دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Auliya | فیضان اولیا

hazrat sayedatuna rabia basriya ke sawalat

book_icon
فیضان اولیا
            

حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ کے چار سوالات

منقول ہے کہ جب حضرت سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا توحضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی نے اپنے چند احباب کے ساتھ اُن کے پاس آنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی اور ایک پردہ درمیان میں حائل کر کے اس کے پیچھے بیٹھ گئیں۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کے دوستوں نے استفسار کیا: '' آپ کے شوہر انتقال فرما چکے ہیں،لہٰذا اب آپ کو نکاح کر لینا چاہے۔''حضرت سیِّدَتُنا رابعہ عَدْوِیہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے فرمایا: ''میں تمہاری رائے کا احترام کرتے ہوئے بڑی محبت و عزَّت سے نکاح کرلوں گی، لیکن مجھے یہ بتائیے کہ آپ میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟تاکہ میں اس سے نکاح کروں۔'' وہ بولے: ''حضرت سیِّدُنا حسن بصری ( رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )۔'' پھرکہنے لگیں: ''اگر آپ میرے چار سوالات کے جوابات دے دیں تو میں آپ سے نکاح کر لوں گی۔''حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''پوچھو، اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو جواب دوں گا۔چنانچہ، انہوں نے درج ذیل سوالات کئے: (1)فقیہہ، عالِم کیا کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤں گی تو کیا دُنیاسے مسلمان جاؤں گی یا کافرہ؟ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً فرمایا:''یہ تو غیب ہے، جسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (2)جب مجھے قبر میں رکھا جائے گا اور منکر نکیرسوالات کریں گے تو میں جوابات دے پاؤں گی یا نہیں؟ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''یہ بھی غیب ہے۔ (3)جب لوگ قیامت میں اٹھیں گے، اور اعمال نامے کھول کر بعضوں کے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور بعضوں کے بائیں ہاتھ میں،تو کیا میرا نامہ اعمال مجھے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا یا اُلٹے میں؟ توحضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی نے پھر یہی جواب دیا کہ'' یہ بھی غیب ہے۔ (4)جب تمام مخلوق میں سے ہر جنتی اور دوزخی گروہ کو پکارا جائے گااور بلایا جائے گا تو میں کس گروہ میں سے ہوں گی؟ تو اس کے جواب میں بھی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہی فرمایا :''یہ بھی غیب ہے،اور غیب کو اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس کے بعدحضرت سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے ارشادفرمایا : ''جب معاملہ ایسا ہے (یعنی جب دنیا سے مسلمان رُخصت ہونے،نکیرین کے سوالات کے جوابات دینے،نامہ اعمال کے دائیں ہاتھ میں ملنے اور جنّتی گروہ میں شامل ہونے کا علم نہیں)تو میں اس کی وجہ سے سخت پریشان و مضطرب ہوں لہٰذا مجھے کیسے شوہر کی حاجت ہوسکتی ہے اورکیسے اس کے لئے فارغ وقت نکال سکتی ہوں۔(الروض الفائق فی المواعظ و الرقائق،المجلس السابع و العشرون ، فیما یجلو القلوب من القسوۃ :بذکر اخبار النسوۃ،ص ۱۴۷ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ تعالیٰ کے اولیاءکی اپنی تو عبادت قبول ہوتی ہی ہے مگر وہ دوسروں کی عبادت کی قبولیت کا سبب بھی بنتے ہیں کہ بعض دفعہ ان کی وجہ سے دوسروں کی بھی عبادت قبول کر لی جاتی ہے جیسا کہ

ایک محبوب بندی کے طفیل سب کاحج قبول ہو گیا

حضرتِ سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے ننگے پاؤں، پیدل بیت اللہ شریف کا حج کیا۔ اللہ عزوجل اُن کو جو بھی کھانا عطا فرماتا آپ اُس کو ایثار کر دیتیں۔ کعبۃ اللہ المشرَّفہ پہنچتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ ہوش میں آنے کے بعد اپنے رخسار کو بیت اللہ شریف پر رکھ کرعرض کی: ’’یہ تیرے بندوں کی پناہ گاہ ہے اور تو اُن سے محبت کرتا ہے اب تو آنکھوں میں آنسو ختم ہوگئے ہیں۔‘‘ پھرطواف کیا، سعی کرنے کے بعدجب وقوفِ عرفہ کا ارادہ کیا تو حائضہ ہو گئیں۔ روتے ہوئے عرض گزار ہوئیں: ’’ اے میرے مالک و مولیٰ عزوجل ! اگر یہ معاملہ تیرے غیر کی طرف سے ہوتاتو میں ضرور تیری بارگاہ میں شکایت کرتی اب جبکہ یہ سب کچھ تیری مشیئت سے ہوا ہے تو اب کیسے شکایت کر سکتی ہوں ؟‘‘ پس اُنہوں نے ہاتف ِ غیبی کو یہ کہتے سنا: ’’اے رابعہ! ہم نے تیرے سبب تمام حاجیوں کا حج قبو ل کرلیا اور تیری اِ س کمی کی وجہ سے اُن کے نقائص بھی پورے کر دیئے۔ ( الروض الفائق فی المواعظ و الرقائق،المجلس الثامن ،فی ذکر حجاج بیت اللہ الحرام۔۔۔۔الخ،ص ۶۰ ،دار احیاء التراث العربی بیروت ) سبحان اللہ ! مشہور ولیہ حضرتِ سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا نے ننگے پاؤں پیدل حج کیا اور آپ نے ملاحظہ کہ فرمایا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کو جو بھی کھانا بفضلِ ربِّ انام عزوجل عطا ہوتا آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا اُسے ایثار فرما دیتیں۔ بارگاہِ رَبُّ العزت میں ولیوں کی وجاہت دیکھئے کہ اِن کے صدقے میں لوگوں کے حج اور نیک اعمال قبول کیے جاتے ہیں۔ تجھے واسِطہ سارے ولیوں کا مولی میری بخش دے ہر خطا یا الہٰی

سیدہ رابعہ کا وصال باکمال

سیدہ رابعہ عدویہ کے متعلق ان کی خادمہ نے بیان کیا ’’رابعہ تمام رات طلوع فجر تک نماز پڑھتی تھیں ،پھر کچھ وقفہ کے لئے مصلیٰ پر لیٹ جاتیں ۔اچانک گھبرا کر بیدار ہوتیں اور کہتیں ’’اے نفس !کب تک سوتا رہے گا اور عبادت کے لئے نہیں اُٹھے گا؟ وہ وقت قریب ہے جب ایسی نیند سونا ہے کہ پھر صور قیامت ہی سے بیداری ہو گی۔ ان کی یہ ہی حالت اخیر دم تک رہی۔ وفات کا وقت قریب آیا تو مجھے بلا کر اون کا ایک جبہ دکھایا اور کہا ’’انتقال کے بعد مجھے اسی کا کفن دینا اور کسی کو میرے مرنے کی خبر نہ دینا ‘‘ وہ جبہ وہ ہی تھا جسے وہ تہجد کے وقت پہنا کرتی تھیں ۔ چنانچہ انہیں میں نے اسی جبہ اور ایک اونی چادر کا کفن دیا اسی شب وہ مجھے خواب میں نظر آئیں ۔ میں نے دیکھا کہ وہ سبز ریشمی اوڑھنی زیب تن کیے ہوئے ہیں ۔ میں نے پوچھا ’’ وہ جبہ اور اوڑھنی کا کیا ہوا؟ ’’ فرمایا میرا وہ جبہ اور اوڑھنی سر بمہر اعلیٰ علیین میں رکھا گیا ہے تاکہ روز حشر مجھے اس کا ثواب عطا ہو اور رب کائنات نے اس کے بدلے مجھے یہ لباس عنایت فرمایا ہے۔( روض الریاحین ،ص ۱۷۵ ،الحکای ۃ السابع ۃ و الثمانون بعد المائ ۃ ،عن خادم ۃ رابع ۃ العدوی ۃ رضی اللہ عنہا،المکتب ۃ التوقیفی ۃ ،مفہوما ) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ابھی آپ نے حضرت رابعہ بصریہ کے بارے میں ملاحظہ فرمایا ۔آئیے اب ایسی ہی ایک اور باکرامت اللہ کی ولیہ کے بارے میں پڑھتے ہیں چنانچہ

(3)بھیڑیوں اور بکریوں میں صلح

حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’ میں 3 روز رات کے وقت اللّٰہ عزوجل کی بارگاہ میں یہی اِلتجا کرتا رہا کہ وہ مجھے جنت میں میرا رفیق دکھادے تو میں نے دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے:’’ اے عبدا لواحد! جنت میں تیری رفیق میمونہ سوداء ہو گی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا :’’وہ کہاں رہتی ہیں؟‘‘ تومجھے بتایاگیاکہ وہ کوفہ کے فُلاں قبیلے میں رہتی ہے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں شہرِ کوفہ چل پڑا۔ میمونہ سوداء کے متعلق لوگوں سے دریافت کیا لوگوں نے مجھے کہا کہ ’’وہ تو دیوانی ہے اور ہماری بکریاں چراتی ہے۔‘‘ میں نے لوگوں سے کہا: ’’میں اُس سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ لوگو ں نے کہا: ’’آپ پہاڑکی طرف جائیں شاید وہاں آپ کو میمونہ سوداء مل جائے۔‘ ‘ حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے وہاں جاکر دیکھا کہ میمونہ سوداء رحمۃ اللہ تعالی علیہا اپنے سامنے ڈنڈا بطورِ سُترہ نصب کئے نماز میں مشغول تھی، اُس پر اُون کا جبہ لٹک رہا تھا جس پر لکھا تھا: ’’یہ خرید وفروخت کے لئے نہیں۔‘‘ اور یہ بھی دیکھا کہ بکریاں بھیڑیوں کے ساتھ مل کرچر رہی ہیں۔ نہ توبھیڑیئے اِن پر حملہ کرتے ہیں اور نہ ہی بکریاں بھیڑیوں سے ڈرتی ہیں۔ حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں جب میمونہ سوداء رحمۃ اللہ تعالی علیہا نے مجھے پایا تو نماز مختصر کر کے کہا: ’’لوٹ جائیے، اے ابن زید! واپس چلے جائیے، وعدے کی جگہ یہاں نہیں جنت ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں میں نے کہا: ’’ اللّٰہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے! آپ کو کس نے بتایا کہ میں ابن زید ہوں؟‘‘ کہا: ’’آپ کو معلوم نہیں کہ روحیں ایک اِکٹھا لشکر تھیں، جوایک دوسرے سے متعارف ہو گئیں، وہ باہم محبت کرتی ہیں اورجنہوں نے ایک دوسرے کونہ پہچانا وہ الگ رہتی ہیں۔‘‘ پھر میں نے اُس سے کہا:’’مجھے نصیحت کرو؟‘‘ تو اُس نے کہا:’’تعجب ہے! نصیحت کرنے والے کوبھی بھلا نصیحت کی جائے گی۔ بہرحال اے ابن زید!اگر تم اپنے اعضاء پر عدل کی کَسَوٹی نافذکر لو تو میں تمہیں اپنے اعضاء میں چھپے ہوئے ایک راز سے آگاہ کرتی ہوں، اے ابن زید! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جس بندے کو دنیا کی کوئی شئے عطا کی گئی پھر اس کو دوسری مرتبہ اُس نے طلب کیا تو اللّٰہ عزوجل اِس کے ساتھ ہی خلوت کی محبت اُس سے سلَب کر لیتا ہے اور اُس کو قرب کے بدلے جدائی اور اُنس کے بدلے وحشت دے دیتا ہے۔‘‘ پھر میمونہ سوداء رحمۃ اللہ تعالی علیہا نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:اے واعظ! تو خود نافرمان ہے اور لوگوں کو گناہوں سے روکتا اور ڈانٹتا ہے۔ حقیقت میں تو ہی بیمار و کمزور ہے کہ گناہوں کو ناپسند کرنے والے سے اِن کاوقوع بڑا ہی عجیب ہے۔ اے میرے رفیق! اگرتو نے جلد ہی اپنے اِن عیوب سے داغدار ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرلی اور اپنے رب عزوجل سے صلح کر لی تو جان لے کہ تو جو بھی کہے گااُس کا مقام ومرتبہ دلوں میں سچا ہو گا۔ لیکن اِس وقت تیری حالت یہ ہے کہ تو دوسروں کو توگمراہی وسرکشی سے منع کرتاہے اور خود شک میں مبتلا ہے۔اشعار کہنے کے بعدجب میمونہ سوداء رحمۃ اللہ تعالی علیہا خاموش ہوئی تومیں نے اُس سے استفسار کیا: ’’میں اِن بھیڑیوں کو بکریوں کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ نہ بکریاں، بھیڑیوں سے ڈرتی ہیں اور نہ ہی بھیڑیئے بکریوں کوکھاتے ہیں۔‘‘تو اُس نے کہا:’’میں نے اپنے اور اپنے مالک کے درمیان رکاوٹ کو دور کرکے اُس سے صلح کر لی تو اُس نے بھی بھیڑیوں اور بکریوں کے درمیان رکاوٹ دور کرکے اُن کی صلح کروا دی۔ ( الروض الریاحین ، الحکای ۃ السابع ۃ و العشرون ،ص ۵۸ ، المکتب ۃ التوفیقیہ،مفہوما ) میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اللہ والوں کی شان دیکھئے کہ دنیا میں رہتے ہوئے جنت میں اپنے رفیق کے متعلق پوچھتے ہیں اور اِن کی رہنمائی بھی کی جاتی ہے، اللہ عزوجل کی ولیہ حضرتِ سیدتنا میمونہ سوداء رحمۃ اللہ تعالی علیہا کی شان بھی ملاحظہ فرمائیے کہ بھیڑئیے اور بکریاں اِکٹھے چرا رہیں ہیں اور حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو آتے ہی بغیر تعارف کے اُن کا نام لے کر پکارتی ہیں اور جنت کی رفاقت کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔ یاد رہے! کہ اولیاء عظام رحمہم اللہ السلام کو سیدالانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طفیل علمِ غیب عطا کیا جاتا ہے۔

(4)بابا فرید کی والدہ محترمہ

آپ بہت ہی بزرگ اور بڑی مستجاب الدعوات تھیں ۔شیخ فرید الدین نے جب اجودھن(پاک پتن)میں سکونت اختیار کر لی تو شیخ نجیب الدین متوکل سے کہا جاؤ ہماری والدہ محترمہ کو دہلی سے لے آؤ۔شیخ نجیب الدین دہلی روانہ ہو گئے ۔چنانچہ شیخ گنج شکر کی والدہ کو لا رہے تھے کہ راستہ میں پیاس لگی آپ ان کو کسی درخت کے سایہ میں بٹھا کر خود پانی کی جستجو میں نکلے۔واپس جب آئے تو دیکھا کہ والدہ موجود نہیں ہیں ،پریشان ہو گئے اور تمام واقعہ شیخ فرید الدین سے جا کر بیان کر دیا۔ شیخ فرید الدین نے ایصال ثواب کے لئے کھانا پکوانے کا حکم دے دیا۔کچھ عرصہ بعد شیخ نجیب الدین کا اس راستہ سے گذر ہوا جب اس درخت کے پاس آئے تو خیال آیا کہ شاید والدہ کا کچھ پتہ ملے لیکن اس درخت کے نیچے ان کو کچھ ہڈیاں ملیں جو کسی آدمی کی معلوم ہوتیں تھیں ۔انہوں نے ان ہڈیوں کو اُٹھا کو اپنے تھیلہ میں ڈال لیا اور دل میں کہا والدہ ماجدہ کو شایدکسی شیر نے مار ڈالا ۔غرض کہ وہ ہڈیوں کا تھیلہ لئے شیخ کے پاس آئے اور پھر پورا ماجرا بیان کیا۔اس پر شیخ گنج شکر نے فرمایا’’لاؤ تھیلہ لاؤ جب وہ تھیلا کھول کر جھٹکا گیا تو اس میں سے ہڈی کا چورا تک نہ نکلا۔(اخبار الاخیار مع مکتوبات ،فصل ذکر بعضے ازنسائے صالحات،والدہ شیخ فرید الدین شکر گنج ،ص ۲۹۶، النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی مرکز الاو لیاء لاہور)

(5)سیدہ ریحانہ کوفیہ

حضرت ابو الربیع کا بیان ہے ’’ میں ،(محمد بن منکدر)اور ثابت بنانی ایک شب ریحانہ مجنونہ کے پاس رہے تو ہم نے دیکھا کہ ابتدائے شب میں کھڑی ہوئیں اور مسرت و شاد مانی کے انداز میں یہ شعر پڑھا: قام المحب الی المومل قومۃ کاد الفواد من السرور یطیر ترجمہ:محب اپنے مرجع امید کے آگے اس طرح کھڑا ہے کہ اس کا دل خوشی سے اڑتا جا رہا ہے ۔ آدھی رات ہوئی تو ان کی زبان پر یہ اشعار تھے: لا تانس بمن توحشک نظرتہ فتمنعن من التذکار فی الظلم واجھد و کدو کن فی الیل ذا شجن بسقیک کاس و داد العز و الکرم ترجمہ :اُس سے الفت نہ رکھ جس کے نظر اٹھانے سے تجھے وحشت ہو جائے کیونکہ یہ شے اندھیروں میں تجھے ذکر سے روک دے گی اور راہ حق میں محنت و مشقت کر اور رات کو غمزدہ رہ ، اس کے عوض اللہ تعالیٰ تجھے اپنی دوستی اور بخشش کے جام سے نوازے گا۔اور جب صبح کا وقت قریب ہوا تو حسرت و یاس سے آہ بھرنے لگیں اور نالہ کرنے لگیں ۔میں نے سبب پوچھا تو فرمایا: ذھب الظلام بانسہ و بالفہٖ لیت الظلام بانسہ یتجدد ترجمہ:رات اپنی تاریکی کے ہمراہ اپنے انس اور محبت کو بھی لے گئی ۔ کاش ! یہ تاریکی اسی انس کے ساتھ بار بار آتی ۔( روض الریاحین ،الحکایۃ الثامنہ و العشرون ،ص ،۵۹ ، المکتبۃ التوقیفیہ )

(6)ایک خدا شناس مجنونہ

حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی کہ جبلِ مقطم کے قریب ایک عابدہ لڑکی رہتی ہے۔ میں نے چاہاکہ میں اُس کی بارگاہ میں حاضری کروں۔ چنانچہ، میں اُس پہاڑ کے قریب جاکر تلاش کرتا رہا لیکن وہ نہ ملی، میری ملاقات عابدوں کی ایک جماعت سے ہوئی، میں نے اُن سے اُس کے متعلق دریافت کیا تو وہ کہنے لگے:’’تم ایک مجنونہ کے بارے میں پوچھتے ہو اور عقل مندوں کے متعلق نہیں پوچھتے؟‘‘ میں نے کہا:’’ مجھے اُسی کے متعلق بتاؤ، اگرچہ وہ مجنونہ ہے۔‘‘ پھر وہ کہنے لگے: ’’ہم اُسے اپنے قریب سے گزرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ کبھی گرتی ہے تو کبھی کھڑی ہو جاتی ہے، کبھی چیخ و پکار کرتی ہے تو کبھی خاموش ہوجاتی ہے،کبھی روتی ہے تو کبھی ہنستی ہے۔‘‘میں نے کہا:’’مجھے اُس کا پتہ بتاؤ۔‘‘ تو اُن میں سے ایک نے بتایا کہ ’’آپ فلاں وادی میں چلے جائیں۔‘‘ چنانچہ، میں اُس کی تلاش میں چل پڑا۔ جب میں اُس کے قریب پہنچا تو اُسے دھیمی دھیمی آواز میں چند اشعار پڑھتے سنا، جن کا مفہوم یہ تھا:”اے وہ ذات جس کے ذکر سے دل اُنس حاصل کرتے ہیں! مخلوق سے کنارہ کش ہو کر میری اُمیدصرف تیری ہی ذاتِ کریمانہ ہے۔اے وہ ذات کہ تمام لوگ جس کے بندے ہیں! زمانہ گزر جائے گا مگر تیری محبت دلوںمیں ہر دم ترو تازہ رہے گی۔حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ میں اُس آواز کے پیچھے چل پڑا تو ایک لڑکی کو پایا، جو کہ بہت بڑی چٹان پر بیٹھی تھی۔ میں نے اُسے سلام کیا تو وہ جواب دینے کے بعد کہنے لگی: ’’اے ذوالنون! کیا بات ہے؟ ایک مجنونہ کو ڈھونڈ تے ہو؟‘‘ حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا: ’’کیاتم مجنونہ ہو؟‘‘ بولی: ’’جی ہاں،اگر میں مجنونہ نہ ہوتی تو مجھے ایسا کیوں کہا جاتا؟‘‘ فرمایا میں نے پوچھا: ’’کس وجہ سے تم مجنونہ ہو گئی ہو؟‘‘ اُس نے جواب دیا:’’اے ذوالنون! محبوب ِحقیقی عزوجل کی محبت نے مجھے باندھ رکھا ہے اور اُسی کے عشق نے مجھے بے چین کر دیا ہے۔‘‘ فرمایا میں نے پوچھا: ’’تمہارے عشق و محبت کا مقام کیا ہے؟‘‘ بولی: ’’اے ذوالنون! محبت و عشق کامقام دل ہے اور وجد کا مقام باطن ہے۔‘‘ پھر وہ شدید گریہ کناں ہوئی (یعنی بہت زیادہ رونے لگی)، یہاں تک کہ اُس پر غشی طاری ہوگئی ۔جب اِفاقہ ہوا تو شدتِ محبت سے ایک آہِ سرد دِل پُردردسے کھینچتے ہوئے کہا: ’’اے ذوالنون!محبوبِ حقیقی عزوجل سے محبت کرنے والوں کی موت یوں آتی ہے۔‘‘ پھر ایک زور دار چیخ مار کر زمین پر گر گئی، میں نے اُسے ہِلا جُلا کر دیکھا تو اُس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔(الروض الفائق فی المواعظ و الرقائق،المجلس السابع والعشرون ، فیما یجلو القلوب من القسوۃ :بذکر اخبار النسوۃ،ص ۱۵۰دار احیاء التراث العربی بیروت) محبت میں اپنی گما یاالہٰی نہ پاؤں میں اپنا پتہ یاالہٰی تُوں اپنی ولایت کی خیرات دے دے وسیلہ میرے غوث کا یاالہٰی

(8)حضرتِ سیدتنا رابعہ بنت اسماعیل

حضرتِ سیدتنا رابعہ بنت اسماعیل رحمۃ اللہ تعالی علیہا ساری رات قیام فرماتیں اور روزانہ بلاناغہ روزہ رکھتیں، فرمایا کرتیں میں نے بہت مرتبہ بہت سے جنات کو آتے جاتے دیکھا ہے، میں نے کئی دفعہ حورعین کو دیکھا ہے وہ مجھے دیکھ کر شرماتی ہیں اور اپنی آستینوں سے مجھ سے چھپتی اور پردہ کرتی ہیں، ایک بار حضرتِ سیدتنا رابعہ بنت اسماعیل رحمۃ اللہ تعالی علیہا کی خدمتِ اقدس میں ایک تھال پیش کیا گیا توآپ کی زبانِ حقِ ترجمان سے نکلا یہ تھال مجھ سے دُور کر دو کیونکہ اِس پر لکھا ہوا ہے کہ ہارون الرشید کا انتقال ہو گیا ہے۔ جب لوگوں نے معلوم کیا تو واقعی اُسی دن ہارون الرشید کا انتقال ہوا تھا۔(جامع کرامات اولیاء ،حر ف الراء ،رابعۃ بنت اسماعیل ،۲/ ۵۹ ، دار الکتب العلمیہ بیروت )

(9)سیدہ رابعہ شامیہ

حضرت احمد بن ابو الحواری اپنی زوجہ روبعہ شامیہ کے متعلق فرماتے ہیں ’’ان کے متعد د حالات تھے کبھی حب کا غلبہ ہوتا‘کبھی موانست کا اور کبھی خوف کا غلبہ ۔ محبت کے عالم میں میں نے انہیں یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا: حبیب لیس یعد لہ حبیب وما لسواہ فی قلبی نصیب حبیب غاب عن بصری و شخصی ولکن عن فوادی مایغیب ترجمہ :مرے حبیب سا جگ میں کوئی حبیب نہیں سوائے اس کے کوئی مرے درد کا طبیب نہیں ،مری نگاہ سے وہ خواہ دور ہو لیکن غلط ہے یہ کہ وہ دل سے مرے قریب نہیں۔جب کبھی ان پر انس غالب ہوتا تو اس حالت میں یہ اشعار پڑھتیں : ولقد جعلتک فی الفواد محدثی وابحت جسمی من اراد جلوسی فالجسم منی للجلیس موانس و حبیب قلبی فی الفواد انیسی ترجمہ:میں نے دل میں تجھے اپنا ہم کلام بنایا اور جسم کو ہم نشین کا حق ادا کرنے کے لئے رکھا میر اجسم جلیس کےساتھ موانست رکھتا ہے اور دل میں دل کا حبیب میرامونس ہے۔حالت خوف کا غلبہ ہوتا تو اس وقت انہیں یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا : وزاد ی قلیل ما ھومبلغی للزاد ابکی ام لطول مسافتی اتحرقنی بالنار یا غایۃ المنی فاین رجائی فیک این مخافتی ترجمہ:میرے پاس تو شہ کم ہے امید نہیں کہ اس سے منزل تک رسائی ہو ۔زاد راہ کم ہونےپر روؤں یا مسافت زیادہ ہونے پر روؤں ۔میرے معبود حقیقی :کیا تو مجھے آگ میں جلائے گا اس وقت میری امید اور میرا خوف کہا جائے گا ۔ حضرت شیخ احمد فرماتے ہیں میں نے ان سے کہا ساری رات نماز پڑھتے تمہارے سوا میں نے کسی کو نہیں دیکھا تو انہوں نے کہا سبحان اللہ ! آپ جیسا شخص ایسی بات کہہ رہا ہے ۔حالانکہ میرا حال یہ ہے کہ مجھے جب آواز دی جاتی ہے اس وقت میں قیام لیل کے لئے اٹھتی ہوں ‘ایک روز میں ان کی عبادت کے وقت کھانا کھانے بیٹھا تو مجھ سے ذکر آخرت شروع کر دیا اس پر میں نے کہا مجھے اچھی طرح کھا لینے دو ۔اس پر بولیں ہم تم ایسے تو نہیں کہ آخرت کی یاد سے ہمارا کھانا بدمزہ ہو ۔میں تم سے خاوندوں اور شوہروں جیسی نہیں بلکہ بھائیوں جیسی محبت کرتی ہوں اور جب کوئی کھانا تیار کرتیں تو کہتیں :اے میرے سردار !کھاؤ یہ تسبیح سے تیار شدہ کھانا ہے۔ ایک دفعہ مجھ سے کہا نکاح کرو میں تین نکاح کیے۔ مجھے کھانے میں گوشت دیتی تھیں اور کہتی تھیں اپنی طاقت اور قوت اپنی بیویوں پر صرف کرو۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ مجھے اکثر جن اور حوریں دکھائی دیتی ہیں۔( روض الریاحین،حکای ۃ الثامن ۃ والثمانون بعد المائ ۃ ،ص ۱۷۶ ،مطبوعہ المکتبۃ التوقیفیہ،مفہوما )

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن