30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
احساس ہوا کہ اَب تو سارى رات بھوکا ہی رہنا پڑے گا ۔یہی سوچتے ہوئے سامان لے کر نئے مکان مىں پہنچا اور اُسے اتارنا شروع کردیا کہ اچانک حضرت غزالى زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى رس گھولتى ہوئى آواز سنائى دى ۔ اللہ وساىا !مىں حىران و پرىشان سڑک کى طرف دوڑا۔کىا دىکھتا ہوں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بڑى تکلىف سے سائىکل رکشے سے اُترتے ہوئے فرماىا : مىں تمہارا کھانا لے کر آىا ہوں ۔میں نے عرض کىا : ’’حُضور آپ تکلىف نہ کرتے تو فرماىا : ’’مىاں تمہىں بھوک ہو ىا نہ ہوہمىں تو تمہارى بھوک کا خىال ہے ۔‘‘([1])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۱۳۵۷ھ بمطابق 1948ء مىں پہلی بار حج کے لیے گئے تو مدینہ شریف میں اُستاذالعلماء، عالمِ باعمل حضرت علامہ مولانا فىض محمدشاہ جمالى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیسے ملاقات ہوئی۔قبلہ جمالی شاہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : بعض علما فرماتے ہیں کہ بندہ جب حج بیت اللہ کے لىے جائے تو پہلے حج کرے اور پھر دربارِ رسالت مىں حاضرى دے جب کہ بعض علما فرماتے ہىں کہ پہلے در نبى صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرحاضر ہو بعد میں حج کرے اب آپ بتائىں کہ ہمىں کس پر عمل کرنا چاہىے ؟حضرت غزالىٔ زماںرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا کہ حضرت دونوں قول درست ہىں اور عاجزی کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر حج کے لىے آنے والا مجھ جىسا گنہگار و خطا کار ہو تو پہلے حج کرے بیت اللہ شرىف مىں حاضرى دے اپنے گناہ بخشوائے اور جب حج کى برکت سے اس کے گناہ دھل جائىں اور پاک و صاف ہوجائے تو پھر بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مىں حاضر ہو اور اگر آنے والا آپ سا متقى و پارسا ہو، آپ سا عاشق صادق اور مقبولِ بارگاہ رسالت ہو تو پہلے درِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حاضر ہو، سرکار سے اپنے درجات مىں اضافہ کروائے اور پھر حج کى سعادت حاصل کرے تاکہ حج کا لطف دوبالا ہوجائے ۔ىہ جواب سن کر حضرت قبلہ شاہ جمالى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر وجدانى کىفىت طارى ہوگئى اور آپ مُرغِ بسمل کى طرح تڑپنے لگے ۔([2])
ایک مرتبہ غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں کسی نے عرض کیا حُضور! حرمىن شرىفىن کى پہلى حاضرى کا کوئى واقعہ ىاد ہے ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسکراتے ہوئے فرماىا : سبھى کچھ ىاد ہے ، محبوبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کى نوازشات بھلا کب بھول سکتى ہىں، پھر فرماىا : پہلى حاضرى کے وقت باقاعدہ سڑکو ں پر بسوں کاروں کى سہولت نہىں تھی اور قافلے مکہ مُکَرَّمہ اور مدینہ مُنَوَّرہ کے درمىان پیدل بھی چلا کرتے تھے ۔اسى مقدس سفر مىں مىرے پاؤں مىں کانٹے چبھ گئے جو تکلىف دے رہے تھے ۔مىں انہىں نکالنے لگا تو اعلىٰ حضرت عظىم البرکت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کى سرزمىن کے کانٹوں سے محبت ىاد آگئى تو مىں نے وہ کانٹے اسى طرح رہنے دىئے ، اگرچہ کئى دن تک تکلىف رہى مگر طبىعت نے اس راہِ مقدس کے مبارک کانٹے جسم سے باہر نکال پھىکنے کى اجازت نہ دى ۔([3])
پھول کىا دىکھوں مىرى آنکھوں مىں دشتِ طىبہ کے خار پھرتے ہىں
بیٹے کى محبت قربان
غزالىٔ زماںرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اعزہ اقارب سے بہت محبت کرتے تھے اور صلہ رحمی کے جذبہ سے بھرپور تھے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سب سے مقدم تھی چنانچہ ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بڑے صاحبزادے حضرت علامہ سىد مظہر سعىد کاظمى دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکو شدىد حادثہ پىش آىا۔ان کی حالت بہت نازک تھی، زىادہ خون بہہ جانے کى وجہ سے حالت اور بھى تشوىش ناک صورت اختىار کر گئى ۔جبکہ اگلے ہی دن غزلئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مدینہ شریف روانگی تھی تو لخت جگر کى طرف دىکھا اور فرمایا : ” بىٹا! صبح گىارہ بجے مىرى فلائٹ ہے ، جہاں جارہا ہوں دعاؤں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع