30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاتھ سے ہی اچھا لگتاہے ۔“ ([1])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
طلبہ کى اصلاح اور تربیت کاانداز
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر پہلو سے طلبہ کى تربیت و اصلاح فرماتے ۔اطاعتِ خداوندی اوراِتِّباعِ سُنّتِ نبوی کى ترغىب دىتے ۔اندازِ تدریس تو دل موہ لینے والا تھا ۔ دورانِ درسِ حدىث طلبہ سے عبارت پڑھواتے اور نہاىت نرم خوئى اور نرم مزاجى کا مظاہرہ فرماتے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ طلبہ کا بہت خىال رکھتے تھے ، اور ہمىشہ ان سے حسنِ سلوک سے پىش آتے اور تعلیمی لحاظ سے درپىش مشکلات مىں پورى توجہ کے ساتھ تشفى و تسلى کا سامان فرماتے ، چنانچہ
ایک طالب عِلْم پہلی مرتبہ غزالئ زماںرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے بخارى شرىف کى عبارت پڑھنے لگا، ہچکچاہٹ اور خوف کی وجہ سے کچھ غلطی ہو گئی، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نہ ڈانٹا اور نہ ہی جھڑکا بلکہ نہاىت شفقت اور نرمی سے فرمایا : بىٹے اىسے نہىں اور پھر خود عبارت پڑھی اور جو غلطی تھی اس کے بارے میں اچھی طرح سمجھایا۔([2])
حضرت غزالیٔ زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بیعت بھی فرمایا کرتے تھے ۔چونکہ مریدین کی تربیت کرنا پیرِ کامل کی ذمہ داری بھی ہے اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ وقتاً قوقتاً مریدین و متعلقین کی تربیت فرماتے رہتے تھے ایک بار فرمایا : ہم سب اس بات کا عہد کرىں کہ اگر کسى مىں نماز کى کوتاہى ہے تو اس کوتاہى کو دور کرىں، پانچ وقت کا نمازى ہونا ہر مسلمان کا فرض ہے ،مىں سب پىر بھائىوں سے کہتا ہوں کہ وہ پانچ وقت نماز کى پابندى کرىں اور روزے رکھىں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس فقىر نے اب تک اپنے مرشد ِکرىم کى برکت سے ہر سال پورے رمضان کے روزے رکھے اور ہر سال پورى تراوىح پڑھىں اور ہر سال قرآنِ کرىم کا درس دىا مىں اس قابل تو نہ تھا، ىہ مىری طاقت نہ تھى مىرے مرشد کرىم کا فىض تھا، بہرنوع مىرے پىر بھائى وہ ہىں جن کو اللہ تعالىٰ نے توفىق بخشى ہے کہ وہ پانچ وقت کے نمازى ہىں پورے مہىنے کے روزے رکھتے ہىں ، اگر خدا نخواستہ کسى بىمارى کى وجہ سے ىاشرعى عذر کى بنا پر نہىں رکھ سکتے تو اور دنوں مىں ادا کرىں ۔ہم سب عہد کرىں گے کہ نماز کی پابند ى کریں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہم پر جو فرائض عائد کىے ہىں وہ تمام فرائض بھی بجالائىں گے ۔([3])سبحان اللہ !اللہ والوں کی بھی کیا شان ہوتی ہے کہ ہر وقت اپنے مریدوں اورعام لوگوں کی اصلاح کا جذبہ لئے ہوتے ہیں اور اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ مریدین اور متعلقین کسی طرح بارگاہِ ربوبیت اور بارگاہِ رسالت میں سرخروئی سے سرشار ہو جائیں چنانچہ اسی ضمن میں ا میرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اس پر فتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل شریعت و طریقت کا جامع مجموعہ بنام”مدنی انعامات“عطافرمایا ہے چنانچہ مدنی انعام نمبر 2 میں نماز باجماعت کی اہمیت اور فکر پیدا کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : کیا آج آپ نے پانچوں نمازیں مسجد میں پہلی صف میں تکبیرِ اولی کے ساتھ باجماعت ادا فرمائیں ؟
اے کاش ! ہم پانچوں نماز یں باجماعت پہلی صف میں اداکرنے والے بن جائیں نمازِ باجماعت کی فضیلت کے تو کیا کہنے کہ تاجدارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے : نمازِ باجماعت تنہا پڑھنے سے ۲۷ درجے بڑھ کر ہے ۔([4])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ طلبہ کے حوالے سے بہت حساس تھے اسی وجہ سے ان پر بہت شفقت فرماتے تھے ۔اگر کبھی طبیعت شریف ٹھیک نہ ہوتی تو طلبہ کو گھر پر بلا لیتے اور پڑھاتے مگر سبق کی چھٹی گوارا نہ فرماتے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ایک شاگردحافظ حبیب اللہ صاحب نابىنا تھے ۔اىک دفعہ حافظ حبیب اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع