30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انگلش (میڈیم) اسکول میں داخل کروادیا، جاؤاوراس کو دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ میں داخل کروادو۔‘‘
چنانچہ مجھے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مرکز فیضان مدینہ(نواب شاہ) میں قائم مدرسۃ المدینہ کے شعبۂ حفظ میں داخل کروادِیا گیا ۔وہاں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں نے قرآن مجیدمکمل حفظ کیا ۔پھرقاری صاحب کی بھرپورانفرادی کوشش سے 1998 ء میں جامعۃ المدینہ (گلستانِ جوہر باب المدینہ کراچی ) میں درس نظامی (عالِم کورس) میں داخلہ لے لیا ۔ 2005ء میں درسِ نظامی مکمل ہوا اور میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دستِ مبارک سے دستارِ فضیلت سر پر سجانے کے بعد خدمتِ دین میں مصروف ہوگیا ۔(تادمِ تحریر) دعوت اسلامی کے ایک اہم شعبے ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘میں شعبۂ تراجم کے ذمَّہ دارکی حیثیت سے خدمتِ دین کی سعادت حاصل ہے ۔
میرے دعوتِ اسلامی سے وابَستہ ہونے سے قبل خاندان کاایک بھی فرد مَدَنی ماحول میں نہیں تھامگر اب اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ خاندان کے کئی گھرانے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہیں اور عطاری ہیں ۔میرے ایک چچاجنہوں نے میرے ساتھ ہی مدرسۃالمدینہ میں داخلہ لیاتھا، وہ بھی حافظ قرآن اور جامعۃالمدینہ سے فارغ التحصیل ’’مدنی عالم‘‘ ہیں ۔ میرے والدمحترم بھی امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے طالِب ہیں جبکہ والدہ محترمہ اورتمام بہن بھائی ، ان کی اولاد ، میری بیٹی اوراس کی امی سب کے سب عطّاری بن گئے اورہمارے گھرکانام بھی ’’عطاری ہاؤس‘‘ ہے۔ یہ سب میرے شیخ طریقت امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کافیض ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں حاسدین کے حسد ، ظالموں کے ظلم اورشریروں کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم کے طفیل دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول اورامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی پراستقامت عطافرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے ملاحظہ فرمایا ! کہ دعوتِ اسلامی کو اکابرینِ اہلسنّت کتنا پسند کرتے ہیں کہ خواب میں آکر اپنے مریدین کو دعوتِ اسلامی کی برکتیں حاصل کرنے کی تاکید فرماتے ہیں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(24) ماڈرن نوجوان عالِم کیسے بنا؟
باب المدینہ(کراچی)کے ایک اسلامی بھائی محمد رضوان رضا العطاری المدنی(عمر تقریباً24سال) کا بیان کچھ یوں ہے : میں انگلش میڈیم میں پڑھنے والا ایک ماڈرن لڑکا تھا ، نت نئے فیشن اپنانا میرا محبوب مشغلہ تھا ۔ دینی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں ۔آخرت کی فِکر سے غافل تھا۔جب میں نویں کلاس میں تھا تو میرے کزن اپنے گھر والوں سمیت دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے منسلک ہوگئے۔وہ مجھ پر بھی انفرادی کوشش کرتے اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتیں بتاتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دیا کرتے۔ مگرافسوس! کہ میں اُن کو ہنس کر ٹال دیتا ۔بالآخر ان کی انفرادی کوشش کامیاب ہوئی اور1998ء جمادیٔ الثانی کے آخری ہفتہ کی رحمتوں بھری گھڑیاں تھیں جب میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے کے لئے خُصُوصی بس میں بیٹھ گیا۔مجھے سبزعمامے اور سفید لباس میں ملبوس عاشقانِ رسول کی صحبت بہت اچھی لگ رہی تھی ۔ جب بس سوئے فیضانِ مدینہ روانہ ہوئی تو ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی نے سفر کی دعا پڑھائی ۔راستے میں جہاں کہیں چڑھائی آتی تو سب مل کر اللہ اکبر ، اللہ اکبر کہتے اورجب بس بلندی سے نیچے اُترتی توسبحان اللہ پڑھتے ۔اسی طرح مختلف نیکیوں میں اپنا وقت گزارتے ہوئے ہم دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ پہنچ گئے۔میں فیضانِ مدینہ میں داخل ہوا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔سبحان اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر طرف سبز سبز عمامے والے پیارے پیارے اسلامی بھائیوں کی بہاریں نظر آرہی تھیں ۔ ایک دوسرے کوبڑی محبت اور انتہائی باادب انداز میں ملنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا!میرے من کو بہت بھایا۔ ایک مبلغ دعوتِ اسلامی نے بڑے خوبصورت اندازمیں سنّتوں بھرا بیان کیا۔ اس کے بعد ایک اسلامی بھائی نے مختلف فضیلتوں کے حامل چھ دُرُود پاک پڑھائے۔دل کو چھو لینے والی ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صداؤں اوراجتماعی طور پر مانگی جانے والی رقت انگیز دعاؤں اور بعدِ دعا لگائے جانے والے حلقوں اور حلقوں کے بعد کی جانے والی انفرادی کوشش کے مناظر نے میرے دل میں مَدَنی انقلاب برپا کردیا ۔ میرے ضمیر نے مجھے ملامت کی کہ جب اس گناہوں بھرے معاشرے میں ایسا نیکیوں سے بھرپور مدنی ماحول موجود ہے تواس سے منہ موڑنا یا ایسے اجتماع میں شرکت نہ کرنا سخت محرومی کی بات ہے ۔میں نے اُسی وقت یہ نیت کرلی کہ ان شآء اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اب دعوت ِاسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کیا کروں گا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں نے اس نیت پر عمل بھی کیا کیونکہ ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع گویا ہمارے لئے نیکیوں کی بیٹری چارج کرنے کی مانند ہے ، ہفتہ بھر اس کا اثر ذہن پر رہتا ہے۔آئندہ ہفتے جب میں اجتماع میں شریک ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ ہستی جن کے صدقے ہمیں دعوتِ اسلامی جیسی عظیم مَدَنی تحریک ملی ، یعنی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے دیدار کے جلوے لُٹا رہے تھے ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے رجب المرجب کے فضائل پر بیان فرمایا ۔ بیان کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اجتماعی بیعت کروائی ۔میں بھی امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے غوث پاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال کر عطاری ہو گیا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ علٰی احسانہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع