30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّایسی نابغہ روزگار ہستیاں آج بھی موجود ہیں کہ جن کی حیات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے ۔جس کی زندہ مثال امیرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے دعوتِ اسلامی کے آغاز میں جس قدر تکالیف، رکاوٹوں اور پریشانیوں کا سامنا کیا بیان سے باہر ہے ۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہدور دراز علاقوں میں نیکی کی دعوت کے لیے جاتے ، بس کا کرایہ نہ ہوتا تو پیدل سفر فرماتے ، کبھی کھانا ساتھ لے جاتے اور کبھی یوں ہی فاقہ کشی فرماتے ۔مسجد میں درس دینے کے لیے جاتے تو ناسمجھ لوگ دھکے دے کر مسجد سے نکال دیتے ، برا بھلا کہتے ۔اس قدر مخالفتوں اور مشکل حالات میں بھی صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا ۔آپ دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ الْعَالِیَہکی دن رات محنت اور استقامت کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ آج یہی دعوت اسلامی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا کے کم وبیش 200 ممالک میں دین کا پیغام عام کر چکی ہے ۔
تبلیغِ قراٰن و سنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک’’ دعوتِ اسلامی ‘‘کی بڑھتی ہوئی شان وشوکت سے بَوکھلا کر بعض دشمنوں نے ۲۵ رجبُ الْمرجَّب ۱۴۱۶ھ شب ِپیر تقریباً ۱۲ بجے مرکزالاولیاء(لاہور) میں امیرِاہلسنّت کی جان لینے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہپر حملہ کیا ۔چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے ابھی دین کا کام لینا تھا آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے محفوظ رہے مگر اس حملے کے نتیجے میں دو جواں سال مُبلّغِین الحاج اُحُد رضا عطاری اور محمد سجّاد عطاری شہید ہو گئے ۔اسی طرح بعد میں بھی آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکو قتل کی دھمکیاں دی جاتی رہیں مگر آپ نے مدنی کام اور تیز کردیا جس کی بہاریں آج ہمارے سامنے ہیں ۔
اخلاق حسنہ اور عاجزی و انکساری
غزالئ زماں حضرت علامہ مولانا سَیّد اَحْمَد سعید شاہ کاظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صحیح معنوں میں اخلاقِ نبوی کاعملی نمونہ تھے ۔جس کسی کو بھى آپ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا اتفاق ہوا وہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حسنِ اخلاق کا گروىدہ ہوگیا ۔
اىک مرتبہ ایک صاحب نے اپنے بھانجے کى شادى مىں آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو مدعو کىا اور نکاح پڑھانے کی درخواست کى۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے منظور فرمالى۔نکاح کے لئے عصر اور مغرب کا درمىانی وقت طے کیا گیا ۔بارات آنے میں کچھ دىر ہوگئى، وہ صاحب مغرب کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو لىنے پہنچے تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا : حاجى صاحب آپ نے تو عصر کے بعد نکاح کا فرمایا تھا اب تو مغرب بھی ہو چکی ،اب مىرے پوتے کا عقىقہ ہے اور مہمان آئے ہوئے ہىں۔ان صاحب کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی : عالی جاہ ! کچھ دىر ہوگئى ہے ،آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا : اچھا چلو،ابھى آپ نے کپڑے بھى تبدىل نہىں کىے تھے صاحبزادوں نے عرض کی : ابا جان کپڑے تبدىل فرمالىں، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا : ابھى آجاتا ہوں۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اطمینان سے نکاح پڑھاىا، طویل دُعا مانگی۔ان صاحب کا بیان ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو جلدى واپس جانا تھا کہ گھر مىں مہمان آئے ہوئے تھے ،اس کے باوجود اتنا وقت عطا فرمایا کہ ہم سب کا دل بے حد خوش ہوگىا ۔([1])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ طلبہ کے ساتھ نہایت شفقت اور حسن اخلاق سے پیش آتے ۔اندازِ تدرىس بالکل عام فہم اور آسان تھا ،اسباق نہایت شفقت سے سمجھاتے ۔اپنے شاگرد کو مولانا کے لفظ سے ىاد فرماتے تھے ۔اگر کسی طالب عِلْم سے کوئی کوتاہى ہوجاتى تو درگزر فرماتے ہوئے اس کی پردہ پوشى فرماتے اور اس کے حق مىں دعائے خىر فرماتے ۔طلبہ سے تو اس قدر محبت تھی کہ بعض اوقات کھانا اور چائے تک خود پىش فرماتے ۔([2])
ایک عالم صاحب کا بیان ہے کہ مرتبہ اندرون بوہڑ گىٹ (مدینۃ الاولیاء ملتان ) سے اىک غرىب آدمى حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ مىں نے حصولِ برکت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع