30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
حیدرآباد (بابُ الاسلام سندھ) کے ایک مَدَنی اسلامی بھائی محمد حسان رضا العطاری المدنی(عمرتقریباً 27سال) کا بیان کچھ یوں ہے : میرے والِدصاحِب 1987ء سے ہی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ تھے ۔جب وہ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اس طرح بچپن ہی سے دعوتِ اسلامی کا پیاراپیارا مَدَنی ماحول میری آنکھوں میں سما گیا اور میں دامنِ امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے وابستہ ہوکر عطّاری بھی بن گیا۔ جب تھوڑا بڑا ہوا تو دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام مدرسۃ المدینہ سے حفظِ قراٰن کیا ۔پھر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کے بعد عالِم بننے کا ذہن بنا اور میں نے درسِ نظامی کرنا شروع کردیا ۔2005 ء میں نگاہِ مُرشد کے طفیل دورۂ حدیث کے امتحان میں پہلی اور تنظیم المدارس کے درجۂ عالمیہ کے امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مبارک ہاتھوں سے دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ (تادمِ تحریر )دارالافتاء اہلسنّت (باب المدینہ بابری چوک (گرومندر)کراچی) میں فتویٰ نویسی کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جامعۃ المدینہ (عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی ) میں دورۂ حدیث کے اَسباق پڑھانے کی سعادت بھی حاصل ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ڈیرہ اسماعیل خان (صوبہ سرحد ، پاکستان) کے ایک مَدَنی اسلامی بھائی محمد بلال العطاری المدنی(عمرتقریباً 29سال) کا بیان کچھ یوں ہے کہ پہلے پہل میں کلین شیوتھا ۔ داڑھی اور زُلفیں رکھنے کا بالکل ذہن نہیں تھا بلکہ اگر کوئی مجھے ان کی ترغیب بھی دِلاتا تو میں ہنس کر ٹال دیتا تھا ۔میرے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کا آغاز کچھ یوں ہوا کہ میرے بڑے بھائی (جو مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے ) نے مجھے علمِ دین حاصل کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ (فیضانِ مدینہ مرکز الاولیاء لاہور) میں داخل کروادیا ۔ شروع شروع میں تو وہاں میرا دل نہ لگا ، میں نے وہاں سے راہِ فرار اختیار کرنے کا بھی سوچا مگر بھائی کی وجہ سے ناکام رہا ۔ عاشقانِ رسول کی صحبت کی بَرَکت سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی اور علمِ دین حاصل کرنے میں استقامت نصیب ہوگئی۔ اس دوران عطّاری بھی بن گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ !میں نے 7سال کے عرصے میں درسِ نظامی کا کورس مکمل کیا اور اب میں ایک مدرِّس کی حیثیت سے جامعۃ المدینہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پڑھارہا ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! عاشِقانِ رسول کی صحبت نے کس طرح ایک کلین شیوڈ نوجوا ن کو دوسروں کو سنّتوں کی ترغیب دینے والا بنادیا! اس میں کوئی شک نہیں کہ صُحبت ضَرور رنگ لاتی ہے، اچّھی صُحبت اچّھا اور بُری صُحبت بُرا بناتی ہے ۔ لہٰذا ہمیشہ عاشِقانِ رسول کی صُحبت اختیار کرنی چاہئے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
نواب شاہ(باب الاسلام سندھ )کے مَدَنی اسلامی بھائی محمد آصف رضا العطاری المدنی (عمر تقریباً29سال) کا بیان کچھ یوں ہے : میرے والدین کے ہاں اولادنہ ہوتی تھی۔تقریباً ۹سال تک اولادکی نعمت سے محروم رہنے کے بعد میرے والِد محترم اپنے پیرومرشد(جوکہ حضرت سید جماعت علی شاہ صاحب رحمۃاللہ تَعَالٰی علیہکے خلیفہ مجازتھے) کی بارگاہ میں حاضرہوئے اورسلام عرض کیا۔پیرصاحب نے سلام کاجواب دینے کے فوراً بعد ارشادفرمایا : ’’عبدالغفار!لگتاہے آج اولادکے لئے آئے ہو۔‘‘ عرض کی : ’’جی حضور!ایساہی ہے ۔‘‘ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ بیٹا عطافرمائے گا ، ان شآ ء اللہ عَزَّ وَجَلَّ مگرشرط یہ ہے کہ اسے حافظ وعالم بنانا۔‘‘عرض کی : ’’حضور!جیسے آپ کاحکم۔‘‘ چنانچہ پیرومرشد کی دعاء کی برکت سے میری پیدائش ہوئی ۔تقریباً5 برس کی عمر میں گاؤں کے اسکول میں داخل کروادیاگیا۔پھر ہم 3سال بعد شہر منتقل ہوئے تو مجھے انگلش میڈیم اسکول میں کلاس وَن میں داخل کروادیا گیا ۔1988ء میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہو کر عطّاری بھی بن گیا ۔
جب میں ساتویں کلاس میں تھاتوایک صبح جب میں اسکول جانے کے لئے تیاری کرچکاتھاکہ والدصاحب نیندسے بیدارہوئے اورمجھ سے فرمایا : ’’آج سے تم اسکول نہیں جاؤگے۔‘‘میں تو خاموش رہا مگر میرے داداجان مرحوم (جوسید جماعت علی شاہ رحمۃاللہ تَعَالٰی علیہ سے مریدتھے)نے دریافت فرمایا : ’’کیابات ہے اسے اسکول جانے سے کیوں روکتے ہو۔‘‘ والدمحترم نے کہا : ’’آج سے یہ ’’مدرسۃ المدینہ ‘‘جائے گا ، آج قبلہ پیرصاحب میرے خواب میں تشریف لائے اورمجھ سے اِرشاد فرمایا : ’’کیا اپنا وعدہ بھول گئے ، تم نے کہا تھا کہ اسے حافظ وعالم بناؤگے مگر تم نے اسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع