30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے لئے کسی سے سُوال نہیں کیا ٭ہم نے انہیں کبھی فضول گفتگو کرتے نہیں دیکھا٭بہت مِلَنْسَار تھے٭ کبھی مُتَکَبِّرَانہانداز میں گفتگو کرتے نہیں دیکھا نہ درس نظامی سے پہلے نہ بعد میں …
مفتیٔ دعوتِ اسلامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی کو مَدَنی قافلوں میں سفر کا بڑا جذبہ تھا ۔ آپ طالب علمی کے دور میں بھی ہرماہ مدنی قافلے میں سفرکیا کرتے تھے ۔ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے : ایک مرتبہ مَدَنی قافِلہ تیّار نہ ہوسکا کیونکہ مقرَّرہ وقت پر اسلامی بھائی نہ پہنچ پائے تو مفتیٔ دعوتِ اسلامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی مجھے تنہاہی لیکر مدنی قافلے میں سفر کرنے کیلئے تیار ہوگئے اور ہم دونوں اسلامی بھائی قافلے کے لئے روانہ ہوگئے ۔‘‘اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مفتیٔ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تَعَالٰی علیہمدنی قافلوں سے قولاً وعملاً بہت پیار کیا کرتے تھے۔اگر ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو مسئلہ بیان فرماکر کہتے کہ مزید معلومات کا جذبہ بڑھانے کیلئے مَدَنی قافلہ میں سفرکیجئے۔ نئے پرانے سب اسلامی بھائیوں کو مدنی قافلے کی دعوت دیا کرتے تھے۔ مدنی مشوروں میں بھی اکثر یہ شعرسنایا کرتے۔
فنا اتنا تو ہو جاؤں میں قافلے کی تیاری میں
جو مجھ کو دیکھ لے وہ قافلے کے لیے تیار ہو جائے
مفتی ٔ دعوتِ اسلامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے شیخ ِ طریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ ’’ مدنی انعامات ‘‘پر بھی پابندی سے عمل کیا کرتے تھے۔ان کے گھر والوں کا بیان ہے کہ جب کبھی رات کو کسی کام سے ان کے کمرے میں جانا ہواتو اکثر دیکھا جاتا کہ ان کے پاس مدنی انعام کا کارڈ ہوتا اور یہ اس پر نشان لگارہے ہوتے ۔باب المدینہ(کراچی)کی مجلسِ مدنی انعامات کے ذمّہ دار کا بیان ہے کہ مفتی صاحبرحمۃ اللہ تَعَالٰی علیہکا معمول تھا کہ ہر ماہ پابندی سے سب سے پہلے مدنی انعامات کا کارڈجمع کرواتے۔مفتی ٔ دعوت ِ اسلامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ پابندی سے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیا کرتے تھے اور مکمل تَوَجُّہ کے ساتھ بیان وغیرہ سنا کرتے تھے ۔ اپنی زندگی کی آخری جُمَعْرَات بھی اجتماع میں شرکت کی اور ساری رات فیضان ِ مدینہ ہی میں رہے ۔مفتی ٔ دعوت ِ اسلامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تنظیمی کارکردگی بھی مثالی تھی ۔
7فروری 2002ء میں اپنے مرشد ِ کامل شیخ ِطریقت ، امیر اہل سنت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمراہ حج و زِیارتِ مدینۂ منوّرہ کی سعادت سے مُشَرَّف ہوئے ۔جب ارکان ِ حج ادا کرنے کے بعد مدنی آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضری کی سُہانی گھڑیاں آئیں تو آپ کے مرشدِ کامل نے جب گنبد ِ خضریٰ کی زیارت کرانے کے لئے آپ کے جُھکے ہوئے سر کو اوپر اُٹھایا تو آپ نے اپنے مرشدِ کامل مدظلہ العالی کی آنکھوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا ، یوں گویا آپ کے مرشد کامل گنبدِ خضریٰ کو دیکھ رہے تھے اور مفتی ٔ دعوتِ اسلامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ان کی آنکھوں میں گنبدِ خضریٰ کے نظارے کررہے تھے ۔
؎ مرشد کی آنکھوں سے روضے کو میں دیکھوں
اور گنبدِ خضرا کے جلوے کومیں دیکھوں
مفتی ٔ دعوتِ اسلامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ 2002ء میں تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن بنے اور تاحیات مجلس ِ شوریٰ میں شامل رہے ، اس کے ساتھ ساتھ آپ دعوت ِ اسلامی کی مجلس تحقیقاتِ شَرْعِیَّہ ، مجلس ِ اِفتاء ، مجلسِ جامعات المدینہ، مجلس ِ اِجارہ ، مجلس مَدَنی مذاکرہ کے نگران اور مجلس مالیات ، مجلس برائے الیکٹرانک میڈیا ، مجلس مکتبۃ المدینہ، پاکستان انتظامی کابینہ ، باب المدینہ مشاورت کے رکن اور تخصص فی الفقہ(مفتی کورس ) کے استاذ بھی تھے۔اکثر فرمایا کرتے کہ : ’’ مجھے جو عزّت ملی میرے مرشد کا صَدَقہ ہے۔‘‘ ۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ جمعہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ (اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ) امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے اس مَدَنی بیٹے کی نماز جنازہ پڑھائی اور اپنے ہاتھوں سے قبر میں اُتارا ۔آپ کا مزارِ پُر انوار صحرائے مدینہ نزد ٹول پلازہ سپر ہائی وے باب المدینہ کراچی میں ہے ۔
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ سنّتوں بھرے اجتماع سے متاثر ہوکر دعوتِ اسلامی سے وابَستہ ہونے والے مفتی محمد فاروق عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری اپنے کردار وعمل سے دوسروں کے لئے قابلِ رشک بن گئے اور نیکیوں بھری زندگی گزارنے کے بعد اپنے خالِق ومالک عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس طرح پہنچے کہ ان کے لئے آج بھی ایصالِ ثواب کا سلسلہ جاری ہے ۔ہمیں بھی چاہئیے کہ دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں نہ صرف خود پابندی سے شرکت کریں بلکہ دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی اجتماع کی دعوت پیش کریں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(2) اَمیرِ اہلسنّت کے پُر تاثیر بیان نے عالم بننے کا جذبہ دیا
سردار آباد (فیصل آباد پنجاب)کے مُقیم اسلامی بھائی مفتی محمد قاسم عطّاری مدظلہ العالی کا بیان کچھ یوں ہے کہ میں گھر کے قریب واقع ایک مسجد میں حفظ کا طالبِ علم تھا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مسجد میں جاکر باجماعت نمَاز پڑھنے کا معمول تو تھا مگر میرا سر عمامہ شریف سے خالی تھا ۔ میرے والد صاحب (جو کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ تھے ) مجھے عمامہ شریف باندھنے اور سنّتوں کی خدمت کرنے کی ترغیب دیتے مگر میرا ذہن نہ بن پاتا ۔ ایک مرتبہ والِد صاحِب مجھے اپنے ساتھ’’ ہَجویری مسجد‘‘ میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں لے گئے ۔میں وہاں پر ہونے والے سنّتوں بھرے بیان ، ذکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، رقّت انگیز دعا کے دوران شرکائے اجتماع کی آہ وزاری سے بے حد متأثر ہوا ۔ میرے دل کی دُنیا زیروزبر ہوگئی۔ چُنانچہ اجتماع سے واپَس گھر پہنچتے ہی میں نے اپنے والد صاحب سے درخواست کی کہ میرے سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجا دیجئے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! وہ دن اور آج کا دِن یہ سبز سبز عمامہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع