۲ص۷۲)  
٭ عورَتوں کوجماعَت سے نَمازاداکرنا، ناجائز ہے ۔    (ایضاًص۳۶۷، بہارِ شریعت ج۱ص۵۸۴)  
٭سمجھداربچّہ بھی اذان دے سکتا ہے ۔   (دُرِّمُختار ج۲ص۷۵) 
٭بے وُضُوکی اذان صحیح ہے مگربے وُضُوکااذان کہنامکروہ ہے ۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۶۶، مَراقی الْفَلاح ص۴۶)  
٭خُنْثٰی، فاسِق اگرچِہ عالِم ہی ہو، نشہ والا، پاگل، بے غُسلا اورناسمجھ بچّے کی اذان مکروہ ہے ۔ ان سب کی اذان کا اِعادہ کیاجائے ۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۶۶، دُرِّمُختار ج۲ص۷۵)  
٭اگرمُؤَذِّن ہی امام بھی ہوتوبہترہے ۔  (دُرِّمُختار ج۲ص۸۸) 
 ٭مسجِدکے باہَرقِبلہ رُوکھڑے ہوکر، کانوں میں اُنگلیاں ڈال کربُلندآوا زسے اذان کہی جائے مگر طاقت سے زیادہ آواز بُلندکرنامکروہ ہے ۔  (بہارِ شریعت ج ۱ ص ۴۶۸ ، ۴۶۹ ، عالمگیری ج۱ص۵۵) اذان میں  اُنگلیاں  کان میں  رکھنا مسنون و مُستَحَب ہے مگر ہِلانا اور گھمانا حرکتِ فضول  ہے ۔  ( فتاویٰ رضویہ ج ۵ ص ۳۷۳)  
٭ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ سیدھی طرف منہ کرکے کہے اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اُلٹی طرف منہ کرکے ، اگرچِہ اذان نَماز کیلئے نہ ہو مَثَلاًبچّے کے کان میں  کہی۔ یہ پھرنافَقَط مُنہ کاہے سارے بدن سے نہ پھر ے ۔  (دُرِّمُختار ج۲ص۶۶، بہارِ شریعت ج۱ص۴۶۹) بعض مُؤَذِّنِین ’’صلوٰۃ   ‘‘اور ’’فلاح ‘‘پر پہنچنے پر نزاکت کے ساتھ دائیں  بائیں  چِہرے کو تھوڑاساہلادیتے ہیں  ، یہ طریقہ غَلَط ہے ۔  دُرُست انداز یہ ہے کہ پہلے اچھّی طرح دائیں  بائیں چِہرہ کرلیا جائے اِس کے بعد لفظ’’حَیَّ ‘‘ کہنے کی اِبتِدا ہو۔  
٭ فَجْرکی اذان میں حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کے بعد اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہنا  مُسْتَحَب ہے ۔  (دُرِّمُختار ج۲ص۶۷) اگرنہ کہاجب بھی اذان ہوجا ئے گی۔   (قانونِ شریعت ص ۸۹) 

اذان بلالی" کے نو حروف کی نسبت سے جواب اذان دینے کے 9 مدنی پھول

    ٭اذانِ نَمازکے علاوہ دیگراذانوں کاجواب بھی دیاجائے گامَثَلاًبچّہ پیداہوتے وقت کی اذان۔   (رَدُّالْمُحتار ج۲ص۸۲) میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں : جب بچّہ پیداہو فوراً سیدھے کان میں  اذان بائیں   (الٹے )  میں  تکبیر کہے کہ خَلَلِ شیطان و اُمُّ الصِّبْیان سے بچے ۔     (فتاوٰی رضویہ ج۲۴ص۴۵۲) ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘صَفْحَہ417تا 418پر ہے : ’’ (صَرْع) بہت خبیث بَلَا ہے اور اسی کو اُمُّ الصِبْیان کہتے ہیں  اگر بچّوں  کو ہو، ورنہ صَرْع  (مرگی )  ۔   ‘‘                                   
٭  مقتدیوں  کو خطبے کی اذان کا جواب ہرگزنہ دینا چاہئے یہی اَحوط  (یعنی احتیاط سے قریب )  ہے۔  ہاں  اگر یہ جوابِ اذان یا  (دو خطبوں  کے درمیان)  دعا، اگر دل سے کریں  ، زَبان سے تَلَفُّظ (یعنی الفاظ ادا کرنا)  اصلاً  (یعنی بالکل ) نہ ہو تو کوئی حرج نہیں  ۔ اور امام یعنی خطیب اگر زَبان سے بھی جوابِ اذان دے یا دُعا کرے بِلاشُبہ جائز ہے ۔  (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ ص ۳۰۰، ۳۰۱) 
٭ اَذان سُننے والے کیلئے اَذان کا جواب دینے کاحکم ہے ۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۲)  جنب  (یعنی جسے جماع یا اِحتلام کی وجہ سے غسل کی حاجت ہو) بھی اذان کا جوا ب دے ۔  البتّہ حیض و نفاس والی عورت، خطبہ سننے والے ، نَمازِجنازہ پڑھنے والے ، جِماع میں مشغول یا جو قضائے حاجت میں  ہوں  اُن پر جوا ب نہیں  ۔  (دُرِّمُختار ج۲ص۸۱) 
٭جب اذان ہو تواُتنی دیر کیلئے سلام وکلام اورجوابِ سلام اورتمام کام مَوقوف کردیجئے یہاں تک کہ تِلاوت بھی، اذان کو غور سے سنئے اورجوا ب دیجئے ۔ اِقامت میں  بھی اِسی طرح کیجئے ۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۳، دُرِّمُختار ج۲ص۸۶، عالمگیری ج۱ص۵۷مُلَخّصاً) 
 ٭اذان کے دوران چلنا ، پھرنا ، برتن، گلاس وغیرہ کوئی سی چیز اُٹھانا ، کھانا وغیرہ رکھنا ، چھوٹے بچّوں  سے کھیلنا ، اِشاروں  میں  گفتگو کرنا وغیرہ سب کچھ موقوف کردینا ہی مناسِب ہے ۔ 
٭جواَذان کے وَقت باتوں میں مشغول رہے ا س کا مَعَاذَ اللہ خاتمہ بُراہونے کا خوف ہے ۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۳) 
٭راستے پرچل رہاتھاکہ ا ذان کی آوازآئی تو (بہتر یہ ہے کہ)  اُتنی دیرکھڑا ہوجائے  (چپ چاپ )  سُنے اورجواب دے ۔  (عالَمگیری ج۱ص۵۷، ایضاً) ہاں  دورانِ اذان مسجِد یا وُضو خانے کی طرف چلنے اوروُضو کرنے میں  کوئی حَرَج نہیں  اِس دوران زَبان سے جواب بھی دیتے رہئے ۔  
٭اذان کے دوران استنجا خانے جانا بہتر نہیں  کیونکہ وہاں  اذان کا جواب نہ دے سکے گا اور یہ بہت بڑے ثواب سے محرومی ہے البتہ شدید حاجت ہو یاجماعت جانے کا اندیشہ ہو تو چلا جائے ۔ 
٭ اگرچنداذانیں سُنے تواس پر پہلی ہی کاجواب ہے اوربہتریہ ہے کہ سب کا جواب دے ۔  (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۲ص۸۲، بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۳) اگربوقتِ اذان جواب نہ دیاتواگر زِیادہ دیرنہ گزری ہوتوجواب دے لے ۔   (دُرِّمُختار ج۲ص۸۳)  

"یا مصطفے " کے سات حروف کی نسبت سے اقامت کے 7 مدنی پھول

٭اِقامت مسجِدمیں امام کے عین پیچھے کھڑے ہوکر کہنابہترہے اگر عین پیچھے موقع نہ ملے  تو سیدھی طرف مُناسِب ہے ۔   (ماخوذ اَز فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۵ ص۳۷۲ ) 
٭اِقامت اذان سے بھی زیادہ تاکیدی سنَّت ہے ۔   (دُرِّمُختار ج۲ص۶۸) 
٭اِقامت کاجواب دینامُسْتَحَب ہے ۔   (بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۳) 
٭اِقامت کے کَلِمات جلدجلدکہیں اوردرمیان میں سَکْتہ مت کیجئے ۔      (ایضاًص۴۷۰)   
٭اِقامت میں بھی حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃاور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح میں  (صَفحہ 11  پربیان کردہ طریقے کے مطابق ) دائیں  بائیں  منہ پھیریئے۔   (دُرِّمُختار ج۲ص۶۶) 
٭اِقامت اُسی کاحق ہے جس نے اذان کہی ہے ، اذان دینے والے کی اجاز ت سے دوسراکہہ سکتاہے اگربِغیراجازت کہی اورمُؤَذِّن ( یعنی جس نے اذان دی تھی اُس ) کو ناگوار ہو تو مکروہ ہے ۔  (عالمگیری ج۱ص۵۴) 
٭اِقامت کے وَقت کوئی شخص آیاتواُسے کھڑے ہوکرانتِظارکرنا مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے اِسی طرح جولوگ مسجِدمیں موجودہیں وہ بھی بیٹھے رہیں  اوراُس وَقت کھڑے ہوں  جب مُکَبِّر حَیَّ عَلَی الْفَلَاح پرپہنچے یِہی حکم امام کیلئے ہے۔     (ایضاًص۵۷، بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۱) 

میرے غوث اعظم" کے گیارہ حروف کی
نسبت سے اذان دینے کے 11 مستحَب مواقع

 {۱} بچّے  {۲} مغموم  {۳} مِرگی والے  {۴} غضبناک اوربدمزاج آدَمی اور  {۵} بد مِزاج جانورکے کان میں  {۶} لڑائی کی شدّت کے وقت {۷} آتَش زَدَگی  (آگ لگنے )  کے وقت {۸} میِّت دَفن کرنے کے بعد {۹} جِنّ کی سرکشی کے وَقت  (مَثَلاً کسی پر جِنّ سُوار ہو)   {۱۰} جنگل میں راستہ بھول جائیں اورکوئی بتانے والانہ ہو اُس وقت۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۶۶، رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۲)  نیز  {۱۱}  وَبا کے زمانے میں  بھی اذان دینا مُسْتَحَب ہے ۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۴۶۶، فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۵ص۳۷۰) 

مسجِد میں اذان دیناخِلافِ سُنَّت ہے

آج کل اکثرمسجِدکے اندر ہی اذان دینے کارَواج پڑگیاہے جوکہ خلافِ سنّت ہے ۔  ’’عالمگیری  ‘‘وغیرہ میں ہے اذان خارِجِ مسجِدمیں کہی جائے مسجِدمیں اذان نہ کہے ۔  ( عالمگیری ج۱ص۵۵) میرے آقا اعلٰی حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیِرطریقت، باعثِ خَیْروبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضاخان   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں : ایک بار بھی ثابت نہیں کہ حُضُورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسجِدکے اندراذان دلوائی ہو۔  سیِّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مزید فرماتے ہیں : مسجِد میں  اذان دینا  مسجِدو دربارِالٰہی کی گُستاخی وبے ادبی ہے۔  صحنِ مسجِدکے نیچے جہاں  جُوتے  اُتارے جاتے ہیں وہ جگہ خارِجِ مسجِدہوتی ہے وہاں اذان دینابِلاتکلُّف مطابِقِ سنّت ہے ۔  (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۵ص۴۱۲، ۴۱۱، ۴۰۸) جُمُعہ کی اذانِ ثانی جو آج کل ( خطبہ سے قبل)  مسجد میں  خطیب کے مِنبر کے سامنے مسجِدکے اندردی جاتی ہے یہ بھی خلافِ سنّت ہے ، جُمُعہ کی اذانِ ثانی بھی مسجِدکے باہَردی جائے مگر مُؤَذِّن خطیب کے سامنے ہو۔ 

سو شہیدوں کا ثواب کمائیے

سیِّدی اعلیٰ حضر ت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : اِحیائے سنّت عُلَماکاتو خاص فرضِ مَنْصَبی ہے اور جس مسلمان سے ممکِن ہواُس کیلئے حُکم عام ہے ، ہرشہرکے مسلما نو ں  کو چاہئے کہ اپنے شہریا کم ازکم اپنی اپنی مساجِد میں  ( پانچوں  نمازوں  کی اذان اور جمعہ کی اذانِ ثانی مسجِدکے باہَردینے کی) اس سُنَّت کوزندہ کریں اور سوسوشہیدوں کا ثواب لیں۔  رسولُ اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فَرمان ہے :’’جوفسادِاُمّت کے وقت میری سنّت کو مضبوط تھامے اسے سو شہیدوں  کا ثواب ملے ۔  ‘‘(اَلزُّھْدُ الْکبیر لِلبَیہَقی ص۱۱۸حدیث۲۰۷، فتاوٰی رضویہ    ج ۵ص۴۰۳)  اِس  مسئلے کی تفصیل کیلئے فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد5 ’’بابُ الْاذانِ وَالْاِقامۃ  ‘‘کامُطالَعَہ فرمائیے ۔ 

اذان سے پہلے یہ دُرُودِ پاک پڑھئے

اَذان واِقامت سے قبل بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم پڑھ کر دُرُو د وسلام کے یہ صِیغے پڑھ لیجئے : 
اَلصَّلوٰۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ الله        وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ الله
اَلصَّلوٰۃُ    وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ    یَا نَبِیَّ   الله              وَعَلٰی   اٰلِكَ  وَ اَصْحٰبِكَ  یَا نُوْرَ الله
پھردُرُودوسلام اوراذان میں فَصل (یعنی گیپ) کرنے کے لیے یہ اعلا ن کیجئے : ’’اذان کا اِحترام کرتے ہوئے گفتگو اورکام کاج روک کر اذان کا جواب دیجئے اور ڈھیروں  نیکیاں  کمائیے ۔   ‘‘اس کے بعد اذان دیجئے ۔  درود وسلام اور اِقامت کے درمِیان مسجِد میں یہ اعلان کیجئے :’’اِعتکاف کی نیّت کرلیجئے ، مَوبائل فون ہوتو بند کردیجئے ۔   ‘‘اذان واقامت سے قبل تَسمیہ اوردُرُودوسلام کے مخصوص صیغوں کی مَدَنی التجااس شوق میں کررہاہوں کہ اس طرح میرے لئے بھی کچھ ثوا بِ جارِیّہ کاسامان ہوجائے اورفَصل ( یعنی گیپ رکھنے )  کامشورہ فتاوٰی رضویہ کے فیضان سے پیش کیاہے ۔ چُنانچہِ ایک اِستِفتاء کے جواب میں امام اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ’’دُرُودشریف قبل اِقامت پڑھنے میں حَرَج نہیں  مگر اِقا مت سے فَصْل  (یعنی فاصِلہ یاعلیٰحَدگی) چاہئے یادُرُودشریف کی آواز، آوازِ اِقامت سے ایسی جدا  (مَثَلاً دُرُود شریف کی آوازاِقامت کی بہ نسبت کچھ پست) ہوکہ امتیاز ر ہے اورعوام کودُرُودشریف جُزءِ اِقامت (یعنی اِقامت کا حصّہ)  نہ معلوم ہو۔  ‘‘(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۵ص۳۸۶) 
وَسوَسہ: سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ ظاہری اوردَورِ خُلفائے راشِدین عَلَيهِمُ الّرِضْوَان میں اذان سے پہلے دُرُودشریف نہیں پڑھا جاتا تھا لہٰذا ایسا کرنا بُری بدعت اورگناہ ہے ۔  ( مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
جوابِ وَسوَسہ:اگریہ قاعِدہ تسلیم کرلیاجائے کہ جوکام اُس دور میں نہیں ہوتاتھاو ہ اب کرنابُری بدعت اورگناہ ہے توپھر فی زمانہ نظام دَرہم برہم ہوجائیگا۔  بے شمار مثالوں  میں سے فقط12مثالیں پیش کرتاہوں کہ یہ کام اُس مُبارَک دور میں  نہیں  تھے اوراب ان کوسب نے اپنایا ہواہے : {۱} قراٰنِ پاک پرنُقطے اور اِعراب حَجّاج بن یوسُف نے   ۹۵؁ ھ میں  لگوائے  {۲} اسی نے ختمِ آیات پرعَلامات کے طورپرنُقطے لگوا ئے {۳}  قراٰنِ پاک کی چھپائی  {۴} مسجِدکے وسط میں امام کے کھڑے رہنے کیلئے طاق نُما محراب پہلے نہ تھی وَلید مروانی کے دَورمیں حضرت سیِّدُناعمربن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَفیظ  نے اِیجاد کی۔  آج کوئی مسجِد اس سے خالی نہیں  {۵} چھ کلمے  {۶} علمِ صَرف ونَحو  {۷}  علمِ حدیث اور احادیث کی اَقسام  {۸} درسِ نظامی  {۹} شریعت وطریقت کے چارسلسلے  {۱۰} زَبان سے نَمازکی نیّت {۱۱} ہوائی جہاز کے ذَرِیعے سفرِحج  {۱۲}  جدید سائنسی ہتھیاروں  کے ذَرِیعے جہاد۔ یہ سارے کام ا ُس مبارَک دَورمیں نہیں تھے لیکن اب انہیں کوئی گناہ نہیں  کہتا توآخراذان واقامت سے پہلے میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پردُرُودوسلام پڑھنا  ہی کیوں  بُری بدعت اورگناہ ہوگیا!یاد رکھئے کسی معاملے میں  عدمِ جوازکی دلیل نہ ہونا خود دلیلِ جواز ہے ۔  یقینا ، یقینا ، یقینا ہروہ نئی چیزجس کوشَریعت نے مَنع نہیں کیاوہ مُباح اور جائزہے اوریہ امرِمُسَلَّم ہے کہ اذان سے پہلے دُرُودشریف پڑھنے کوکسی بھی حدیث میں  مَنع نہیں کیاگیا لہٰذامَنع نہ ہونا خودبخود ’’اِجازت ‘‘بن گیااور  اچھی اچھی باتیں  اسلا م میں ایجادکرنے کی توخودمدینے کے تاجوَر، نبیوں کے سرور ، حُضُورِانور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نے ترغیب ارشادفرمائی ہے اور’’مسلم ‘‘کے باب ’’کتابُ العلم ‘‘میں  سلطا نِ دوجہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی    کایہ فرمانِ اجازت نشان موجودہے :
مَنْ سَنَّ فِی الْاِ سْلامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَایَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئٌ۔    (صَحیح مُسلِم ص۱۴۳۷حدیث۱۰۱۷)  
جس شخص نے مسلمانوں  میں  کوئی نیک طریقہ جاری کیا اور اسکے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا تو اس طریقے پر عمل کرنے والوں  کا اجر بھی اس  ( یعنی جاری کرنے والے ) کے نامۂ اعمال میں  لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں  کے اَجر میں  کمی نہیں  ہوگی۔ 
مطلب یہ کہ جو اسلام میں  اچھّا طریقہ جاری کرے وہ بڑے ثواب کا حقدار ہے توبلاشُبہ جس خوش نصیب نے اذان واقامت سے قبل دُرُود وسلام کا رَواج ڈالا ہے وہ بھی ثوابِ جارِیّہ کا مستحق ہے ، قِیامت تک جومسلمان اِس طریقے پرعمل کرتے رہیں گے اُن کوبھی ثواب ملے گا اورجاری کرنے والے کو بھی ملتارہے گااور دونوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں  ہوگی۔ 
     ہوسکتا ہے کسی کے ذِہن میں  یہ وسوسہ آئے کہ حدیثِ پاک میں  ہے : کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَّ کُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّاریعنی ہر بدعت  (نئی بات)  گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنَّم میں    (لے جانے والی)  ہے ۔  (صَحیح اِبن خُزَیمہ ج۳ص۱۴۳حدیث۱۷۸۵)  اِس حدیث شریف کے کیا معنیٰ ہیں  ؟  اس کا جواب یہ ہے کہ حدیثِ پاک حق ہے ۔  یہاں  بدعت سے مُراد بدعتِ سیِّئَۃ یعنی بُری بدعت ہے اور یقینا ہر وہ بدعت بُری ہے جو کسی سنّت کے خِلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہو ۔  چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا شیخ عبد الحق مُحدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  : جو بدعت اُصول اور قواعدِ سنّت کے موافِق اور اُس کے مطابِق قِیاس کی ہوئی ہے  ( یعنی شریعت و سنّت سے نہیں  ٹکراتی)  اُس کو بدعتِ حَسَنہ کہتے ہیں  اور جو اس کے خِلاف ہو وہ بدعت گمراہی کہلاتی ہے ۔  (اَشِعَّۃُ اللَّمعات ج۱ص۱۳۵) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اب ایمان کی حفاظت کیلئے کڑھتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  692 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’کفریہ کلمات کے بارے میں  سوال جواب ‘‘صَفْحَہ359تا362کا مضمون مُلاحظہ فرمایئے :

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن