دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ameer e Muawiya | فیضانِ امیرِمُعاوِیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ

Hazrat Syeduna Ameer e Muawiya Ki Hukoomat

book_icon
فیضانِ امیرِمُعاوِیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ
            

حکومتِ سیِّدنا امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمحبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیّدناامیرِمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کودعاسے نوازتے ہوئے فرمایا: اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَمَكِّنْ لَهُ فِي الْبِلَادِ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں(یعنی امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو)کتاب وحساب کا علم عطا فرمااورانہیں شہروں کی حکمرانی عطا فرما۔(1) ایک موقعے پر تو نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکومت کے متعلق یوں نصیحت فرمائی: يَا مُعَاوِيَةُ اِنْ وُلِّيْتَ اَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ یعنی اے معاویہ!اگر تمہیں کوئی ذمہ داری سونپی جائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر نا اور عدل کرنا۔“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :سرکا رِ بحر و بر،غیبوں سے باخبر آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کے سبب مجھےحاکم بننےکی آزمائش میں مبتلاہونے کا یقین ہوگیا تھا اور آخر کا رمیں اس آزمائش میں مبتلاہوگیا ۔(2) غیبوں کے جاننے والے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ مبارک سے نکلا ہوا جملہ پتھر پر لکیر کی مانند ہےلہٰذااس دعائے مصطفےٰ اور نصیحت کااثر کچھ یوں ظاہر ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکومت عطا فرمائی، فتوحات کی نعمت آپ کے ہاتھ آئی اور اسلام کی ترقی اور ترویج و اشاعت کا عظیم کام بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ حکومت میں ہوا۔

سیدنا امیر ِمعاویہ حاکم کیسے بنے؟

جب امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےملکِ شام فتح فرمایاتوسیدنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بھائی صحابیٔ رسول حضرت سیدنا یزید بن ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوشام کاحاکم مقررفرمایا۔سیدناامیرِمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان معاملات میں اپنے بھائی کے ہمراہ تھے۔ جب حضرت سیدنایزید بن ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وصال فرما گئے توامیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سیدنا امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو گورنر مقرر فرمادیا۔(3)

فاروق اعظم تربیت فرماتے

عہدِفاروقی میں حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حضرت سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ سے بہت سارے مدنی پھول حاصل ہوتےاور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ میں جلوہ اَفْروز ہوکرحضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تربیت فرماتے ،اس کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے:

فاروق اعظم کی نصیحت

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےحضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ایک مکتوب لکھا جس میں ارشاد فرمایا: ’’حق کے ساتھ لازم رہو، حق پر قائم رہنا تمہیں اس دن اہلِ حق کے ساتھ کردے گا جب صرف حق کے ساتھ ہی فیصلہ ہوگا۔‘‘(4)

فاروق اعظم کے حکم پر معاہدہ تحریر فرمایا

جببیتُ المقدس کے رہنے والے لوگوں کا ایک وفد حضرت سیّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور صلح وامان کی درخواست کرنے لگا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جانب سے جوتحریری صلح نامہ اُنہیں عطافرمایا گیا اسے لکھنے والے حضرت سیّدنا امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے اس وقت حضرت سیّدناخالد بن وليد،حضرت سیّدناعمرو بن عاص اور حضرت سیّدناعبد الرحمٰن بن عوف رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی موجود تھے ۔(5)(6)

امیرِ معاویہ کو اُصولِ عدل سے متعلق مکتوب

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک موقعے پرحضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اُصُولِ عد ل سے متعلق بذریعہ مکتوب یہ مدنی پھول عطا فرمایا:’’حَمد وصَلاۃ کے بعد فریقین میں فیصلہ کرنے سے متعلق میں تمہیں یہ مکتوب بھیج رہا ہوں،اس میں اپنی اورتمہاری بھلائی کی میں نے پوری کوشش کی ہے،پانچ اصولوں پر کاربند رہو تمہارا دین سلامت رہے گا اور اس میں تمہیں خوش نصیبی حاصل ہوگی۔(۱)جب تمہارے پاس فریقین اپنا معاملہ لے کر آئیں تو مُدَّعی (اپنے حق کا دعویٰ کرنے والا)سے سچے گواہ اور مُدَّعٰی عَلَیْہ (جس کے خلاف کسی حق کا دعوی کیا گیا)سے مضبوط حلف لو۔ (۲) کمزوروں کے ساتھ بہت ہمدردی سے پیش آؤ تاکہ ان کی ہمت بندھے اور اپنا معاملہ تمہارے سامنے بیان کرنے میں زبان کھلے۔(۳) جو شخص باہر سے آیا ہو اس کے ساتھ خصوصی تعاون کرو کیونکہ زیادہ دن انتظار کرکے اگر وہ بغیر حق حاصل کیے چلا گیا تو اس کا وبال حق مارنے والے پر ہوگا۔ (۴) مُدَّعی ومُدَّعٰی عَلیہ کے ساتھ یکساں سلوک کرو۔ (۵) فریقین میں جب تک تمہیں صحیح فیصلہ سمجھ میں نہ آئے اس وقت تک کوئی فیصلہ نہ کرو، بصورتِ دیگر فریقین میں صلح کرانے کی حتَّی المقدور کوشش کرو۔(7)

سیدنا امیر معاویہ خلیفہ کیسے بنے

عہدِ فاروقی و عہدِ عثمانی میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شام کے گورنر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے اسلام کی خدمت فرماتے رہےاورامیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضی شیرِِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی شہادت کے بعدحضرت سیّدنا امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ خلیفہ مقرر ہوئے جو تقریباً ۶ ماہ منصبِ خلافت پرفائزرہنےکےبعداصلاحِ اُمت اور خیرخواہی کےمُقَدّس جذبے کے تحت حضرت سیدنا امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئےاوریوں حضرت سیدنا امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ممالکِ اسلامیہ کے’’خلیفہ‘‘بن گئے۔(8)

حکومت ِامیرِ معاویہ پر سیّدناامام حسن کی گواہی

حضرت سیّدنا امامِ حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:جب میں نے اپنے والد امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو یہ فرماتے سُنا:دن رات گزرتے رہیں گے یہاں تک کہ امیرِ معاویہ ( رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )حاکم بن جائیں گے تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ حکم ہو کر رہے گااسی لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میرے اور ان کے درمیان مسلمانوں کا خون بہے۔ (9)

فاروق اعظم کے نزدیک مقامِ سیّدناامیر معاویہ

حضرت سیّدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جس کسی کوبھی گورنر مقرر فرماتے تو تَقَرُّری اور بعد اَزتقرری اس کی کاکردگی پر بھر پور نظر رکھتے ،خاص طور آپ گورنر کی عملی کیفیت پر خصوصی نظر رکھتے اگر کوئی گورنر اصولوں سے اِنْحراف کرتا تو اسے فی الفورمَعْزول فرمادیتے ۔حضرت سیدنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گورنری کا عُہْدہ حضرت سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سونپا تھااورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی بے پناہ خدادادصلاحیت اورغیرمَعْمولی مقبولیت کی بِنا پر عَہْدِفاروقی میں اس مَنْصب پر فائز رہ کر عمدگی کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے ۔حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عَہْدِ فاروقی میں اس مَنْصَب پر فائز رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ معیارِ فاروقی پر اُترنے والے بہترین حاکم اور زبردست مُنْتَظِم تھے ۔ جب حضرت سیّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ملکِ شام تشریف لے گئے تو حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کا استقبال بہت ہی شان و شوکت کے ساتھ کیاسیّدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ استقبال کے لیے اتنے بڑے لشکر کودیکھ کر (ناراضی فرماتے ہوئے) اتنااہتما م کرنے کی وجہ دریافت فرمائی توحضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس عمل کی وضاحت فرماتے ہوئےعرض کی:يا امیر المؤمنین !ہم جس سرزمین میں ہیں یہاں دشمنوں کے جاسوس بکثرت ہیں اسی وجہ سے یہ لازم ہوا کہ ہم ان کو ہیبت زَدہ کرنے کے لیے بادشاہ کی عزت و عظمت کا اظہار کریں ، اگر آپ حکم دیں گے تو ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے،اگر آپ روکیں گے توہم فورا ً رُک جائیں گے ، اے امیر المومنین! آپ جو چاہیں حکم ارشاد فرمائیں۔حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:نہ تو ہم کوئی حکم دے رہے ہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے روک رہے ہیں۔“ حضرت سیّدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ نرم رَوَیّہ دیکھ کر ایک شخص نے عرض کی:یاامیر المومنین !اس جوان (یعنی حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ )نے کتنی خوب صورتی اور دانشمندی سے خود کو اس الزام سےبَری کرلیاہے۔“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےارشادفرمایا:انہی خوبیوں اور صلاحیتوں کی بِناپر ہم نے یہ مَنْصَب انہیں سونپا ہے ۔(10) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیّدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے متأثر ہونا اورآپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا یہ بہت بڑے اِعْزاز کی بات ہے کیوں کہ حضرت سیّدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نظام ِاِحْتِساب نہایت مضبوط تھاجب کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کاحضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اس معاملے کی براہِ راست تفتیش فرمانا اور جواب سن کراطمینان کا اظہار فرمانا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میں معاملہ فَہْمی اورانتظامی اُ مور کو زبردست طریقے سے انجام دینے کی تمام تَر صَلاحیتیں موجود تھیں ۔ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم کا اعتماد

حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک موقع پر لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میرے بعد گروہ بندی سے بچنا اگر تم نے ایسا کیا تو یاد رکھو کہ معاویہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ )شام میں ہوں گے ۔(11)(یعنی اگر تم نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو حضرت سیّدنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔)

سیّدنا امیر معاویہ کے تَدَبُّر کی تعریف

امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے: تم قَیْصر وکِسْرٰی اور ان کی عقل ودانائی کا تذکرہ کرتے ہو جبکہ معاویہ بن ابو سفیان ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ )موجود ہیں ۔(12) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو مجموعی اعتبار سے اسلامی سلطنت کئی مسائل کا شکار تھی جس کی وجہ سے فتوحات کا سلسلہ بھی رک چکا تھا اس کے علاوہ انتظامی معاملات بھی ان حالات کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے ، حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان تمام معاملات کو اپنی فِراسَت سے حل فرمایا جس کی بدولت اسلامی سلطنت کا ہر شعبہ ہی ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا گیا ،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک دور میں بے شمار فتوحات بھی ہوئیں اور اسلامی سلطنت کو داخلی و خارجی تمام سازشوں سے بھی نجات ملی ۔ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
1 مجمع الزوائد ، کتاب المناقب ، باب ماجاء فی معاویۃ ۔۔۔ الخ ،۹ / ۵۹۴،حدیث:۱۵۹۱۸ 2 مسند احمد ، مسند الشامیین ، حدیث معاویۃ بن ابی سفیان ،۶ / ۳۲، حدیث:۱۶۹۳۱ 3 البدایۃ والنھایۃ ، سنۃ ستین من الھجرۃ النبویۃ ، و ھذہ ترجمۃ معاویۃ ۔۔الخ، ۵ / ۶۲۰ 4 سیر اعلام النبلاء،احمد بن حنبل ،محنۃ لام احمد،۹ / ۴۷۰ 5 البدایۃ و النھایۃ ، سنۃ اربع عشرۃ من الھجرۃ ، فتح بیت المقدس ۔۔۔ الخ ،۵ / ۱۲۷ملخصاً 6 فتح بیت المقدس کی تفصیل جاننے کے لیے فیضان فاروق اعظم ،جلد۲،صفحہ۶۱۹تا۶۳۳کا مطالعہ کیجیے۔ 7 البیان و التبیین ، باب من اللغز فی الجواب ،۲ / ۱۵۰ 8 عمدۃ القاری ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب ذکر معاویۃ بن ابی سفیان ، ۱۱ / ۴۸۷ملخصاً، الثقات لابن حبان ، ذکر البیان بان من ذکرناھم ۔۔الخ،۱ / ۲۳۲ملخصاً، امیر معاویۃ ،ص۴۳۔۴۴ ماخوذاً ، تاریخِ بغداد ، معاویۃ بن ابی سفیان ، ۱ / ۲۲۱ملخصاً، تھذیب الاسماءواللغات ، معاویۃ بن ابی سفیان ، ۲ / ۴۰۶ملتقطاً 9 معجم الصحابۃ ، معاویۃ بن ابی سفیان ،۵ / ۳۷۲ 10 البدایۃ و النھایۃ ، سنۃ ستین من الھجرۃ النبویۃ ، معاویۃبن سفیان ،۵ / ۶۲۷ملخصاً، الاستیعاب ، معاویۃ بن سفیان ، ۳ / ۴۷۱ملخصاً 11 تاریخ ابن عساکر ، معاویۃ بن صخر ۔۔ الخ ،۵۹ / ۱۲۴ 12 تاریخ طبری ، سنۃ ستین ، ذکربعض ماحضرنامن ذکراخبارہ و سیرہ ،۵ / ۳۳۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن