30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں اپنى گود مىں اٹھالىا اور دىر تک اپنى دعاؤں اور شفقتوں سے نوازتے رہے ۔([1])
حضرت علامہ سَیّد محمد خلیل شاہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۹۰ھ بمطابق1970ء بروز ہفتہ صبح چھ بجے روزہ کی حالت میں دنیا سے پر دہ فرما گئے ۔([2])
والدہ ماجدہ اور ابتدائی تعلیم وتربیت
مشہور ہے کہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے ۔جن ہستیوں کی گود نے یہ حق ادا کیا ان میں سے ایک حضرت علامہ سَیّد اَحْمَد سعید شاہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ابھی ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى والدہ ماجدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ انے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی تعلىم و تربىت کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دىا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود فرماتے ہیں : میری والدہ محترمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیری تربیت کے دوران سوتے جاگتے ،اٹھتے بیٹھتے سرکارِدوجہاں،سرورِ کون و مکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیارے پیارے فرامین اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ طَیّبہ کے واقعات ارشاد فرماتی تھیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دینی علوم کا اکثر حصہ اپنی والدہ سے پڑھا ،ہدایہ آخرین بھی آپ کی والدہ ماجدہ نے ہی پڑھائی ۔([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے جب اس طر ح کی مائیں ہوتی ہیں تو بیٹے بھی غزالئ زماں اور رازی دوراں بنتے ہیں ۔ہمارے اسلاف کی تاریخ ایسے روشن واقعات سے بھری پڑی ہے ۔اولاد کو عِلْمِ دین سکھانے اور گھر کا ماحول سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اسلامی بھائیوں کے ساتھ ساتھ اسلامی بہنوں کا بھی عِلْمِ دین کے زیور سے آراستہ ہونا ضروری ہے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس پرفتن دور میں بھی تادمِ تحریر (رمضان المبارک ۱۴۳۵ھ)دعوتِ اسلامی 96سے زائدشعبہ جات میں دینِ متین کی خدمت کر رہی ہے لاکھوں لاکھ اسلامی بھائی مدنی ماحول سے وابستہ ہیں ،اسی طرح اسلامی بہنیں بھی مدنی ماحول کی برکتوں سے فیض پا رہی ہیں ۔اسلامی بہنوں کی درست اسلامی تربیت کے لئے انہیں دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار اجتماع میں بھیجئے اور عِلْمِ دین کی مزید برکتیں حاصل کرنے کے لئے انہیں دعوت اسلامی کے تحت جامعات المدینہ للبنات میں داخلہ دلوائیں اور اپنے گھر میں عِلْمِ دین کی شمع روشن کریں۔مدنی منّوں اور مدنی منّیوں کو مدرسۃ المدینہ اور دارالمدینہ میں داخلہ دلوائیے اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ آپ کے گھر میں مدنی ماحول قائم ہو جائے گا ۔
برادرِا کبربحیثیت استاد و مرشِد
حضرت علامہ سىّدمحمد خلىل کاظمى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے صرف بھائی ہی نہیں بلکہ استاداور پیر ومرشِد بھی تھے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے والدہ ماجدہ کے بعدتقریباً تمام علوم وفنون برادرِ اکبر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پڑھے اور آپ ہی کے دستِ اقدس پر بىعت ہوئے ۔([4])
فاقہ مستی میں بھی احادیث حفظ کرتے
غزالئ زماں حضرت علامہ سَیّد اَحْمَد سعید شاہ کاظمىرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے اىام طالب عِلْمى کا ذکر کرتے ہوئے فرماىا کرتے تھے کہ بچپن مىں تعلىم کے بعد اکثر و بىشتر کھانے کو بہت کم ملتا تھا، اکثر فاقوں مىں زندگى بسر ہوتى تھى اس حالت مىں بھى روزانہ حدىث کے چالىس چالىس صفحات ىاد کرلىا کرتا تھا ۔([5])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوزمانہ طالب علمی ہی میں تصنیف و تالیف کا شوق تھا چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ۱۳۴۴ھ بمطابق 1926ء ۱۳ سال کی عمر میں انتہائى عِلمى تحقیق رقم فرمائی۔جس کا نام آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ’’تَسبِىحُ الرَّحمٰن عَنِ الکِذبِ وَالنُّقصَان‘‘ رکھا ۔([6])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع