30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غزالىٔ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا اسم گرامی سىد اَحْمَد سعىد ہے اورمشہور نام علامہ سَیّد اَحْمَد سعید شاہ کاظمى ہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے : ’’سَیّد اَحْمَد سعید کاظمى بن سَیّد مختار اَحْمَد کاظمی بن سَیّد یوسف علی چشتی بن سَیّد شاہ وصی اللہ نقشبندی مجددی بن سَیّد صبغۃاللہ نقشبندی بن سَیّد سیف اللہ شاہ چشتی رَحمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمُ‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا سلسلۂ نسب ۳۷ واسطوں سے حضرت سَیّدنا امام موسی کاظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور ۴۴ واسطوں سے سردار دوجہاں، مالک کون ومکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جاملتا ہے ۔غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مبارک خاندان مغل بادشاہ اکبر اعظم کے دور میں دہلی میں آباد ہوا۔پھر کچھ عرصہ بعد اترپردیش ضلع مرادآباد کے مضافاتی علاقے امروہہ میں آباد ہوگئے ۔([1])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک بار بچپن میں والدِ محترم سَیّد مختار اَحْمَد کاظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِینے اپنا عمامہ شریف اتار کر مىرے سر پر رکھ دىا اور اس پر تھپکى کے انداز میں اپنا دستِ شفقت پھىرتے ہوئے فرماىا : مىرا ىہ بچہ بہت بڑا عالم بنے گا، بہت بڑا عالم بنے گا۔([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مشہور ہے کہ اولاد کے حق میں والدین کی دُعا جلد قبول ہوتی ہے ۔والدین کو اپنی اولاد کے لئے دنیوی بہتری کے ساتھ ساتھ اُخروی کامیابی کی دُعابھی کرنی چاہئے ۔بعض والدین اپنی اولاد کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بددعا دے ڈالتے ہیں پھر جب یہ بددعائیں اپنا اثر دکھاتی ہیں تو یہی والدین ان کی اصلاح کے لئے لاکھوں جَتَن کرتے ہیں۔حضرت سیّدُنا امام محمدغزالیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالوَالِی مُکاشَفَۃ ُالقلوب میں نقل فرماتے ہیں : ایک آدمی حضرت سیّدناعبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بچے کی شکایت کی ۔آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’کیاتم نے اس کے خلاف بددعا کی ہے ؟‘‘اس نے کہا : جی ۔آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : تم نے خود ہی اسے برباد کر دیا ہے ، بچے کے ساتھ نرمی اختیار کرنا ہی اچھا کام ہے ۔([3])لہذاوالدین کو چاہئے اپنی اولاد کو ہرگز بددُعا نہ دیں بلکہ دعاؤں سے ہی نوازا کریں کہ والدین کی دُعائیں اولاد کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہیں جیسا کہ علامہ کاظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے والد کی دُعا آپ کی کامیابی کا سبب بنی ۔
غزالئ زماں حضرت علامہ سَیّد اَحْمَد سعید شاہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عمر مبارک تقریباً۶سال تھی کہ والدِ محترم کا ساىہ سر سے اٹھ گىا تھا، آپ کى پرورش اور تعلىم و تربىت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ اور برادرِ مُکَرَّم حضرت علامہ سىد محمد خلىل شاہ کاظمی چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے زىرِ سایہ ہوئی ۔([4])
غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے برادرِ اکبر حضرت علامہ سىد محمد خلىل شاہ کاظمی چشتیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جىّد عالمِ دین، فاضلِ جلیل،عظىم محدث اور صاحبِ نظر دروىش منش انسان تھے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شاہ جہان پور کے مدرسہ بحرالعلوم اور امروہہ کے مدرسہ مُحَمَّدِیہ حَنفیہ میں درس و تدریس فرماتے تھے ۔شعر و شاعری سے بھی شغف تھا۔ہمیشہ عشقِ رسول میں ڈوبی نعتىں کہا کرتے تھے ۔([5])
اعلیٰحضرت نے دُعاؤں سے نوازا
حضرت علامہ سَیّد محمد خلىل شاہ کاظمى عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیکے امامِ اہلِ سنّت اعلىٰ حضرت علامہ مولانا شاہ امام اَحْمَد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے اچھے تعلقات تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاں آنا جانا تھا ۔ایک بار حضرت علامہ سَیّد محمد خلیل شاہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى خدمت مىں حاضر ہوئے تو غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (جو ابھی چھوٹے تھے )بھی ساتھ تھے ۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع