30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
1970ء) کے عرس مبارک کے موقع پر اپنے مرىدىن کو نصیحت کرتے ہوئے فرماىا : اپنے مذہب پر قائم رہو، مىں آپ کو بتادوں کہ امامِ اہلِ سنت مجدد دىن و ملت شاہ اَحْمَد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا مسلک مىرا مسلک ہے مىرے تمام مرىدىن اسى مسلک پر قائم رہىں جو اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مسلک سے اىک قدم بھى باہر رکھے گا وہ مىرا مرىد نہىں، ہاں وہ مىرا مرىد نہىں، ہاں وہ مىرا مرىد نہىں ۔([1])میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلکِ اعلی حضرت کوئی نیا مسلک یا فرقہ نہیں بلکہ اہل سنت و جماعت ہی ہے جس کی صحیح تعلیمات کو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اجاگر فرمایا ۔علماو مشائخ اہل سنت اسی لیے اپنے مریدین ومعتقدین کو مسلکِ اعلی حضرت پر قائم رہنے کی نصیحت فرماتے ہیں ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی گاہے گاہے اپنے مریدین معتقدین کو مسلکِ اعلی حضرت پر گامزن رہنے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ذرا برابر بھی اختلاف رکھنے سے بہت دور رہنے کی تلقین فرماتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : آپ میں سے اگر کسی کا میرے آقا اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اختلاف کا معمولی سا بھی ذہن بننا شروع ہوجائے تو سمجھ لیجیئے کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپکی بربادی کے دن شروع ہوگئے ! لہذا فوراً چوکنے ہو جائیے اور اختلاف کے خیال کو حرف غلط کی طرح دماغ سے مٹا دیجئے ۔ ([2])
کلامِ اعلیٰ حضرت کی کیا بات ہے
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سیدنا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کا نعتیہ کلام بہت پسند فرماتے ایک بار ارشاد فرمایا : ”نعت گو شعراء کو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حدائق بخشش بار بار پڑھنی چاہیے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نعتوں میں بارگاہ رسالت کا جو ادب و احترام ہمیں ملتا ہے ، جو احتیاطیں نظر آتی ہیں وہ دوسرے شاعروں کے ہاں بہت کم نظر آتی ہیں ۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مقامِ نبوت اور نبوی جلالتِ شان کے شناسا ہیں ۔اس شناسائی اور معرفت کے بغیر نعت لکھنی ممکن نہیں ہے ۔“([3])
غزالئ زماں کی اولیاءاللہ سے عقیدت
حضرت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےعقیدت
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حضرت سَیّدنا داتا گنج بخش سیّدعلی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے خصوصی عقیدت تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک بار حضرت داتاگنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے فیوض و برکات کاذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”خدا کى قسم! مىں نے حضرت داتا صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو لپ بھر بھر کے فىض دىتے ہوئے دىکھا ہے “ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عرس مبارک مىں پابندی و اہتمام سے شرکت فرماتے تھے ایک دفعہ عرس کے موقع پر داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزارِاَقدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کى قسم! مجھے جو کچھ ملا ہے ىہاں سے ملا ہے ۔([4])
آخر دم تک دامنِ اولیاسے وابستگی
غزالئ زماںرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کثرت سے اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری دیتے اور خوب فیضانِ اولیاء سے مستفیض ہوتے تھے یہاں تک کہ اپنی حیات مُستَعار کے آخرى رمضا ن المبارک مىں ىہ معمول ہوگىا تھا کہ ہر روز بعد نماز عصر اولىائے ملتان کے مزارات کى زىارت کے لىے تشرىف لے جاتے یہاں تک کہ لوگ حضرت حافظ جمال اللہ ملتانى قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکے دروازے پر اس انتظار مىں رہتے تھے کہ جب غزالى زماں رازى دوراں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشرىف لائىں گے تو ہم بھى ان کے ساتھ مزار پر حاضرى دىں گے اور دعا کروائىں گے ۔([5])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دعوتِ اسلامی دنیا بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے ،سنتوں کی خوشبو پھیلانے ،عِلْمِ دین کی شمعیں جلانے اور لوگوں کے دلوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع