30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
51سال تک فی سبیل اللہ خطابت
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ۱۹۳۵ء سے شاہى مسجد عىدگاہ مىں خطابت اور جمعہ و عیدین کی نمازکی امامت کے فرائض سنبھالے اور دمِ آخر تک تقریباً ۵۱سال فی سبیل اللہ ىہ فرائض انجام دىتے رہے ۔([1]) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سبحان اللہ ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ اللہ والوں کی شان ہے ۔اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو دور اسلاف ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے اور ان اسلاف کے فیوض وبرکات سے حصہ پانے والے بندگان خدا آج بھی موجود ہیں جن کے پیش نظر فقط اپنے رب عَزَّ وَجَلَّکی رضا اور دین اسلام کی خدمت ہے چنانچہ ایک بار جامعات المدینہ دعوت اسلامی کی تربیتی نشست کے موقع پرشیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت،بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تربیت کرتے ہوئے اپنی امامت کا ذکر فرمایا جس کا خلاصہ ہے : میں نے شہید مسجد کھارادر میں تقریباً ۹ ماہ تک فی سبیل اللہ امامت کی اور نور مسجد ( کاغذی بازار میٹھادر باب المدینہ کراچی) میں تقریباً ۱۰ سال تک امامت کا شرف حاصل ہوا ۔انہی دنوں دعوت اسلامی کی بنا بھی پڑ چکی تھی اور درس و بیاں کے لیے مختلف جگہ جانے کی وجہ سے اکثر نمازوں میں نہ پہنچ پاتا ۔امامت کے فرائض کما حقہ ادا کرنا مشکل ہوگیا تو میں نے وہاں سے معذرت کرلی اور دعوت اسلامی کے مدنی کاموں میں مصروف ہوگیا ۔ میرے دل میں یہ بات کھٹکتی تھی کہ میری امامت بالکل فی سبیل اللہ ہوجائے ۔چنانچہ اپنی بہن سے اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے فرمایا کہ ٹھیک ہے گھی گرے گا تو کھچڑی میں گرے گا کے مصداق پیسے جائیں گے تو مسجد ہی میں جائیں گے اس میں ہمارا کیا نقصان لہذا میں نے ۱۰سال کا اندازاً حساب لگایا تو 72000 روپے بنے ۔یہ ساری رقم مسجد کی خدمت کی نیّت سے مسجد انتظامیہ کے سپرد کر دی ۔نیز مسجد انتظامیہ کے نام مکتوب بھی لکھا کہ اس بات کو صیغۂ راز میں ہی رکھا جائے مگر انہوں نے خوش ہو کر اس مکتوب کی کاپیاں تقسیم کروا دیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اہلسنّت پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شرف ملت استاذالعلماحضرت علامہ عبدالحکىم شرف قادریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ فواد نامی ایک عیسائی پادری جو کہ ملک شام کا رہنے والا تھاتقریباً ہر سال پاکستان آىا کرتا ۔اس نے مختلف مکاتب فکر کے علما سے مناظرے بھى کىے مگر کسى سے مطمئن نہ ہوا۔حسب معمول 1960ء مىں جب وہ پاکستان آیا توحضرت علامہ سىد اَحْمَد سعىد شاہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاں ٹھہرا ۔اس نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے قرآن کریم پر کچھ اعتراضات کیے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حقانیت و صداقتِ قرآن پر بکثرت دلائلِ عقلیہ و نقلیہ پیش فرمائے ۔دلائل و براہین کے کوہِ گراں کے آگے اسے دم مارنے کی جرأت نہ ہوئی اور بالآخر وہ مطمئن ہوگیا اور اسی وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دست مبارک پر توبہ کرکے مسلمان ہوگیا ۔اس نے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف کے عىسائىوں کو جمع کىا اور انہىں بھی دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ تم بھى مسلمان ہوجاؤ، کىونکہ مىں علامہ کاظمى شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دلائل سے مطمئن ہو کر ان کے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کرچکا ہوں ۔شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے ىہ واقعہ17 مارچ 1986ء بروز پیر شریف خود غزالى زماں رازى دوراں حضرت علامہ سىد اَحْمَد سعىد شاہ کاظمىرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سناىا اور ىہى حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مىرى آخرى ملاقات تھى جسے مىں کبھى نہىں بھول سکتا۔([2])
جامعہ اسلامیہ بہاولپور مىں بحیثیت شیخ الحدیث
محکمہ اوقاف نے علوم اسلامىہ میں تخصص اورتحقىق کے لىے بہاولپور مىں جامعہ اسلامىہ قائم کىاتو اس کے شعبہ حدىث مىں بلند پاىہ محقق اور حدیث و اصول حدیث پر مہارت تامہ رکھنے والی شخصیت کی ضرورت تھى۔محکمہ اوقاف کی نظر غزالئ زماں علامہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرآکر ٹھہر گئی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع