30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃُ اللہ علیہ سے اس طرح کا سوال کیا گیا کہ ایک حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانَعَت آئی اور دوسری حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی فضیلت آئی،ان دونوں روایتوں میں تَطْبِیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا؟اس کے جواب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ناخن کاٹنے سے متعلق کسی دن کوئی ممانعت نہیں،اس ليے کہ دن کی تَعْیِیْن میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں،البتّہ بعض ضعیف حدیثوں میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت ہے،لہٰذا اگر بدھ کا دن وجوب کا دن آجائے مثلاً اُنتالیس دن سے نہیں تراشے تھے،آج بدھ کو چالیسواں دن ہے،اگر آج نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے، اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے اور اگر مذکورہ صورت نہ ہو تو بدھ کے علاوہ کسی اور دن تراشنا مناسب کہ جانبِ منع کو ترجیح رہتی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،22/685 ملخصاً)
نیا کام بدھ کے دن شروع کیا جائے
کوئی نیا کام شروع کرنا ہو تو اس کے لئے بھی بدھ کا دن بہت ہی بابرکت ہے ۔حدیثِ پاک میں ہے : مَا بُدِئَ بِشَیْ ءٍ یَوْمَ الْاَرْبَعَاءِ اِلَّا تَمَّ یعنی کوئی ایسا عمل نہیں جس کی ابتدا بدھ سے ہوئی ہو اور وہ مکمل نہ ہواہو۔(کشف الخفاء، 2/163،تحت الحدیث: 2189) اُمّت کے جلیلُ القدر عُلَما درس وتدریس کے معاملے میں بھی اس حدیثِ پاک پر عمل کیا کرتے تھے ۔ جیساکہ حضرت ِ شیخ بُرہانُ الدّین زرنوجی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہمارے استاد شیخ ُالْاِسلام بُرہانُ الدّین (صاحِبِ ہِدایہ) رحمۃُ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ آپ سبق بدھ ہی کے روز شروع فرمایا کرتے تھے اور اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع