دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ameer e Ahle Sunnat ma 26 Hikayaat | فیضان امیر اہلسنت مع 26 حکایات

book_icon
فیضان امیر اہلسنت مع 26 حکایات

تدریس حاصل رہا ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی غُلامی کے صدقے (تادمِ تحریر)میں دعوتِ اسلامی کی پاکستان انتظامی کابینہ وباب المدینہ مشاورت کے ساتھ ساتھ کئی مجالس مثلاً مجلس جامعۃ المدینہ ، مجلس داراالافتاء مجلسِ مالیات ، مجلس الیکٹرانک میڈیا کا رُکن اورتمام جامعات المدینہ (للبنین) کے شعبہ تعلیمی اُمور کاخادِم(نگران) اور پاکستان بھرکے دارالافتاء اہلسنّت کاناظم  ہوں ۔

اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے اپنے والد صاحب کی انفرادی کوشش سے فیضانِ سنت سے علمِ دین کے فضائل پڑھ کر عالِم بننے والے اسلامی بھائی کی بہار ملاحظہ فرمائی ۔ ہمیں بھی چاہئیے کہ اپنی اولاد اور دیگر عزیز اقارب پر انفرادی کوشش کر کے انہیں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے کی ترغیب دیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(10)مدرسۃ المدینہ کا مدرِّس عالِم کیسے بنا؟

        باب المدینہ(کراچی)کے ایک اسلامی بھائی محمد حنیف امجدی العطاری (عمر تقریباً34سال) کا بیان کچھ یوں ہے : میری عمر 12برس تھی جب میں گلزارِ حبیب مسجد(سولجربازار) میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا ۔ اجتماع کے مناظر مثلاً بیان، ذکر ، دعا اور سیکھنے سکھانے کے حلقے میرے ذہن پر ایسے نقش ہوئے کہ پھر کوئی اور تصویر خیال میں نہ ابھر سکی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوگیا اور ترقی کی منزلیں طے کرتا کرتا مدرسۃ المدینہ میں بطورِ مدرِّس خدمتِ دین کرنے لگا ۔ 1992ء میں سبز مارکیٹ میں قائم ہونے والے جامعۃ المدینہ کا افتتاح ہوا تو میں بھی جامِ علم کے طلبگاروں میں شامل ہوگیا ۔ مختلف جامعات میں راہِ علم کا سفر طے کرتے کرتے میں فارغ التحصیل ہوا اور خود کو 12ماہ کے لئے مَدَنی مرکز کی خدمت میں پیش کردیا ۔ بیرونِ ملک سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت بھی ملی ۔پھر کنزالایمان مسجد (بابری چوک باب المدینہ کراچی ) میں امامت کے فرائض سرانجام دینے لگا ۔ ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام میں بھی مصروفِ عمل رہا ۔پیرومُرشِد امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی نگاہِ کرم کے صدقے تادمِ تحریر  پاکستان انتظامی کابینہ وباب المدینہ مشاورت کے ساتھ ساتھ مجھے اسلامی بہنوں کے مَدَنی کاموں ، جامعۃ المدینہ للبنات و(باب المدینہ سطح کے)مدرسۃ المدینہ للبنات کے خادِم (نگران)کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کی سعادت حاصل ہے ۔

اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(11) کہاں سے کہاں جا پہنچا!

        پنجاب(پاکستان) کے شہر گوجرہ کے ایک اسلامی بھائی محمد آصف العطاری المدنی (عمر تقریباً 31سال)کا بیان ہے کہ غالباً1989ء کی بات ہے کہ میں اِسکول میں نویں جماعت کا اِسٹوڈنٹ تھا ۔ گھر میں مَدَنی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے میں بھی سنّتوں بھرے ماحول سے دُورتھا ۔ چُنانچہ نمازوں کی پابندی نہ کرنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سننااور اپنا وقت فضولیات ولغویات اور دیگر برائیوں میں برباد کرنا میرامعمول تھا ۔بڑا افسر بننے کا خواب بچپن ہی سے میری آنکھوں میں سجا دیا گیا تھا۔ چُنانچہ میں اکثر وبیشتر اس خواب کی عملی تعبیر پانے کی فکر میں مبتلا رہتا مگر افسوس ! کہ میں فکرِ آخرت سے غافل تھا، اُخروی کامیابیوں کی تمنا سے میرا دل ایک طرح سے خالی تھا ۔میری سعادتوں کی معراج کا سفر اس طرح شروع ہوا کہ میں اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے محلے میں جایا کرتا تھا ۔ وہاں میں نے چند اسلامی بھائیوں کو دیکھا جن کے سر پر سبز سبز عمامے تھے ۔ معلومات کیں تو پتا چلا کہ یہ دعوتِ اسلامی والے ہیں ۔ عین شباب میں مجھے ان کا یہ رُوپ بہت اچھا لگا لیکن میں یہ سوچ کر ان کے قریب ہونے سے کترا گیا کہ نامعلوم یہ کس مکتبۂ فکر کے لوگ ہیں ؟ کیونکہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ    والِدصاحب (اللہ  تَعَالٰی  اُن کے مرقد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے)کی تربیت کی برکت اور علمائے اہلسنّت دامت فیوضھم کی نعلین کے صدقے بچپن ہی سے میرے ذہن میں یہ بیٹھا ہوا تھا کہ ہم سُنِّی ہیں ، اعلیٰ حضرت امام  احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ماننے والے ہیں جواِن کا نہیں وہ ہمارا نہیں ، اگرچہ عقائد ِ اہلسنّت کی تفصیلات مجھے معلوم نہ تھیں ۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کو بھی میں بعدِنمازِجمعہ پڑھے جانے والے سلام کے حوالے سے جانتا تھا کہ یہ انہوں نے لکھا ہے ۔

        وقت یونہی گزرتا رہا ۔ایک دن میں نَمازِ عصر پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا۔ باہر نکلتے وقت ایک عاشقِ رسول (جو میرے شناسا تھے)نے میری خیر خواہی کرتے ہوئے مجھے روکا اور فیضانِ سنّت کے درس میں بیٹھنے کی درخواست کی ۔ میں اِنکار نہ کرسکا اور درس میں شریک ہوگیا۔ سفید لباس میں ملبوس سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی نے فیضان سنّت سے درس دینا شروع کیا ۔ جسے سُن کر شاید میں پہلی مرتبہ حقیقی معنوں میں اپنی آخرت کے لئے فکر مند ہوا ۔ درس کے بعد اس اسلامی بھائی نے مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ، میں نے حامی بھر لی ۔ جمعرات کو اپنے دوست کے ہمراہ اجتماع میں شریک ہوا ۔ وہاں میں نے مبلغِ دعوتِ اسلامی کا بیان سُنا جو بڑا دلنشین اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ    کی صداؤں اوررو رو کر کی جانے والی رِقّت انگیز دُعا نے مجھے بَہُت متأثر کیا ۔ پھر جب سب نے کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلامپڑھنا شروع کیا تو میں بھی شامل ہوگیا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن