30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے تفصیلات معلوم کیں تو انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ بورے والا شہر سطح پر ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش فرمائی۔ حُسنِ اخلاق کی شیرینی سے تربتر دعوت میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ میں آنے والی جمعرات بریلوی مسجد(حبیب کالونی) میں سنّتوں بھرے اجتماع میں جا پہنچا۔ وہاں کے مسحور کُن مَدَنی ماحول ، ذکرو نعت ، سنّتوں بھرے بیانات اور رقت انگیز دعا نے مجھے ایک نئی روحانی لذّت سے آشنا کیا۔اگلی جمعرات بھی میں سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا مگر اس مرتبہ میں اکیلا نہیں تھا بلکہ دعوت دے کر کئی اسلامی بھائیوں کو ساتھ لے گیاتھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں مَدَنی ماحول کے قریب سے قریب تَر ہوتا چلا گیا ۔میرے جذبے اور کوشش کو دیکھتے ہوئے مجھے ’’اِحاطہ شاہ نواز مسجد‘‘ کا ذیلی نگراں بنادیا گیا۔مَدَنی کام کرنے کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ میں نے میٹرک کر لیا ۔ پھر میں کم و بیش ایک سال کیلئے اپنے گھر (چِیچہ وطنی)چلاآیا۔
اپنے شہر میں بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی ترکیب رہی۔ ہر ماہ مَدَنی قافلے میں سفر اور روزانہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ایک بیان سُننے کی بَرَکت سے میرے شب و روز رضائے الہٰی عَزَّ وَجَلَّ پانے کی کوششوں میں بسر ہونے لگے۔پھر میں نے کالج میں داخِلہ لے لیا۔ مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے باوجود ابھی تک کسی کا مرید نہیں بنا تھا۔ میں کسی صاحبِ کرامت مردِ قلندر کی تلاش میں تھا۔ پھر جب مرکز الاولیاء (لاہور)میں مینار پاکستان میدان میں دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرااجتماع ہوا تو میں پہلی بار شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت ، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادِرِی رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت سے مشرف ہوا۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے نورانی چہرے پر نظر پڑتے ہی دل نے گواہی دی کہ یہ ہی وہ مردِ قلندر ہیں جن کی مجھے تلاش تھی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ان کے ذریعے سلسلہ قادِرِیہ رضویہ میں داخل ہوکر ’’عطاری‘‘ بن گیا۔ مرشدِ کامل کی توجہ نے دل کی دُنیا ہی بدل ڈالی۔ میں نے والدین سے اجازت لے کر 1994ء میں درسِ نظامی (یعنی عالم کورس) کیلئے داخلہ لے لیا اور غالباً2001ء میں مجھے عالم کی سَنَد مِلی ، اس دوران فتویٰ نویسی کی بھی تربیت حاصل کی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان سے تقریباً 6سال سے دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی میں (درس نظامی کے منتہی درجات ، دورہ حدیث شریف ، تخصص فی الفقہ اورتخصص فی الفنون میں ) تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہوں اور دعوتِ اسلامی کی مجلس تحقیقات ِ شرعیہ میں بطورِ مفتی رُکنیت بھی حاصل ہے۔
دعوتِ اسلامی کی قَیّوم دونوں جہاں میں مچ جائے دُھوم
اس پہ فدا ہوبچہ بچہ یااللہ ( عَزَّ وَجَلَّ ) میری جھولی بھر دے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زِیارت اوردعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کی برکت سے ایک عام سا نوجوان ترقی کرتے کرتے عالِم ومفتی کے عظیم منصب پر فائز ہوگیا ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(4)مدرسۃ المدینہ (بالغان) پڑھانے والا مفتی کیسے بنا؟
بابُ المدینہ (کراچی) کے مقیم اسلامی بھائی مُفتی فضیل رضا عطّاری مدظلہ العالی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں نے 14سال کی عمر میں میٹرک پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے کالج جا پہنچا۔میرا اکثر وقت عام نوجوانوں کی طرح دوستوں کے ساتھ گپ شپ لڑاتے یا کرکٹ وغیرہ کھیلنے میں گزرتا۔ ہمارے علاقے میں سبز عمامہ اور سفید لباس میں ملبوس ایک عاشقِ رسول اکثر بڑی محبت سے ملتے اور تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکتیں بتاتے اور مجھے بھی یہ ماحول اپنانے کی ترغیب دیتے ۔میں ان کے محبت بھرے مَدَنی انداز سے متاثر تو بہت تھا مگر طویل عرصہ تک کوئی پیش قدمی نہ کرپایا ۔بالآخر میں ان کی انفرادی کوشش کی بَرَکت سے مسجد میں بعدِ نمازِ عشاء قائم کئے جانے والے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا۔ میں جسمانی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے اپنی اصل عمر سے بہت چھوٹا دکھائی دیتا تھا ، اس لئے مجھے الگ سے بٹھاکر پڑھایا جاتا۔ اسی وجہ سے ایک بار مجھے مدرسے میں پڑھانے سے معذرت بھی کر لی گئی ۔ کیونکہ وہاں بڑی عمر کے اسلامی بھائیوں کی ترکیب تھی۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور دوبارہ داخلے کی کوشش کرتا رہا۔ میرے جذبے کو دیکھتے ہوئے مجھے دوبارہ داخلہ دے دیا گیا۔ میں عاشقانِ رسول کی صحبت میں دُرُست قراٰن پڑھنا سیکھ گیا ۔
دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے باجماعت نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ سنّتوں پر عمل کا جذبہ بھی ملا۔جلد ہی میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادِرِی رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے مرید ہوکر’’عطاری‘‘ بن گیا۔میں کم و بیش8سال مدرسۃالمدینہ (بالغان) میں قرآن پاک صحیح مخارج کے ساتھ پڑھانے کی سعادت پاتا رہا۔اس دوران میں نے دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام ہونے والے اجتماعی اعتکاف میں بھی شرکت کی اور نیکیوں کی مزید رغبت پائی ۔میں نے 1996ء میں درسِ نظا می کرنا شروع کر دیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ 2003ء میں فارغ التحصیل ہوا۔اس دوران فتویٰ نویسی کی بھی تربیت لے چکا تھا ۔پیر و مرشد کی شفقت سے مجلس تحقیقاتِ شرعیہ کے رُکن کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینے کے ساتھ دارالافتاء اہلسنّت(کنزالایمان) میں تادمِ تحریر بطورِمُفتی و مصدِّق خدمتِ افتاء کی سعادت حاصل ہے۔
مقبول جہاں بھرمیں ہو دعوتِ اسلامی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع