30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لگے : ’’کیا آپ کو دارالافتاء بھیج دوں ؟ ‘‘میں نے عرض کی : ’’جو آپ کا حُکم !‘‘ چُنانچہ میں تخصص فی الفقہ (مفتی کورس) کرنے اوردارالافتاء اہلسنّت (بابری چوک گرومندرباب المدینہ کراچی) میں فتویٰ نویسی کی خدمت سرانجام دینے لگا۔میری خوش نصیبی کہ ۱۹جمادی الآخر۱۴۲۴ھ/18 اگست 2003 ء کو افتاء کی مزیدتربیت کے لیے مجھے دار الافتاء اہل سنتنورالعرفان( سید معصوم شاہ بخاری مسجد، نزدپولیس چوکی کھارادر، باب المدینہ کراچی) بھیج دیا گیا جہاں مجھے استاذی المکرم ، مفتیٔ دعوتِ اسلامی ، مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے مرحوم رکن ، الحافظ ، القاری ، مفتی ابوعمرمحمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی رفاقت نصیب ہوئی ۔اسی دوران ایک سال جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ میں تدریس بھی کی۔ فی الوقت مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نگاہِ کرم کے صدقے دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ، پاکستان انتظامی کابینہ، باب المدینہ مشاورت کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مجالس مثلاً مجلس المدینۃ العلمیۃ ، مجلس دارالافتاء ، مجلس رابطہ بالعلماء والمشائخ میں رکنیت حاصل ہے ۔جبکہ مجلس جامعات المدینہ اور مجلس مَدَنی مذاکرہ کے خادِم (نگران)کے طور پر خدمتِ دین کی سعادت حاصل ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ! اِنفِرادی کوشِشسے کتنا فائدہ ہوتا ہے !تین اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوشش سے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے والے یہ نوجوان اسلامی بھائی نہ صرف عالِمبلکہ ترقی کرتے کرتے دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شورٰی کے رُکن بن گئے ۔ لھٰذا ہر مسلمان پر اِنفِرادی کوشِش کرنا اور ا ن کو نَمازوں کی دعوت دینا چاہئے ۔کیا معلوم ہمارے چند الفاظ کسی کی آخرت سنوارنے کا وسیلہ بن جائیں ۔ اجتِماع وغیرہ کیلئے اگر بس یا ویگن میں آئیں تو ڈرائیور و کنڈیکٹر کو بھی شرکت کی درخواست کرنی چاہئے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گلزارِ طیبہ(سرگودھا، پنجاب)کے ایک اسلامی بھائی محمد عقیل العطاری المدنی (عمرتقریباً 30سال) کا بیان کچھ یوں ہے : میں نے 1994ء میں میڑک کا امتحان پاس کیا تو والدِ محترم نے درسِ نظامی کرنے کا حُکم دیا ۔ چنانچہ میں نے ایک سُنی دارالعلوم میں داخلہ لے لیا۔ وہاں میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ چند اسلامی بھائیوں سے ہوئی ۔ وہ اُسی دارالعلوم میں پڑھتے تھے ۔ ان کے حُسن اخلاق اور ملنساری نے مجھے بہت متأثر کیا ۔ اُن کی ترغیب پر میں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا ۔ وہاں کی پاکیزہ فضا اور دیگر اسلامی بھائیوں سے ملاقات نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا ۔ میں بھی فیضانِ سنّت کا درس دینے اور سُننے کی سعادت پانے لگا ۔ ہر پندرہ دن بعد گھر آتا تو اسلامی بھائیوں سے مُلاقات کے شوق سے بے تاب ہوکر اپنے شہرمیں بھی خُود اسلامی بھائیوں سے ملنے پہنچ جاتا ۔ یوں رفاقت کی منزلیں طے کرتے کرتے میں مکمل طور پر مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سر پر سبز عمامہ بھی سجا لیا اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہوکر عطّاری بھی بن گیا ۔
درسِ نظامی مکمل کرنے کے بعد دعوتِ اسلامی کے مفتیانِ کرام کی انفرادی کوششوں کے نتیجے میں باب المدینہ کراچی پہنچا اورجامعۃ المدینہ میں تخصص فی الفقہ (مفتی کورس) میں داخلہ لے لیا ۔ پیرومُرشد امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے نگاہِ فیض اثر سے دعوتِ اسلامی کے دیگر مَدَنی کاموں کے ساتھ ساتھ ہر ماہ مَدَنی قافلے میں سفر کا بھی سلسلہ رہا ۔ پھر مجھ پر کرم کی ایسی برکھا برسی کہ میں نے یک مشت 12ماہ ، پھر عمُر بھر کے لئے خُود کو مَدَنی مرکز کے سامنے پیش کردیا ۔ (تادمِ تحریر) امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی کی برکت سے دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ، پاکستان انتظامی کابینہ، باب المدینہ مشاورت کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مجالس مثلاً مجلس المدینۃ العلمیۃ ، مجلس مکتبۃ المدینہ، مجلس دارالافتاء میں رکنیت حاصل ہے ۔جبکہ مجلس اجارہ اور مجلس المدینۃ العلمیۃ کے خادِم (نگران)کے طور پر خدمتِ دین کی سعادت حاصل ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! عاشِقانِ رسول کی صحبت نے کس طرح ایک ہیرے کو ایسا چمکایا کہ وہ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شورٰی کا رُکن بن کر نُورِ امیرِ اہلسنّت سے جگمگانے لگا ! اس میں کوئی شک نہیں کہ صُحبت ضَرور رنگ لاتی ہے، اچّھی صُحبت اچّھا اور بُری صُحبت بُرا بناتی ہے ۔ لہٰذا ہمیشہ عاشِقانِ رسول کی صُحبت اختیار کرنی چاہئے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بابُ الاسلام(سندھ )کے ایک اسلامی بھائی علی اصغرالعطاری المدنی (عمرتقریباً 29سال) کا بیان ہے : یہ 1992ء کی بات ہے جب میں اپنے آبائی شہر ’’جُھڈّ و‘‘ کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں نویں کلاس کا طالب ِ علم تھا ۔ میرے کردار میں ہونے والی تبدیلی اسکول کے اساتذہ اور طلباء کے لئے حیرت کا باعث تھی ، وہ سب حیران تھے کہ اچانک اس لڑکے کا لب و لہجہ، طور طریقہ ، گفتار و کردار سب کس طرح تبدیل ہو گیا ہے؟ان کی حیرانگی کا باعث یہ تھا کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں گناہوں بھری زندگی ترک کر کے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو چکا تھا۔
میرے مدنی ماحول میں آنے کا راستہ کچھ اس طرح بنا کہ میرے والِد صاحب مسجد میں نَماز پڑھنے جاتے تومیں بھی ساتھ چلا جاتا ۔وہاں مغرب کی نماز کے بعدسبز عمامے والے ایک اسلامی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع