30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لىے اس سے بہتر کوئى جگہ نہىں“ اور آپ حج پر روانہ ہوگئے ۔([1])
غزالئ زماںرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قول و فعل ہر طرح سے رضویت کا نمونہ تھے اور امام اہلسنت، اعلیٰحضرت کا امام اَحْمَدرضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنکی تعلیمات و نظریات پر کاربند تھے ۔اعلیٰحضرت کارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مخالفت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ہرگز گوارا نہ تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اعلیٰ حضرت اور مسلکِ اعلیٰحضرت سے عقیدت ان اقتباسات سے عیاں ہے چنانچہ
۹ جنورى ۱۹۸۰ء کو مجلسِ رضا کے زیرِ اہتمام منعقد ىوم رضا کے موقع پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان کرتے ہوئے اعلیٰحضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کچھ یوں کیا : ”اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کى مقدس شخصىت کوئى غىر معروف نہىں آپ دنىائے عِلْم کے آفتاب اور ماہتاب ہىں ۔آپ کے مخالفىن نے بھی آپ کے عِلمى وتحقىقى مقام کو تسلىم کىاہے ۔‘‘([2])
غزالئ زماں اور فتاوی رضویہ کا مقام
ایک دوسرے موقع پر فرمایا کہ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے کارناموں کا ہم احاطہ نہىں کرسکتے ، ان کى قابلىت، تقوىٰ، ذہانت کسى اىک پر بھى گفتگو کى جائے تو ختم نہ ہو، اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ دنىا کے تمام علوم پر حاوى تھے ، علوم عقلىہ ہوں ىا نقلىہ، اىسا معلوم ہوتا تھا کہ تمام علوم آپ کى بارگاہ مىں دست بستہ کھڑے ہىں، اعلى حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے علوم کى کوئى انتہا نہىں، آپ کى کتابوں کو پڑھاجائے اور بالخصوص فتاوىٰ رضوىہ کو ہمارے مدارس مىں پڑھاد ىاجائے تو اىسے اىسے عالم نکلىں گے کہ ان کا کوئى جواب نہىں ہوگا، کىونکہ خود فتاوىٰ رضوىہ کئى علوم کا خزانہ ہے ۔([3])
غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس قدر عقیدت رکھتے تھے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کسی بھی فتوىٰ پر کسى قسم کى تنقىد نہ فرماتے تھے چنانچہ
اىک عالم دین کا بیان ہے کہ میں حضرت علامہ سَیّد اَحْمَد سعید شاہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر تھا کہ اس دوران داڑھى کی شرعی حد کے حوالے سے اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ایک فتوی کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی ۔اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فتوی ہے کہ جو شخص داڑھى اىک مشت سے کم کرواتا ہے وہ فاسق معلن ہے اس کے پىچھے نماز مکروہ تحرىمى واجب الاعادہ ہے ۔ کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ آپ کے جامعہ کے فلاں مدرس اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس فتوی سے اختلاف رکھتے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لیٹے ہوئے تھے یہ سنتے ہی اٹھ بیٹھے اور جلال میں فرمانے لگے : اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے فتوے پر تنقىد ہم سے برداشت نہىں ہوگى، ىہ مدرسہ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے نظرىات ِ حقہ کا عَلم بردار ہے ہم کىا ہىں ؟ سب کچھ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ہىں، سب کچھ انہىں کا صدقہ ہے ، ہم انہىں کے رىزہ خوار ہىں، ہم انہىں کے نام لىوا ہىں، جو شخص اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے نظرىات و تحقىقاتِ شرىفہ سے متفق نہىں ہم اسے برداشت نہىں کرسکتے ، ہمارے مدرسہ مىں اىسے شخص کى کوئى گنجائش نہىں،مزىد فرماىا : ’’ہم سب اہلِ سنّت اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عظمتِ فکر کے مدح خواں ہىں اور جو علمائے اہل سنت مىدانِ تحقىقات مىں جولانىاں دکھاتے ىا فضائے تدقىق مىں پرواز کرتے ہىں، ىہ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہى کے فىوضات ہىں جس سے کوئى سنى عالم بے نىاز نہىں رہ سکتا۔([4])
اعلیٰحضرت کا مسلک مىرا مسلک ہے
غزالئ زماںرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے برادرِ اکبر، پىرو مرشِد حضرت علامہ سىد محمد خلىل شاہ کاظمى محدث امروہہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی۱۳۹۰ھ مطابق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع