30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے وابستہ ہوکر نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے لگا ۔ میرے والد صاحب مجھے12سال کی عمر میں اپنے پیر صاحب کے پاس بیعت کروانے کے لئے لے کر گئے تھے تو انہوں نے یہ کہہ کر بیعت کرنے سے انکار کردیا کہ یہ کسی اور کا ہے ۔تادمِ تحریر میں المدینۃ العلمیۃ میں خدمات سرانجام دے رہا ہوں ۔علاوہ ازیں مجھے دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ترکیب کے مطابق بنائے گئے ڈویژن میں بطورِقافلہ ذمّہ دار اور بابُ المدینہ کی مجلس رابطہ بالعلماء ومشائخ کے رُکن کے طور پر سنّتوں کی خدمت کی سعادت حاصل ہے ۔
تم دعوتِ اسلامی کو جانتے ہوکیا ہے
فیضانِ مدینہ ہے فیضانِ مدینہ ہے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ اپنے رشتہ دار اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش سے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے والے اس مَدَنی اسلامی بھائی کو کیسی برکتیں نصیب ہوئیں ۔ ہمیں بھی چاہئیے کہ جہاں ہم دیگر مسلمانوں کو نیکی کی دعوت پیش کرتے ہیں وہیں اپنے عزیز واقارب پر بھی انفرادی کوشش کیا کریں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(17) سعادتوں کی معراج کی داستان
مرکزالاولیاء(لاہور)کے ایک قریبی شہرنارنگ منڈی کے اسلامی بھائی نُورُ المصطفیٰ العطاری المدنی(عمر تقریباً31سال) کا بیان کچھ یوں ہے : میں ایک اسکول میں پڑھتا تھا ۔ ہمارا گھرانا پکا سنی، قدرے مذہبی اور دنیاوی اعتبار سے تعلیم یافتہ تھا۔ والد صاحب کو مطالعہ کا بہت شوق تھا ۔ یوں مطالعے کا ذوق اور سنیت کا شعور گویا مجھے ورثے میں مِلا۔ ذوقِ علمی وشعورِ سنّیت کے اِس اِمتزاج نے مجھے لڑکپن ہی میں اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا الشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی عظمت و رفعت سے آشنا کردیا۔ یوں میں بڑی محبت وعقیدت سے سرکارِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمنکے دریوزہ گروں میں شامل ہوگیا۔ فیضانِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی برکت سے میں علماء اہلسنّت کثرھم اللہ تَعَالٰی سے بڑی محبت کرتا تھا اور بد مذہبوں سے سخت متنفر تھا۔
ہمارے محلے کی مسجد میں ایک سبز عمامے والے صاحب بطورِ خادم یا مؤذن آئے ۔وہ ہمارے ساتھ بڑی ملنساری سے ملاقات کیا کرتے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے ’’مدینے کی دُھول‘‘ نامی( جیبی سائز کی )نعتوں کی کتاب تحفے میں دی ۔اس میں کچھ آسان اور مختصر وظیفے بھی لکھے ہوئے تھے۔ میں نے اس میں سے تین وظائف منتخب کئے ۔تادمِ تحریر بھی ان کی عموماً پابندی کرتا ہوں ۔مگر اتفاق دیکھئے کہ اس کے مؤلف کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ مجھے فقہی مسائل میں بھی دلچسپی تھی ۔ ایک مرتبہ ایک کتاب انتہائی خستہ حالت میں نہ جانے کہاں سے دستیاب ہوئی۔ نام دیکھا تو ’’نماز کا جائزہ‘‘، میں نے فوراً پڑھ ڈالی اور اسی وقت اپنی نمازدُرُست کر لی۔ اس کتاب سے نماز کے علاوہ دیگر کئی مسائل جو عوام میں غلط مشہور تھے، معلوم ہوئے۔ خصوصا ایک مسئلہ مجھے اب تک یاد ہے جسے پڑھ کر میں سب کو بتاتا پھرتا تھا کہ بچے کے پیشاب کو پاک سمجھنے کا مسئلہ غلط ہے، درست مسئلہ یہ ہے کہ بچے کا پیشاب بھی ناپاک ہوتا ہے چاہے وہ ایک دن کا ہی ہو۔ غالباً اسی کتاب سے سیکھ کر میں لوگوں کو درست وضو کرنا بھی سکھایا کرتا تھا۔
میٹرک کے بعد میں نے لاہورکے ایک کالج میں داخلہ لیا۔اسی کالج سے ملحق ہاسٹل میں میری رہائش تھی ۔ایک کمرے میں ہم چار نوجوان رہتے تھے ۔ پڑھائی کے علاوہ آپس میں ہماری بحثیں بھی ہوتی رہتی تھیں ۔ایک بار ہمارے درمیان یہ بحث چھڑگئی کہ سرمہ ڈالنا سنت تو ہے مگر اس کا سنت طریقہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں جمعہ کی چھٹی میں گھر جاؤں گا اور اپنے شہر کی مرکزی مسجد کے خطیب صاحب سے پوچھ کرآؤں گا۔چنانچہ میں گھر پہنچا اور اپنے شہر کی مرکزی جامع مسجد میں جمعے کی نماز ادا کرنے کے بعد خطیب صاحب سے ملا اور ان سے سرمہ ڈالنے کی سنت کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے نہایت شفقت سے فرمایا، ’’کیا میں آپ کو ایک ایسی کتاب نہ دوں جس میں سرمے کے ساتھ ساتھ مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اور بھی بہت سی سنتوں کا بیان ہے۔ آپ جب تک چاہو اس کا مطالعہ کرو اورجب چاہو واپس کر دینا۔‘‘ میں توقع سے بڑھ کر نوازش پر بہت خوش ہوا۔انہوں نے ایک خادِم کو آواز دی : ’’بھائی یہاں سے فیضانِ سنت پکڑانا۔‘‘ خادِم نے وہ کتاب بڑی عقیدت سے لاکر اُن کی خدمت میں پیش کردی ۔قبلہ خطیب صاحب نے وہ کتاب لی اور اسے بوسہ دیتے ہوئے اشکبار ہو گئے اور قریب موجود ایک صاحب (جو مسجد کیلئے فی سبیل اللہ الیکڑیشنر کا کام کیا کرتے تھے ) سے مخاطب ہو کر فرمایا، ’’مولانا الیاس قادری صاحب کے احسانات کا بدلہ کون چکا سکتا ہے؟‘‘جواباً ان صاحب نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا : ’’واقعی، یہ سنیت کا بہت کام کر رہے ہیں ۔‘‘یہ الفاظ میرے ذہن میں نقش ہو گئے۔ مگر اُس وقت نہ تو میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے واقف تھا اور نہ ان کے احسانات سے ۔‘‘ بہر حال میں نے ان سے خوشی خوشی فیضانِ سنّت لی اور لے جا کر بڑے شوق سے اپنے روم میٹ (یعنی ہم مکتب)دوستوں کواس کا کچھ حصہ پڑھ کر سُنایا ۔ اس کتاب کے سادہ مگرپُر کشش اندازِ بیاں نے سب کو ایسا مسحور کیا کہ جب کبھی ہم اس کتاب کو لے کر بیٹھتے توایک ہی نشست میں کئی کئی صفحات پڑھ لیتے۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہماری آنکھیں اشکبار ہو جایا کرتیں ۔ بالخصوص جب میں نے داڑھی رکھنے سے متعلق باب کا مطالعہ کیا تو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے حکیمانہ انداز نے مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت کا ایسا جذبہ دیا کہ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ان جملوں کے ساتھ ہی ساتھ حامی بھر لی کہ ’’گردن تو کٹ سکتی ہے مگرداڑھی نہیں …‘‘ اور پھر’’شاباش… شاباش…شاباش‘‘ کے اختتامی الفاظ نے روحانی طور پر ایسی پیٹھ تھپکی اور وہ ہمت مضبوط کی کہ پھر کوئی رکاوٹ داڑھی رکھنے میں کبھی آڑے نہ آ سکی خواہ وہ رشتہ داروں کی سختیاں تھیں یا کالج کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع