30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھائی فیضان سنت کا درس دینے کے لئے آیا کرتے تھے۔اس وقت ہمارے شہر میں گنتی کے چند اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے ۔میں بھی ان کے درس میں بیٹھ جاتا تھا۔ ایک دن درس دینے کے بعد وہ مجھ سمیت دیگر شرکائِ درس سے کہنے لگے کہ چونکہ میں دُور سے آتا ہوں ، کبھی غیر حاضری بھی ہو جاتی ہے، اس لئے اگر آپ لوگ بھی درس کا طریقہ سیکھ لیں تو بہت مُفید رہے گا کہ اگر میں کسی دن نہ پہنچ پاؤں تو درس کا ناغہ نہ ہو ۔تجویز معقول تھی لہٰذا سب تیار ہوگئے اورمجھ سمیت تقریبا 4 افراد نے درس کا طریقہ سیکھنا شروع کیا ۔کچھ ہی دِن بعد وہ اسلامی بھائی کسی وجہ سے نہ آسکے ۔ مسجد میں فیضان سنت بھی موجود نہیں تھی لیکن گزشتہ روز دُرُود پاک کی فضیلت پر درس میں جو واقعہ بیان ہوا تھا وہ مجھے اچھی طرح یاد تھا ۔میں ہمت کر کے کھڑا ہوا اور وہی حِکایت سُنا کرزندگی کا پہلا بیان کرنے کی سعادت حاصل کی۔کچھ دنوں بعد فیضان سنت بھی دستیاب ہو گئی ۔جب کبھی وہ اسلامی بھائی درس کے لئے نہ پہنچ پاتے تو میں درس دیا کرتا ۔وہ مبلغ اسلامی بھائی درس کے بعد وہیں بیٹھ کر ہم پر مختلف مَدَنی کاموں میںحصہ لینے کے لئے انفرادی کوشش کیا کرتے اور ہمیں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بارے میں بھی بتایا کرتے ۔(اللہ تَعَالٰی انہیں دونوں جہاں میں آباد رکھے۔)
تقریباً3 ماہ بعد ہمیں یہ خوشخبری سننے کو ملی کہ قبلہ شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سنتوں بھرے اجتماع میں بیان کرنے کے لئے میرپور خاص تشریف لا رہے ہیں ۔اُنہی اسلامی بھائی نے ہمیں اس عظیم الشان سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے کی دعوت دی اور حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات بیان کرتے ہوئے شیخ طریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعہ سلسلۂ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہونے کی ترغیب بھی دی ۔ میں نے بمشکل گھر سے اس اجتماع میں شریک ہونے کی اجازت حاصل کی اور بڑی شدت سے سنّتوں بھرے اجتماع کی تاریخ کا انتظار کرنے لگا ۔
مقررہ تاریخ کو ہمارے شہر سے عاشقانِ رسول کا بہت بڑا قافلہ دُرُود و سلام کے گجرے نچھاور کرتا ، سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعتیں پڑھتا ہوا تقریباً 63کلو میٹر دور واقع سند ھ کے مشہور شہر میرپور خاص کی طرف روانہ ہو گیا۔میں بھی اِ ن خوش نصیبوں میں شامل تھا ۔شہر بھر میں رونقیں تھیں جدھر دیکھتے عماموں کا سبزہ دکھائی دیتا ۔اجتماع گاہ میں پہنچے تو وہاں بھی بہت رش تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ آگے جا کر بیان سنوں تاکہ قبلہ شیخ طریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت بھی ہو سکے مگر میں کامیاب نہ ہو سکااور دیدارِ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے محروم رہا ۔ بیان کے اختتام پر قبلہ شیخ طریقت، امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اجتماعی توبہ کروانے کے بعد بیعت کروائی تو میں بھی دامن امیراہلسنّت سے وابستہ ہو کر عطّاری بن گیا اور حضور غوث پاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا ،
جمیل قادری سو جان سے قربان مرشد پر
بنایا جس نے مجھ جیسے کو بندہ غوث اعظم کا
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں دن بدن اس مدنی ماحول کے رنگ میں رنگتا چلا گیا ۔ میں چونکہ ناظرہ قرآن پاک پڑھنا نہیں جانتا تھا لہٰذا میں نے بعدِ نماز عشاء قائم ہونے والے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں قراٰن پاک صحیح مَخارِج کے ساتھ پڑھنے کی کوششیں بھی شروع کردیں ۔آہستہ آہستہ فیضانِ سنّت سے درس دینے کی ذمہ داری بھی مستقل طور پر مجھے عطا کر دی گئی۔پھر دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں بیان کی سعادت بھی ملنا شروع ہو گئی ۔چونکہ علمِ دین کے حصول کی ترغیب اس مدنی ماحول کی برکتوں میں سے ایک عظیم برکت ہے چنانچہ جب کبھی ہم ہفتہ وار اور سالانہ سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کی ترغیب کے لئے کسی کو فیضان سنت سے علمِ دین کے فضائل پڑھ کر سُناتے تو اپنے منہ میں بھی پانی آجاتا اور دِل میں عالِم بننے کی خواہش مچلنے لگتی ۔
باب المدینہ کراچی سے عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں سفر کرتے ہوئے ہمارے شہر میں آیا کرتے ۔ درسِ نظامی کی اصطلاح بھی پہلی بار انہی کی زبانی سُنی اور انہی کے ذریعے معلوم ہوا کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ باب المدینہ میں دعوت اسلامی کے تحت درسِ نظامی یعنی عالم کورس شروع ہو چکا ہے۔ میں انٹر سائنس کا امتحان پاس کر چکا تھا۔والد صاحب کے انتقال کے بعد بڑے بھائی گھر کے واحد کفیل تھے۔ میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ مختلف کام کاج کر کے اپنا جیب خرچ چلاتا تھا ۔مجھے گمان غالب تھا کہ اب میری عُمر کسی نہ کسی جگہ نوکری کرتے ہوئے ہی بسر ہوگی اور باقاعدہ علمِ دین حاصل کرنے کا خواب ‘خواب ہی رہے گا ۔مگر نگاہِ مُرشد کا صدقہ کہ حیرت انگیز طور پر میرے گھر والوں نے سینکڑوں میل دور جا کر علم دین حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ شفقت بڑے بھائی کی رہی جنہوں نے نہ صرف اکیلے گھر کو سنبھالا بلکہ میرا خرچ بھی اٹھاتے رہے ۔اللہ تَعَالٰی انہیں دونوں جہاں میں خوش رکھے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
میں جون 1996ء میں اپنے نگران کے ساتھ باب المدینہ کراچی آیا(اللہ تَعَالٰی ان کی مساعی کو قبول فرمائے )اور جامعۃ المدینہ (گودھرا کالونی نیوکراچی باب المدینہ کراچی) میں داخلہ لے لیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اپنے مرشد پاک امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے طُفیل یہ کورس مکمل کیااور آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی کے مبارک ہاتھوں سے دستارِ فضیلت اپنے سر پر سجائی ۔اس کے بعد تخصص فی الفقہ(یعنی مُفتی کورس) کیا۔یوں میں اللّٰہ تبارک و تَعَالٰی کی عطا ، اس کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگاہ کرم، اپنے مرشد ِ کریم شیخ طریقت امیر اہل سنتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان اور اپنے اساتذۂ کرام دامت فیوضھم کی شفقتوں کی برکتوں کو پاتا ہوا تادمِ تحریر 5 سال سے جامعۃ المدینہ میں (منتہی درجات، دورۂ حدیث شریف اورتخصص فی الفقہ کی کتب کی) تدریس اور دار الافتاء اہل سنت (نورالعرفان سید معصوم شاہ بخاری مسجد، نزدپولیس چوکی باب المدینہ کراچی) میں فتوی نویسی کی خدمت کر رہا ہوں ۔ علاوہ ازیں تصنیف و تالیف کا بھی سلسلہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع