30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صاحب کو کسى نے بتاىا کہ آج حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے دولت خانے پر پڑھائیں گے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے در دولت سے جامعہ تقریباً تىن کلو مىٹر کے فاصلے پر تھا۔انہوں نے رکشہ کىا اور گھر پہنچ گئے ۔وہاں کسى نے کہہ دىا کہ جامعہ مىں پڑھائىں گے ىہ رکشہ مىں بىٹھے جامعہ آگئے ، پھر پتا چلا کہ نہىں گھر پر ہی پڑھائىں گے ۔یہ رکشتہ مىں بىٹھے پھر گھر پہنچ گئے ۔یوں آنے جانے کی وجہ سے انہیں دىر ہوگئى اور دوسرے سبق ىعنى ترمذى شرىف مىں شامل نہ ہوسکے ۔درس کے بعد وہ غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت سراپا شفقت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : حضرت مىں چونکہ نابىنا ہوں مجھے آنے جانے مىں تکلىف بھى ہوئى اور بارہ روپے بھى خرچ ہوئے آپ فرمادىا کرىں کہ سبق کہاں ارشاد فرمائیں گے ۔یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کمال شفقت فرمائی اور اپنى جىب سے دس دس روپے کے چار نوٹ نکال کر حافظ صاحب کو دىئے اور تکلىف پر معذرت بھی کى اور فرمانے لگے کہ ىہ کراىہ مىرى طرف سے قبول کرلىں اور آئندہ جب بھى آپ آئىں کراىہ مجھ سے وصول کرلىا کرىں ۔ان ہى حافظ صاحب کے کان مىں اىک مرتبہ تکلىف ہوگئى تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کو اىک سو روپے بغرض علاج عطا فرمائے ۔([1])
غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ طلبہ اور ان کی تعلیم کا کس قدر خیال فرماتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں : ابا جی قبلہ جب بیماری کی شدت، ضعف اور گھٹنوں کے درد کے باعث جامعہ تشریف نہ لے جا سکتے تھے تو سبق کا ناغہ کرنے کی بجائے طلبہ کو گھربلوالیا کرتے تھے ، جب دل کے عارضے کے باعث ہسپتال میں داخل تھے تو فرمایا : اگر ڈاکٹر اجازت دیں تو طلبہ کو گھر کی طرح ہسپتال بلوا لیا جائے تاکہ ان کا حرج نہ ہو ۔ ([2])
ایک مرتبہ حضرت غزالی زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ عقیدت مندوں کی بزم میں شمع کی مثل اپنی روشنی بکھیر رہے تھے اتفاق سے کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے ایک شخص کی بدگوئی کی۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے سخت ناپسندی کا اظہار فرمایا، اچانک محفل کا انداز بدل گیا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تقریباً ایک گھنٹے تک قرآن و سنت کی روشنی میں غیبت کی مذمت اور اس کے دینی ومعاشرتی نقصانات پر بیان فرمایانیزاس سے بچنے کے مدنی پھولوں پر گفتگو فرمائی ۔مسلمان کو ہمیشہ اپنے دوسرے بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے ۔ وقتی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر دین کی حقیقی تعلیمات کو اجاگر کرنے کی یہ شاندار مثال تھی جو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے عمل سے پیش فرمائی ۔([3])
غیبت کے خلاف جنگ جاری رہے گی
ہم تو غیبت کریں گے نہ سنیں گے
اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ
غزالى زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہر مرىد اور شاگرد ىہى کہتا ہے کہ آپ کو سب سے زىادہ مىرے ساتھ محبت تھى ۔ہر امیر وغریب جس کو بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے شرف ملاقات ہوا وہ یہی کہتا ہے کہ سب سے زیادہ اچھے تعلقات میرے ساتھ تھے ۔مولانا اللہ وساىا سعىدى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بىان فرماتے ہىں : اىک مرتبہ غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مکان تبدىل کىا تو نئے مکان مىں جانے کى تىارىاں شروع ہوئىں بعض اہل خانہ پرانے گھر کا سامان اکٹھا کرتے رہے اور بعض نئے گھر مىں اسے ترتىب دىتے رہے اور مىں بىل گاڑى پر اُسے پہنچانے مىں مصروف رہا۔ان دنوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو گھٹنوں مىں شدىد درد کى شکاىت تھى ۔نماز عشاء کے قرىب جب میں آخری پھىرا لے کر جانے لگا تو غزالى زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا کہ تانگے کا انتظام کرکے بچوں کو واپس بھىج دىنا اور آپ وہىں سوجانا ہم اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّصبح آجائىں گے ۔اس مصروفىت مىں گھر والوں کو مىرا کھانا ىاد نہ رہا اور مىں نے بھى جان بوجھ کر نہ مانگا ۔ واپسى پر مجھے بھوک کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع