30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدینۃالاولیاءملتان شریف میں آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کى تدفىن عمل مىں آئى ۔([1])
غزالئ زما ں اور علماکے تاثرات
سَیّد آل مجتبیٰ علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (سجادہ نشین اجمیر شریف) :
حضرت علامہ سَیّد اَحْمَد سعید کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عِلْم و عمل میں بے مثال تھے ۔وہ حُضور خواجہ اجمیر عطائے رسول سَیّدنا معین الدین اجمیری غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور دیگر اولیائے کاملین کا نمونہ تھے ۔ظاہری و باطنی علوم کا مرکز تھے ۔وہ حُضور خواجہ اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی نسبت کی ہمیشہ قدر کرتے ۔حضرت والد ماجد سَیّد آلِ رسول علی خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے آپ کے گہرے مَراسِم تھے جب بھی ملاقات ہوتی بے پایاں شفقتوں سے نوازتے تھے لیکن آہ! آج ہم ان کی شفقتوں سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پیارے بندے کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔([2])
شارح بخاری علامہ سَیّد محمود اَحْمَد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی :
علامہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اہلسنّت کی ایک عظیم اور جلیل القدر روحانی و سیاسی شخصیت تھے ۔انہوں نے پوری زندگی پاکستان کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لیے صرف کی وہ حدیث ، فقہ، تفسیر، اصول اور تمام علوم اسلامیہ کے بے نظیر عالم تھے ۔([3])
مفتی سَیّد شجاعت علی قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:
مجھے علامہ کاظمی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جیسے عظیم استاد پر فخر ہے جن کی دینی و ملی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ یہ بات ہمارے لیے باعث تسکین و اطمینان ہے کہ علامہ کاظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے صاحبزادگان بحمدہ تعالی دینی علوم سے بہرہ مند ہیں اور علماوفضلا ہیں جو یقیناً اپنے عظیم باپ کے عظیم مشن کو جاری و ساری رکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے ۔([4])
رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ :
اس میں قطعی دو رائے نہیں کہ حضرت غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مختلف اصناف کے محاسن و کمالات کے جامع ہونے کی حیثیت سے ایک نادرُالوُجُود شخصیت کے مالک تھے ۔وہ اپنے عہد کے بے مثال محقق بھی تھے ، بے نظیر خطیب بھی تھے اور یَگانہ روزگار مدرس بھی، اسی کے ساتھ اردو ادب میں وہ ایک ایسی زبان ک موجد بھی تھے جسے انہوں نے عربی درسگاہوں، دارالافتاؤں، صحافیوں، خطیبوں، کی زبانوں کے اِمتِزاج سے تیار کیا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے مقالات پڑھتے ہوئے قاری انہیں کئی روپ میں دیکھتا ہے ۔جب کبھی فتوے کی زبان میں بات کرتے ہیں تو الفاظ چیخنے لگتے ہیں کہ ایک فقیہ بول رہا ہے اور جب کسی عِلْمی مسئلے پر قلم اٹھاتے ہیں تو درسگاہ کی زبان کا وقار دیکھنے کے قابل ہوتا ہے لیکن جب قومی اور ملکی مسائل پر اظہار خیال فرماتے ہیں تو انداز تحریر اچانک ایک صحافی کے پیرایہ بیان میں تبدیل ہوجاتاہے اور جب دعوت و تذکیر اور اصلاح وتبلیغ کی مسند سے بات کرتے ہیں تو سطر سطر سے ایک خطیب و داعی کا رنگ جھلکتا ہے ۔تحریر کی اسی بو قلمونی اور قلم کی اسی نیرنگی نے مقالے کی زبان کو رنگا رنگ پھولوں کے گلدستہ کی طرح خوبصورت بنا دیا ہے ۔([5])
شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ :
میدان خطابت و تصنیف میں ان کے زور بیان ، قوت استدلال اور دلائل کی فراوانی کے آگے اہل باطل کے دل بیٹھ جاتے ۔یوں دکھائی دیتا کہ مخالفین کی تمام کاوشیں ایک سیل بے پناہ کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہتی چلی جا رہی ہیں، یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کا راستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں، مخالفتوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع