دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Auliya | فیضان اولیا

murde zinda karnay walay auliya kiram ka tazkira

book_icon
فیضان اولیا
            

مردے زندہ کرنے والے اولیا

درود پاک کی فضیلت

امیرِ اہلسنت حضرت علاّ مہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’خودکشی کا علاج ‘‘میں درودپا ک کی فضیلت لکھتے ہیں: حضرتِ اُبَیِّ بْنِ کَعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ( فرائض وغیرہ کے علاوہ )میں اپنا سارا وَقْت دُرُود خوانی میں صَرف کرونگا۔ تو سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،ــ’’یہ تمہاری فِکروں کو دُور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ (ترمذی ،ابواب صفۃ القیامۃ والرقاق و الورع،الحدیث:۲۴۵۷،ص۵۸۳، دار الکتب العلمیۃ ) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے ملاحظہ کیا کہ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فکروں کو ختم کرنے کے لئے کتنا پیارا نسخہ ارشاد فرمایا کہ آج ہم میں سے ہر دوسرا بندہ ذہنی فکروں میں الجھا ہوا ہے ہر ایک کو ہر وقت دنیاوی فکر لاحق رہتی ہے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس عالمگیر پریشانی کا حل ارشاد فرمایا کہ درود پاک کی کثرت ایسا عمل ہے کہ اس کے ذریعہ فکریں دور ہوتی ہیں اور گناہوں میں کمی ہوتی ہے لہذا ہمیں دنیاوی فکروں سے جنات حاصل کرنے کے لئے درود پاک کی کثرت کرنی ہو گی۔ لائیں گے میری قبر میں تشریف مصطَفے عادت بنا رہاہوں دُرُود وسلام کی صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ عَلٰی مُحَمّد

کیا بندہ مردہ زندہ کرسکتا ہے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے شک موت وحیات اللہ عزوجل کے اختیار میں ہے لیکن اللہ عزوجل اپنے کسی بندے کو مردے جلانے )زندہ کرنے)کی طاقت بخشے تو اس کے لئے کوئی مشکل بات نہیں ہے اور اللہ عزوجل کی عطا سے کسی اور کو ہم مردہ زندہ کرنے والا تسلیم کریں تو اس سے ہمارے ایمان میں کوئی اثر نہیں پڑتا،اگر شیطان کی باتوں میں آکر کسی نے اپنے ذہن میں یہ بٹھا لیا ہے کہ اللہ عزوجل نے کسی اورکو مردہ زندہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی تو اُس کا یہ نظر یہ یقینا حکم قرآنی کے خلاف ہے ،دیکھئے ! قرآن پاک میں حضرت سیّدنا عیسیٰ روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے مریضوں کو شفا دینے اورمردے زندہ کرنے کی طاقت کا صاف صاف اعلان کر رہاہے جیساکہ پارہ 30،سورہ آل عمران کی آیت 49میں حضرت سیّدنا عیسیٰ روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد نقل کیا گیاہے : وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ (پ3،آل عمران:49) ترجمہ کنزالا یمان:اور میں شِفا دیتا ہوں مادَر زاد اندھوں اور سپید داغ والے(یعنی کوڑھی)کواور میں مُردے جِلاتا ہوں اللہ کے حکم سے۔“ اُمیدہے کہ شیطان کا ڈالا ہوا وسوسہ جڑ سے کٹ گیاہوگا،کیوں کہ مسلمان کا قرآن پاک پر ایمان ہوتا ہے اوروہ حکمِ قرآنی کے خلاف کوئی دلیل تسلیم کرتاہی نہیں۔بہر حال اللہ عزوجل اپنے مقبول بندوں کو طرح طرح کے اختیارات سے نوازتا ہے اوران سے ایسی باتیں صادر ہوتی ہیں جو عقلِ انسانی کی بلندیوں سے وراء الوَرا ہوتی ہیں۔یقینا اہل اللہ کے تصرّفات واختیارات کی بلندی کو دنیا والوں کی پرواز ِ عقل چُھو بھی نہیں سکتی۔

فوت شدہ مَدَنی مُنّے زندہ کر دیے

مشہور عاشقِ رسول حضرتِ علّامہ عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روایت فرماتے ہیں ، حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی حقیقی مَدَنی مُنوں کی موجودگی میں بکری ذبح کی تھی ۔ جب فارغ ہو کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے تو وہ دونوں مَدَنی مُنّے چُھری لے کر چھت پر جا پہنچے،بڑے نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا ، آؤ میں بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی کروں جیسا کہ ہمارے والِد صاحِب نے اس بکری کے ساتھ کیا ہے۔ چُنانچِہ بڑے نے چھوٹے کو باندھا اور حَلق پر چُھری چلا د ی اور سر جُدا کر کے ہاتھوں میں اُٹھا لیا! جُو نہی ان کی امّی جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ منظر دیکھا تو اُس کے پیچھے دوڑیں وہ ڈرکر بھاگا اور چھت سے گرا اور فوت ہو گیا۔ اُس صابِرہ خاتون نے چیخ وپکار اور کسی قسم کا واویلا نہ کیا کہ کہیں عظیم الشَّان، مہمان سلطانِ دوجہان ، رَحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پریشان نہ ہوجائیں،نہایت صَبرو استقِلال سے دو نوں کی ننھی لاشوں کو اندر لا کران پر کپڑا اُڑھا دیا اور کسی کو خبر نہ دی یہاں تک کہ حضرتِ جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی نہ بتایا۔ دل اگر چِہ صَدمہ سے خون کے آنسو رو رہا تھا مگر چہرے کو ترو تازہ وشِگُفتہ رکھا اور کھانا وغیرہ پکایا۔ سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے اور کھانا آپ کے آگے رکھا گیا ۔ اِسی وقت جِبرئیلِ امین علیہ الصلوٰۃ و السلام نے حاضِرہو کر عرض کی،یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہ علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جابِر سے فرماؤ، اپنے فرزندوں کو لائے تا کہ وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے کا شَرَف حاصِل کر لیں۔ سرکارِ عالی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، اپنے فرزندوں کو لاؤ ! وہ فوراً باہَر آئے اور زوجہ سے پوچھا، فرزند کہاں ہیں؟ اُس نے کہا کہ حُضُور پُر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کیجئے کہ وہ موجود نہیں ہیں۔ سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کافرمان آیا ہے کہ ان کو جلدی بلاؤ! غم کی ماری زوجہ رو پڑی اور بولی، اے جابِر ! اب میں ان کو نہیں لا سکتی ۔ حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ،آخِر بات کیا ہے؟ روتی کیوں ہو؟ زوجہ نے اندر لے جا کر سارا ماجرا سُنایا اور کپڑا اُٹھا کرمَدَنی منّوں کو دکھایا، تو وہ بھی رونے لگے کیونکہ وہ ان کے حال سے بے خبر تھے۔ پس حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کی ننھی ننھی لاشوں کو لا کر حُضُورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدموں میں رکھ دیا۔ اس وقت گھر سے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے جِبرئیلِ امین علیہ الصلوٰۃ و السلام کو بھیجا اور فرمایا،اے جِبرئیل! میرے محبوب علیہ الصلوٰۃ و السلام سے فرماؤ، اللہ ربِّ العزَّت فرماتا ہے،اے پیارے حبیب! تم دُعا کروہم ان کوزندہ کر دیں گے۔ حُضُورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدَم،رسولِ مُحتَشَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دُعا فرمائی اور اللہ عزوجل کے حُکم سے دونوں مَدَنی مُنّے اُسی وَقت زندہ ہو گئے۔(مدارِجُ النّبوّت، حصہ ۱،ص۱۹۹مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر،ملخصا) قلبِ مُردہ کو مرے اب تو جِلا دو آقا جام اُلفت کا مجھے اپنی پلا دو آقا میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حدیث ہمیں محبت رسول کا سبق دے رہی ہے اور اسی طرح اس حدیث مبارکہ سے حضرت جابر کی بیوی کی بھی سرکار سے محبت واضح طور پر عیاں ہو رہی ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے بارے میں نہ تو ان کے ابو کو بتایا اور نہ ہی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مہمان نوازی میں اپنے بیٹوں کی موت کو عذر بنایا اور پھر جب انہوں نے سرکار سے محبت کی تو سرکار نے حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فوت شدہ دونوں حقیقی مَدَنی منّوں کو بِاِذن اللہ عزوجل زندہ کر دیا۔ تو میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا جابر کے واقعے سے ہمیں سرکار علیہ السلام کے معجزہ کا علم ہواکہ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذیبح شدہ بچوں کو بھی زندہ فرمایا دیا ۔اور یہ تو سرکار علیہ السلام کے معجزات میں سے ادنی معجزات ہیں سرکار علیہ السلام کو تو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ معجزات عطا فرمائے اور معجزہ کمالات میں سے ہے جیسا کہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب العقائد میں ہے کہ ’’ تمام انبیاء کو جو کمالات جدا جدا عنایت ہوئےوہ سب اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات عالی میں جمع فرما دیے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاص کمالات بہت زائد ہیں ‘‘۔(کتاب العقائد ،انبیاء علیھم السلام کے رتبے ،ص ۱۷،المدینہ العلمیہ باب المدینہ کراچی) مُردوں کو جلاتے ہیں روتوں کو ہنساتے ہیں آلام مٹاتے ہیں بگڑی کو بناتے ہیں سرکار کِھلاتے ہیں سرکارپلاتے ہیں سلطان و گدا سب کو سرکار نبھاتے ہیں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن