30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس بہار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مُرشِد کے فرمان پر اپنی خواہش قُربان کرنے والے کے کامیابی قدم چُومتی ہے ۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (مُرید)ا سکے (یعنی اپنے پیر کے)ہاتھ میں مردہ بَدَستِ زندہ ہوکر رہے۔(فتاویٰ افریقہ ۱۴۰)ہمیں بھی چاہئیے کہ اپنے مُرشد کے حق میں ایسے بن جائیں جیسے مُردہ بدست ِ زندہ ہوتا ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(12) بدمذھبوں کے چُنگل سے چھوٹ گئے
مدینۃ الاولیاء ملتان کے ایک اسلامی بھائی محمد ذوالفقار العطاری المدنی (عمر تقریباً 28سال) کے حلفیہ بیان کا خُلاصہ ہے کہ ہمارا گھرانا سُنِّی تو تھا مگر عقائد کے بارے میں ضروری معلومات نہ ہونے کی وجہ سے میرے دو بھائی بدمذہبوں کے چُنگل میں پھنس گئے ۔ میں بھی ڈانوں ڈول ہونے لگا ۔ کمزور پڑتا دیکھ کر تبلیغ ِ دین کے نام پربدمذھب لوگ میرے گھر آدھمکے اور ہمیں ورغلانا شروع کردیا۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ پے کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے کہ آپ کی بنائی ہوئی تحریک دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک مبلغ نے مجھ پر اِنفرادی کوشش کی اور مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے یومِ تعطیل اعتکاف میں شرکت کی دعوت دی جس پر لَبَّیْک کہتے ہوئے میں یومِ تعطیل اعتکاف میں شریک ہوا ۔ پھر انہوں نے مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ۔پہلی بار تو میں نے معذرت کر لی مگر ان کے بار بار دعوت دینے پر میں نے اُن سے کہا : مجھے ایک پوشیدہ بیماری ہے (جواَب مجھے خُود بھی یاد نہیں )، اگر تم اور تمہارے پیر صاحب (یعنی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) اُس کا علاج کردیں تو میں اجتماع میں ضرور شرکت کروں گا ۔
خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اُسی رات امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ میرے خواب میں تشریف لے آئے ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مجھے ایک وسیع وعریض میدان میں لے گئے جہاں ایک بہت بڑاگھنی چھاؤں والا درخت بھی تھا ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مجھ سے فرمایا : یہاں ہمارا تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرا اجتماع ہوگا ، آپ بھی اس میں شرکت کیجئے گا ۔ پھر فرمایا : اب بتائیے کہ آپ کو کیا پریشانی ہے ، میں نے جیب سے ایک پرچہ نکالا جس پر وہ بیماری لکھی ہوئی تھی اور امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو پڑھ کر سُنایا ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے میرے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ان شاء اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ صبح ہوتے ہی آپ کی یہ بیماری دُور ہوجائے گی اورآپ ہمیشہ کے لئے اسے بھول بھی جائیں گے تاکہ آپکو کبھی ندامت نہ اُٹھانی پڑے۔‘‘ جب صبح میں بیدار ہوا تو حلفیہ کہتا ہوں کہ میری بیماری دُور ہوچکی تھی ۔ پھر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کہنے کے مطابق میں اس بیماری کو بھول بھی گیا ۔ تادمِ تحریر مجھے یاد نہیں کہ وہ کون سی بیماری تھی ۔ اس واقعے سے میں اتنا متأثر ہوا کہ میں نہ صرف دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہوا بلکہ بین الاقوامی اجتماع میں بھی شامل ہوا ۔میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دامن سے وابستہ ہوکر عطّاری بھی بن گیا اور نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے لگا ۔ میرے دونوں بھائیوں نے بھی بُرے عقائد سے توبہ کر لی بلکہ ایک تومَدَنی ماحول میں بھی شامل ہوگئے ۔
دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے دینی کُتُب کے مطالعہ کا شوق ہوا ۔ پھر میرا درسِ نظامی کرنے کا ذہن بنا ۔ چُنانچہ میں نے 1999ء میں جامعۃ المدینۃ فیضان مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں داخلہ لے لیا ۔ 2006ء میں فارغ التحصیل ہوا اوردعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہاتھوں دستار بندی کا شرف پایا ۔(تادمِ تحریر) ایک مسجد میں امامت کے منصب کے ساتھ ساتھ مجھے ذیلی سطح پر مدنی انعامات کی ذمہ داری بھی ملی ہوئی ہے ۔علاوہ ازیں میں دعوتِ اسلامی کے ادارے المدینۃ العلمیۃ میں علمی وتحقیقی کاموں میں مصروف ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ دعوتِ اسلامی کے مبلغ کی انفرادی کوشش نے کس طرح ایک مسلمان کا ایمان لُٹنے سے بچایا۔ مذکورہ اسلامی بھائی نہ صرف بدمذہبوں سے محفوظ رہے بلکہ عالِم بننے کے بعد تحریر وتالیف جیسے عظیم کام میں لگ گئے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(13) فِلم بینی کا شوقین، عالِم کیسے بنا؟
بابُ المدینہ کراچی کے ایک مَدَنی اسلامی بھائی محمد اشرف العطاری المدنی (عمرتقریباً 32سال) اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے اَحوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں : دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں گناہوں کی وادی میں سرگرداں تھا۔ افسوس!کہ میرا اٹھنا بیٹھنا بھی ایسے لوگوں میں تھا جوطرح طرح کے گناہوں میں ملوّث تھے ۔ ہم سب دوست ملکر فلمیں دیکھا کرتے تھے ۔ ایسی ہی ایک شام تھی، میں اپنے دوست کے گھر سے فلم دیکھ کر گھر کی طرف رواں دواں تھا کہ راستے میں سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی نے مجھے روک لیا اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی درخواست کی ۔ میں نے نفس کی پُکار پر بہانہ بناتے ہوئے کہا : میں اکیلا کیسے جاؤں ، میرا کوئی دوست بھی تو ساتھ ہو۔ اس اسلامی بھائی نے مٹھاس سے تربترلہجے میں جواب دیا : میں ہوں نا آپ کا دوست ۔ اُن کا محبت بھرا انداز دیکھ کر مجھ سے اِنکار نہ ہوسکا۔ چُنانچہ میں راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مسافر بن گیا ۔مَدَنی قافلے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع