30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برادرِ اکبر اور آبائی وطن سے جدا ہوئے ایک سال کا عرصہ ہوچکا تھا ۔یاد وطن نے ستایا تو ۱۹۳۱ء مىں آپ مرکزالاولیاء لاہور سے واپس امروہہ تشرىف لے گئے اور وہیں مدرسہ محمدىہ حنفىہ مىں فرائضِ تدریس انجام دینے لگے ۔([1])
حضرت علامہ سَیّد محمد خلیل شاہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہر پہلو سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تربیت فرمائی ۔برادرِ اکبر نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بزرگانِ دین اور صوفیا کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی بھی تربیت فرمائی ۔چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اىک دروىش صفت بزرگ حضرت سَیّدنفیر عالم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں وقتا فوقتا ہوتے اورآپ نے حضرت سىّدنفىر عالم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کواپنا شىخِ صحبت بنالىا تھا ۔حضرت سىّدنفىرعالمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر سال مدینۃالاولیاء ملتان مىں خواجہ غرىب نواز سلطان الہند معىن الدىن حسن چشتى اجمىرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا عرس منعقد کىا کرتے ۔ایک بارعرس کے موقع پر حضرت کاظمی شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بیان کی دعوت دی گئی جسے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بَطِیبِ خاطر (خوشی خوشی)قبول فرمالیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان میں عِلْم وحکمت کے مدنی پھولوں کے گلشن کھلا دیے ۔عشاقانِ رسول کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا اندازِ بیاں اس قدر بھایا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مدینۃالاولیاء ملتان شریف ہی میں تشریف فرما رہنے کی اِستدعا کرنے لگے ۔بالآخر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اہلِ عقیدت کے پیہم اصرار پران کی عرض قبول فرمالی ۔ىوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۱۳۵۳ھ بمطابق ۱۹۳۵ءمىں مدینۃالاولیاء ملتان شریف میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہوگئے ۔([2])
مدینۃالاولیاء میں درس و تدریس کاآغاز
مدینۃالاولیاء ملتان شریف میں قیام فرمانے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بلاتاخیر شمع عِلْمِ دین روشن کرنے کا انتطام فرمایا چنانچہ اپنے دولت خانے پر ہی درس و تدرىس کا سلسلہ شروع فرمادىا ۔تشنگانِ عِلْم کو کاظمی چشمے کا عِلْم ہوا تو دوردراز سے پیاس بجھانے کے لیے آنے لگے ۔([3])
نومبر 1935ء مىں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جامع مسجد فتح شىر بىرون لوہارى دروازہ مىں درسِ قرآن کا آغاز فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی استقامت کو لاکھوں سلام کہ ایک دن بھی درسِ قرآن کا ناغہ یا تاخیر نہ فرمائی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسلسل اٹھارہ برس تک اس مسجد مىں درس قرآن فرمایا۔صرف بسم اللہ شرىف پر چھ ماہ درس فرماىا ۔([4])
کچھ عرصہ بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت چپ شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى مسجد مىں درسِ حدیث کا آغاز فرمادیا چنانچہ پہلے مشکوة شریف اور اس کے بعد بخارى شرىف کا درس مکمل فرماىا۔([5])
جن مساجد میں درس قرآن اور حدیث فرمایا
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مدینۃالاولیاء ملتان شریف کی تقریباً ۹ مساجد میں درس وبیاں کا سلسلہ جاری فرمایاجن کے نام یہ ہیں : (۱)مسجد فتح شىر بىرون لوہارى دروازہ محلہ قدىرآباد(۲)مسجد چپ شاہ (۳)جامع مسجد پھول ہٹ چوک شاہ مجىد(۴) مسجددرکھاناں والى نواں شہر(۵)مسجد مرکزى انوار العلوم کچہرى روڈ(۶) مسجد غوثىہ قادرى،قلعہ کہنہ(۷)نورى مسجد ممتاز آباد(۸) شاہى مسجد عىدگاہ(۹)مسجد دربار پىر ۔([6])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع